بیٹ اینڈ سوئچ فراڈ – دکھاؤ کچھ بیچو کچھ
اگر کوئی چارہ ڈال کر گاہک کو راغب کرے اور پھر کچھ اور بیچ دے تو اس کو بیٹ اینڈ سوئچ فراڈ کہتے ہیں جو کہ قانون کے لحاظ سے ایک جرم ہے۔ نومبر کے آخری ہفتے میں تھینکس گیونگ کی چھٹیاں ہوتی ہیں۔ ہر سال میں اس ہفتے چھٹی لیتی ہوں اور میرے پارٹنر ڈاکٹر فیم کرسمس کی چھٹیاں لیتے ہیں۔ چونکہ شہر میں صرف ہم دو ہی اینڈوکرنالوجسٹ ہیں اس لیے ایک کا یہاں ہونا ضروری ہے۔ پچھلے نومبر میں نے سینٹافے، نیو میکسیکو گھومنے جانے کا پروگرام بنایا جو کہ نارمن، اوکلاہوما سے آٹھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے۔
چھٹیاں بہت اچھی گزریں۔ سینٹا فے بہت خوبصورت تھا اور وہاں ایسا ہی محسوس ہوا جیسے ہم یورپ کے اسپین یا جنوبی امریکہ میں گھوم رہے ہیں۔ گھر واپس آنے سے پہلے آخری دن مجھے ایک بیٹ اینڈ سوئچ فراڈ کا سامنا کرنا پڑا۔ میں آج کا مضمون لکھنے کے لیے اس کے حتمی نتیجے کا انتظار کر رہی تھی جو کہ اب ہو چکا ہے۔ اس قضیے میں کچھ سبق ہیں۔
سینٹا فے جانے کے سفر میں میری کچھ دوستوں نے مشورہ دیا کہ وہاں فیشل اور سپا سروسز اچھی ہیں اور مجھے وہاں جانا چاہیے۔ یہ مجھے بہت مہنگے لگ رہے تھے لیکن اور دوسری دوستوں کو جاتے دیکھ کر اور ان کے بار بار پوچھنے پر میں نے سوچا کہ چلو روز روز تو ہم ویکیشن پر نہیں جاتے، یہاں کچھ خرچہ کر لیا جائے۔ اکیس نومبر کی شام ہم لوگ اپنے ہوٹل کے کمرے سے نکلے اور سیاحوں کے مرکز کے پاس بنے ایک فیشل اور اسپا کے سینٹر میں گئے۔ وہاں ایک جوان یورپی آدمی نے ہمیں فوراً اندر بلایا اور پوچھا کہ کیا ہم اس کی جلد کی حفاظت کی مصنوعات کے مفت نمونے چیک کریں گے؟ ہاں ضرور کر لیں گے۔ میں نے حامی بھر لی۔
آپ کا اسکن کیئر کا کیا روٹین ہے؟
پونڈز کریم صبح اور شام! میں نے اس کو جواب دیا۔
یہ آپ کا جلد کی کیئر کا اچھا پلان نہیں ہے، اس نے کہا اور اپنی پراڈکٹس دکھانا شروع کیں۔ یہ دیکھیں، یہ آنکھوں کے نیچے جو حلقے ہو جاتے ہیں، اس کے لیے ہے اور یہ جلد کو ٹائٹ اور جوان رکھنے کے لیے ہے اور یہ جلد کو صاف کرنے کے لیے ہے۔ یہ آنکھوں والی کریم ویسے تو بارہ سو کی ہے لیکن آپ کو چھ سو ڈالر میں دے دوں گا۔ اور یہ کولیجن چار سو کا ہے لیکن آپ کو دو سو ڈالر میں دے دوں گا۔ نہیں، یہ پراڈکٹس بہت مہنگی ہیں، ہمیں صرف آپ کے فیشل پیکج دیکھنے ہیں۔ میں نے اس کو کہا۔
اس نے کیش رجسٹر کی لمبی رسید نکالی اور مجھے دکھانے لگا کہ ہر روز یہاں سیاح کتنے ہزاروں ڈالروں کی جلد کی حفاظت کی مصنوعات خریدتے ہیں۔ اس نے کہا کہ آپ کو میں یہ تینوں کریمیں ساڑھے چھ سو ڈالر میں دے دوں گا اور اس پمفلٹ میں سے کوئی بھی دو فیشل پسند کر لیں، وہ میں فری میں آپ کو دے دوں گا۔ ان کے واؤچر بنا دوں گا۔ اچھا! میں نے سوچا کہ اتنے مہنگے دو فیشل پیکج ان ساری مہنگی کریموں کے ساتھ ساڑھے چھ سو ڈالر میں مل رہے ہیں، یہ ایک اچھی ڈیل معلوم ہوتی ہے، تو میں نے سائن اپ کر لیا۔ ہم کل صبح ہوٹل سے چیک آؤٹ کر کے نکلیں گے۔ ان فیشل میں کتنا وقت لگے گا؟ دو گھنٹے! اس نے کہا۔ میں نے اسے اپنا ماسٹر کارڈ دیا جس سے ٹیکس ملا کر سات سو چار ڈالر کا بل اس نے چارج کیا۔ واؤچر کہاں ہیں؟ میں نے پوچھا۔ وہ میں نے کمپیوٹر میں ڈال دیے ہیں، آپ کل آ جائیں تو ہم فیشل کر دیں گے۔
