ضیا محی الدین: ایک عہد جو تمام ہوا
اس کا مفہوم آج تب سمجھ آیا جب ضیاء صاحب کی خبر سنی، عجب اداسی نے آن گھیرا جیسے بہار رت یک بیک خزاں میں بدل جائے۔ امجد صاحب گئے تو نظم گئی، محبت گئی، ایک ادیب گیا، مفکر گیا اور نظم سے پہلا رابطہ گیا۔ آہ ضیاء کیا گئے تحت الفظ یتیم ہو گیا۔ وہ طلسماتی لہجہ، وہ رعب، وہ شخصیت، وہ خوش اسلوبی، وہ خوش لباسی، وہ فن کی پرکاری، وہ آواز کا ردھم، وہ میر کا مرثیہ،
Read more



