ضیا محی الدین: ایک عہد جو تمام ہوا

اس کا مفہوم آج تب سمجھ آیا جب ضیاء صاحب کی خبر سنی، عجب اداسی نے آن گھیرا جیسے بہار رت یک بیک خزاں میں بدل جائے۔ امجد صاحب گئے تو نظم گئی، محبت گئی، ایک ادیب گیا، مفکر گیا اور نظم سے پہلا رابطہ گیا۔ آہ ضیاء کیا گئے تحت الفظ یتیم ہو گیا۔ وہ طلسماتی لہجہ، وہ رعب، وہ شخصیت، وہ خوش اسلوبی، وہ خوش لباسی، وہ فن کی پرکاری، وہ آواز کا ردھم، وہ میر کا مرثیہ،

Read more

Blog on intolerance

چودہ اگست کی رات کو وفاقی دارالحکومت کے ایک سیکٹر معمولی سی ایک بحث اور اختلاف کے بعد گولیوں کی آوازیں سنائی دینا ہمارے اسی عمومی رویے کی عکاسی کرتاہے جس کی افزائش اور جس کو پروان چڑھانے میں سراسر ہمارا اپنا ہاتھ ہے۔ وہ رویہ جو بسوں کی بھیڑ سے لے کر گروسری اور بل جمع کرانے کی قطاروں میں بارہا نظر آتا ہے اور افسوس کا مقام جن کو تدارک کرنا تھا جس نوجوان نسل کو روشنی کی کرن بننا تھا وہی اس عدم برداشت کا موجب اور علمبردار دونوں ہے۔ کہیں شادی سے انکار پر گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے تو کہیں تیزاب پھینک کر چہرہ بگاڑا جاتا ہے۔ کہیں خودکشی کو گلے لگایا جاتا ہے تو کہیں عزتیں نیلام ہوتیں ہیں عزتیں جن کے رکھوالے ہم سب ہیں۔

Read more

مرد کی مردانگی۔۔۔ نئے معنی کی تلاش میں  

یاسر نے محبت کا اظہار کیا، رضامندی چاہی اور انگوٹھی پہنائی تو گویا قیامت آ گئی۔ ہمارے غیرت مند معاشرے کی لٹیا ڈبو دی۔ ہائے ہائے بے حیائی، ایک طوفان سا طوفان تھا۔ کہیں فتوے لگے تو کہیں میمز کی ایک لمبی لائن کا سامنا۔ مطلب محبت نہ ہوئی گناہ ہو گیا۔ واللہ، ایک خوبصورت جذبے کے اظہار پر ایسی قیامت جچتی نہیں مگر ایسے کیسے جناب مرد کو کہاں جچتا ہے ہمارے ایسے معاشرے میں محبت جتانا۔ عورت کو

Read more

ہمارے یہاں ریپ کو گناہ نہیں سمجھا جاتا

اسما نے ناچنے سے انکار کیا، مار کھائی، بال منڈوائے۔ کس کے ہاتھوں؟ اپنے شوہر اپنے محافظ کے ہاتھوں۔ کیس سامنے آیا تو عورت کو ماضی کی کچھ وڈیوز کی بنا پر ’’ناچنی‘‘ یا ’نچنیا‘ قرار دیا گیا، تھوڑا مزید شور اٹھا تو پولیس نے نہ چاہتے ہوئے سہی، ایف آئی آر درج کی۔ وہ بھی قریباً آٹھ دن کی خواری اور بے عزتی کے بعد۔ اس کے بعد کا کوئی اتا پتا نہیں۔ معمولی واقعہ ہے عورت ناچنی تھی، آگے بڑھتے ہیں۔

کراچی کی عروج پندرہ سال کی ہے۔ ایک درندہ گھر میں گھستا ہے اور زیادتی کا نشانہ بنا کر چلتا بنتا ہے، رپٹ معمول کے مطابق درج نہیں ہوتی اور جب ماں تڑپتی بلبلاتی دھاڑیں مارتی واویلا کرتی باہر نکلتی ہے تو اچانک سے ایک وڈیو وائرل ہوتی ہے۔ لیں جی! عورت دو نمبر نکلی۔ بد کردار اور فاحشہ۔

Read more

نوکری چاہیئے، شادی نہیں

شروع میں نوکری کو نکلے توتجربہ مانگا گیا۔ سولہ سالہ پڑھائی مع آٹھ سالہ تجربہ اور حد عمر چوبیس سال۔ مطلب واہ کیا کہنے ان کو سولہ سال کی عمر میں ایک پرفیکٹ ایلین درکار تھا اور رواج آج بھی کم و بیشتر یہی ہے متعدد نئی بیماریوں کے ساتھ۔ خیر جناب جب تجربہ آ گیا سند مل گئی تو فلاں ڈگری ڈھمکاں کورس، ایسا سی۔ وی ویسی سفارش، الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ مطلب نہ تم لوگ نوکری کرنے

Read more

کلیاں جو کھلنے سے پہلے مرجھا گیئں

‘پہلی ہی دہائی کا لبادہ جب عمر پہن سکی تھی آدھا تب کچے بدن کی شوخ مٹی کیسی بوندوں کے نم سے مہکی ’ وہ معض تین سال کی تھی فقط تین کی ہو پائی تھی کہ اسے سو سالہ حقیقت سے روشناس کرا دیا گیا، شاید اس کے ہاتھ میں ایک گڑیا بھی تھی ہاں ابھی تو وہ رنگوں اور پینسلوں سے کھیلنا سیکھ ہی رہی تھی، ابھی کچھ عرصہ قبل ہی تو اسنے مما، پاپا، آپی اور بھیا

Read more

غیرت زور سے آئی ہوئی ہے یا آپ چسکہ لینا چاہتے ہیں؟

کچھ دن پہلے فیس بک دیکھتے ہوئے اتفاقیہ ایک لطیفہ نما پوسٹ پر نظر پڑی تو دل میں غصے اور افسوس کے ملے جلے احساسات آئے کہ ہم بطور معاشرہ کس قدر پست ہو چکے ہیں کہ جو حقوق خدا کی طرف سے متعین کیئے گئے ہیں جن پر آزادی مذہب بھی دیتا ہے ہم مفت کے نام اور چسکے کے لئے بنا جانے سوچے اور سمجھے ان سے کھیل رہے ہیں نہ صرف ان سے بلکہ شاید ہزاروں زندگیوں

Read more

ڈپریشن کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

ہنستی مسکراتی پیلے رنگ کی ساڑھی میں ملبوس ایک خوبصورت اٹھارہ یا بیس سالہ لڑکی جب یہ لکھے کہ میں مر جاؤں تو بہار کے ان دنوں میں مجھے اسی ساڑھی میں یاد رکھنا اسی طرح مسکراتے ہوئے تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ وہ اتنی سی عمر میں کتنی صدیوں کا سفر طے کر چکی ہوگی کس کس شخص اور واقعے نے ملا کر اسے اس نہج تک پہنچایا ہوگا جہاں پر اتنی کم عمر میں اس کے ذہن

Read more