اگلے دن ہوٹل سے چیک آؤٹ کر کے ہم لوگ دوبارہ سینٹا فے اسپا سینٹر گئے۔ وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے مزید اسکن کیئر پراڈکٹس مجھے دکھانی شروع کیں۔ ایک بیٹری سے چلنے والے آلے کو انہوں نے میرے چہرے پر کریم لگا کر گھمانا شروع کیا اور کہا کہ یہ ناسا کی ٹیکنالوجی ہے، اسے روز استعمال کریں تو آپ کی جلد زیادہ دیر جوان رہے گی۔ یہ تیرہ ہزار کا ہے لیکن ہم آپ کو ڈھائی ہزار ڈالر میں دے دیں گے۔ جی نہیں، مجھے اور کچھ نہیں خریدنا ہے اور ہم ذرا جلدی میں ہیں کیونکہ ہمیں لمبی ڈرائیو کر کے گھر واپس پہنچنا ہے۔ اس لیے آپ لوگ فیشل کر دیں۔ اس آدمی کا کچھ موڈ خراب سا ہو گیا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے، آپ اندر اس والے کمرے میں چلی جائیں۔
اندر پہنچ کر میں نے وہاں موجود لڑکی کو پمفلٹ دکھایا اور کہا کہ میں نے ان دو فیشل کے لیے سائن اپ کیا ہے۔ اس سینٹر میں سب کام کرنے والے نوجوان اور خوبصورت لوگ تھے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا تھا کہ جیسے یہ لوگ انہی پراڈکٹس کی بدولت خوبصورت بن گئے ہیں اور ہم بھی بن سکتے ہیں۔ اس خوبصورت لڑکی نے کہا کہ یہ ایک غلط فہمی ہے، میں ان پروسیجرز کے لیے کوالیفائڈ نہیں ہوں! تو کوئی بات نہیں۔ آپ لوگ یہ سودا کینسل کر دیں، اپنی کریمیں واپس لے لیں اور پیسے کریڈٹ کارڈ میں واپس ڈال دیں، میں نے اس سے کہا۔ لیکن وہ پیسے تو آپ نے کریموں کے لیے دیے تھے، فیشل کے لیے نہیں۔ اس نے کہا۔
میں نے اس سے کہا کہ آپ یہاں بیٹھ جائیں۔ وہ بیٹھ گئی۔ میں نے اس سے کہا کہ ہم نے آپ کی پراڈکٹس اور سروس دونوں کا پیکج ساتھ میں خریدا تھا۔ اگر یہ سروس ساتھ میں شامل نہ کی جاتی تو میں یہ کریمیں نہ خریدتی۔ ہم امریکہ میں رہتے ہیں اور یہ ایک قانونی سماج ہے۔ یہاں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ میں ان چارجز کے خلاف شکایت جمع کراؤں گی۔
وہ باہر چلی گئی۔ تین چار لوگوں کے آپس میں زور سے بات کرنے کی آوازیں آئیں پھر وہ لوگ واپس آئے اور کہنے لگے کہ ٹھیک ہے یہ دوسری لیڈی ایک فیشل کریں گی۔ لیکن ان دو فیشل کی بات ہوئی تھی، میں نے پمفلٹ سامنے کیا جس میں دائرے بنے ہوئے تھے۔ وہ آپ کو پہلے بتانا چاہیے تھا جب آپ واپس آئیں۔ اب ایک ہی ہو سکتا ہے۔ اس وقت میں یہ بات سمجھ گئی کہ یہ لوگ ٹال رہے ہیں اور ان کا اس سروس کا ارادہ ہی نہیں تھا۔ یہ صرف ان مہنگی پراڈکٹس کو بیچنے کی ایک چال تھی۔ ایک گھنٹہ ویسے ہی ضائع ہو چکا تھا۔ میں نے کہا کہ رہنے دیں، ہمیں دیر ہو رہی ہے، ہم نکلیں گے۔
گھر واپس پہنچ کر میں نے اپنی کریڈیٹ کارڈ کی کسٹمر سروس کو فون کر کے یہ قصہ بتایا اور پھر اس واقعے سے متعلق تین صفحے کا تفصیلی خط لکھا اور اپنے کریڈٹ کارڈ کے فراڈ ڈپارٹمنٹ کو بھیجا۔ ان کو رسید کی فوٹو کاپی اور اس پمفلٹ کی فوٹو کاپی بھی ساتھ میں بھیجی جو سانٹا فے اسپا سینٹر نے مجھے دیے تھے۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ یہ کریمیں میرے پاس ہیں جن کو میں نے نہیں کھولا ہے۔ میں یہ واپس بھیجنے کے لیے تیار ہوں۔
دنیا میں بہت سارے اچھے لوگ رہتے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر زبان سے کیے ہوئے معاہدے پر شک کیا جائے لیکن اگر کوئی ہمیں دھوکا دے یا ہمارا نقصان کرے تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایسے افراد سے کیسے نبٹنا ہے؟ دو مہینے کے بعد مجھے کریڈٹ کارڈ کے فراڈ ڈپارٹمنٹ نے خط بھیجا کہ یہ چارجز ہٹا دیے گئے ہیں اور سات سو چار ڈالر واپس اکاؤنٹ میں ڈال دیے گئے ہیں۔ اچھا ہوا کہ کیش نہیں دیا تھا ورنہ اس کو نکلوانا ذرا زیادہ مشکل ہوتا۔ سانٹا فے نیو میکسیکو کے اسپا کے سینٹر کے لالچ اور دھوکے کی کوشش کی وجہ سے مجھے آخر میں یہ کریمیں مفت میں مل گئیں۔
ختم شد۔



