شہرت نہیں اتفاق کی ضرورت ہے

پچھلے کئی دہائیوں سے پختون قوم پر جو گزر گیا اور جو ابھی شروع ہے سب کو پتہ ہیں جس پر کچھ دن پہلے مشاہد حسین سید نے سینٹ میں تفصیلاً بیان کی اور کہا کہ ہم نے 43 سال سے جو غلطیاں کی ہیں ہم ابھی بھی اس کو دہرا رہے ہیں۔ ہمیں سی آئی اے نے دو بلین ڈالرز دیے اور سعودی عرب نے 2 بیلن ڈالرز دیے اور ایک بلین ڈالرز باقی ملکوں نے کہ آپ پختون سرزمین پر جہاد کے نام پر جنگ شروع کرے اور اس کو پانچواں صوبہ بنائے اور اس ڈالرز کے بدولت ہم نے دو لاکھ افغان مجاہدین اور بیس ہزار عرب مجاہدین بنائے جس میں اسامہ اور الظواہری بھی موجود تھے۔
جس کے نتیجے میں تقریباً ستر ہزار پختون قوم کے لوگوں کو شہید کیا گیا اور لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیے گئے جس میں اربوں روپے کی نقصان ہوا ہزاروں افراد لاپتہ اور ٹارگٹ ہوئے۔ اسی وقت میں ایک تحریک بن گئی جو سیاست سے ہٹ کر سارے پختون قوم کو اکٹھے کرنے کے لیے کوشش کی اور جاری کھیل کو بے نقاب کیا۔ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا صرف سیاسی یا کسی معزز خاندان کا فرض نہیں بنتا بلکہ یہاں رہنے والے ہر بندے کا فرض بنتا ہے کہ اپنے حقوق اور بھلائی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔
اس لیے ریاست ایک منظم طریقے سے آپس میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ پچھلے دو دہائی کی طرح ایک بار پھر پختون خوا کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس میں ایک بار پھر پختون قوم کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے پشاور پولیس لائن میں سینکڑوں افراد شہید کیے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہاں جنازے اٹھ رہے تھے اور پنجاب میں سیاست دان اور میڈیا اس غم میں تھے کہ اب انتخابات ہوں گے یا نہیں اور کہا کہ یہ انتخابات کو روکنے کے لیے ایک بہانا تھا جو دشمن ملک نے کیا یہ تو ہر کسی کو پتہ ہے جو کل انور مقصود نے اپنے بیان میں کہا کہ الیکشن کے بارے میں نہ الیکشن کمیشن کو پتہ ہے اور نہ سیاست دان کو اور نہ عدالت کو صرف فوج کو پتہ ہے کہ کب کرنا ہے اور کب نہیں تو کیوں یہاں کے عوام کو گمراہ کر کے خون بہایا جا رہا ہے۔
اور انور مقصود نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں پٹھان فلم نے سارے ریکارڈ توڑ دیے یعنی تاریخی لحاظ سے اور یہاں پاکستان میں ایف آئی آر پر ایف آئی آر درج ہوتا ہے۔ علی وزیر ساڑھے دو سال سے بے گناہ جیل میں بند ہے سارے ایف آئی آر میں ضمانت ہو چکا ہے اور آخری ضمانت میں پختون خوا کی حکومت نے رہائی کی درخواست بھی سندھ حکومت کو بھیجی ہے لیکن علی وزیر ایک جمہوری پارٹی کی حکومت میں قید ہے اور ساری حکومتی پارٹیاں اس کی تائید کرتی ہیں بلکہ مجبوری سمجھا جائے صرف برائے نام حکومت سنبھالی ہے۔
جیسا کہ کل انور مقصود نے کہا کہ یہاں 75 سالوں میں 74 سال فوج نے حکومت کی ہے۔ اسی طرح اب پاکستان سپر لیگ شروع ہونے والا ہے جو سارے پاکستان میں کھیلا جائے گا لیکن پشاور اور کوئٹہ میں میچ نہیں ہوں گے یہ تو خود دنیا کے سامنے پختون قوم کو دہشت گرد ثابت کرنا ہے۔ آب سارے پختون خوا میں اس نئی پالیسی کے خلاف مزاحمت جاری ہے اس پالیسی کی راستہ روکنے کے لیے ہم سب کو ایک ہونا ہو گا، چاہے سیاسی ہو، سماجی اور جس طبقہ اور پارٹی سے تعلق رکھتے ہو۔ ورنہ کسی کو معاف نہیں کیا جاتا خواہ مولوی ہو سیاسی کارکن ہو، سٹوڈنٹ ہو اور ہر ذی شعور فرد کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے

