افغانستان: پاکستانی حکمت عملی
تین امور پر پیشرفت افغانستان کی صورتحال پر پاکستانی حکمت عملی کو بہت واضح طور پر بیان کر رہی ہے۔ ماسکو میں روس کی زیر قیادت افغانستان کے امور پر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، قریبی ممالک کو مدعو کیا گیا۔ اس کانفرنس میں خیال کیا جا رہا تھا کہ پاکستان بھی شامل ہو گا مگر پاکستان نے شمولیت سے انکار کر دیا اور اس کے لیے جواز یہ دیا کہ پاکستان اس سے بہتر انداز میں افغانستان میں سلامتی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے میں مشغول ہے۔
پاکستان کے گزشتہ کچھ عرصے سے روس سے تعلقات میں بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور ان حالات میں پاکستان کا انتہائی غیر معمولی اقدام ہے اس اقدام کی وجوہات میں شامل ہیں کہ پاکستان میں اس امر کو درست نہیں سمجھتا ہے کہ افغانستان کے معاملات میں بھارت کا کوئی کردار ہونا چاہیے۔ بحث برائے بحث کا رویہ اختیار کر لیا جائے تو اور بات ہے ورنہ اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں ہے کہ جب بھارت کو گزشتہ اشرف غنی اور حمد کرزئی حکومتوں کے دوران موقع میسر آیا تو اس نے پاکستان کے لئے امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے سے لے کر افغانستان اور پاکستان کے مابین دریاؤں کے مسائل پر تصادم پیدا کرنے کی کوشش کی، تعلقات میں زہر گھولتا رہا۔
اب اس ماسکو کانفرنس میں بھارت کو بھی مدعو کیا گیا تھا اس کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دول آ رہا تھا۔ اس کے بعد پاکستان کے لئے یہ ایک مناسب اقدام تھا کہ وہ اس کانفرنس میں عدم شرکت کا فیصلہ کرے تاکہ یہ واضح طور پر پیغام دیا جا سکے کہ ہمیں افغانستان میں بھارتی کردار قابل قبول نہیں ہے۔ افغان طالبان کو تو ویسے ہی اس کانفرنس میں شرکت کرنے کی دعوت نہیں دی گئی تھی اور پاکستان کی عدم موجودگی کے بعد اس کانفرنس کی حیثیت کے آگے سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
پھر یہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ امریکی روس کی زیر قیادت کسی ایسے اقدام کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں اور وہ اس میں پاکستان کی نمائندگی کو کیسے دیکھتا ہے ہمیں اس معاملے کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ہمارا مفاد کس ملک کے ساتھ معاملات کو کس حد تک آگے بڑھانے میں ہے، امریکہ ہو یا روس سب برابر ہیں۔ پاکستان کی دگرگوں معاشی صورتحال ویسے بھی ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم امریکی حمایت کو اپنے لئے موجودہ سطح سے بھی کم کردیں۔
اس وقت پاکستان کے آئی ایم ایف سے مذاکرات چل رہے ہیں اور ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے امریکی حمایت ہمیں درکار ہے اس کے ساتھ ساتھ ہم روس سے پیٹرول لینا چاہتے ہیں جو ارزاں نرخوں پر ہو گا۔ سردست امریکہ کو اس پر اعتراض بھی نہیں ہے اگر ہم روس سے مزید اس کانفرنس کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھاتے تو امریکہ کی جانب سے کسی سخت اقدام کا امکان بڑھ جاتا جو ہماری معاشی صورتحال میں کسی طور بھی ہمارے لیے قابل برداشت نہ ہوتا۔
ویسے بھی موجودہ حالات کے باوجود پاکستان اتنی صلاحیت اور اہمیت رکھتا ہے کہ وہ افغانستان کے معاملات میں اس سے زیادہ بہتر کردار ادا کر سکیں۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کی تازہ لہر نے اس کردار کی اہمیت کو مزید دو چند کر دیا ہے۔ جب خیبر پختونخوا میں پولیس کی شہادتیں دوبارہ سے شروع ہوئی تھی تو اس وقت ہی تحریر کیا تھا اس پر سخت حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے پھر سانحہ پشاور پولیس لائنز ہو گیا۔ پاکستان کا اعلی سطحی وفد افغان طالبان حکام سے ان مسائل پر گفتگو کرنے کے لئے کابل جا رہا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے دو ٹوک گفتگو اور واضح رویہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ افغان طالبان نے پاکستان کے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لیے سہولت کاری کا بیان دیا ہے جو کہ ان کے ان پر اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے جبکہ اس عزم کو بھی دوہرایا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے مگر بدقسمتی سے اب تک وہ اپنے اس عزم میں ناکام ہی رہے ہیں۔
پھر وہاں کے سیاسی تجزیہ کاروں کی گفتگو بھی واضح کر رہی ہے کہ وہاں پاکستان کے لیے سب اچھا نہیں ہے کیونکہ وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کو پاکستان نے ہی تیار کیا تھا لہذا افغانستان اس حوالے سے کیا کر سکتا ہے؟
ان تمام آوازوں کا بہت باریک بینی سے جائزہ لینا درکار ہے اور یہ بات واضح رہنا چاہیے کہ ان معاملات میں بھارت کا کوئی کردار نہ ہو کیونکہ وہ یہ سب صرف پاکستان کی دشمنی میں کرتا ہے۔ اس وقت پاکستان ایران اور افغانستان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سلامتی کے بہت سارے امور پر کوشاں ہیں۔ ایسی کوششوں کی بھنک اس دن بھی میرے کانوں میں پڑی جب ایرانی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر تقریب میں شرکت کا لاہور میں موقع ملا۔ اس تقریب میں ایرانی سفارتکار بہت پر امید نظر آئے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری آ رہی ہے اور دونوں ممالک کے حکام ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کیا جائے۔ ورنہ ہم سب جانتے ہیں کہ دہشتگردی دوبارہ پھوٹ پڑی تو سب کے ہاتھ جلیں گے۔

