امریکا کی سازش سے پولیس کانسٹیبل کی سازش تک


آپ کو اچھی طرح یاد ہو گا کہ کراچی کی مشہور جماعت کے قائد سات سمندر پار سے کچھ کہہ دیتے تھے اور پھر یہاں موجود ان کے نمائندے اپنے قائد کے بیان کی بہت نفیس الفاظ میں تشریح کرتے تھے۔ الفاظ کا چناؤ اتنا خوبصورت ہوتا کہ دماغ بے شک اسے حقیقت نہ مانتا ہو مگر دل اس بات کو سچا ماننے پر مجبور ہوجاتا تھا۔

اس بیان کی حقیقت ویسے کچھ نہیں ہوتی تھی مگر ماننی پڑتی تھی اسی طرح عمران خان صاحب کے بہت ساری بیان بازیوں کی بھی حقیقت تسلیم کروانے کے لئے تحریک انصاف کی قائدین کو کافی محنت کرنی پڑتی ہے۔ عمران خان اپنی مرضی اور مزاج کے مالک ہیں، وہ جو چاہے بول دیں باقی قیادت جانیں اور کارکنان کہ تشریح کیسے ہو؟

اب تازہ تازہ خان صاحب کا بیان ہے کہ ان کو آصف علی زرداری نے قتل کرنے کا پلان بنایا ہے۔ عمران خان کے سابقہ بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے تو انھوں نے کہا تھا کہ انھیں 4 لوگوں نے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور میں نے ایک ویڈیو میں ان لوگوں کا نام بتا دیا ہے۔

اب دوبارہ 5 لوگوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ آیا اگر یہ بیان ایک سیاسی بیان ہے تو بھی بہت خطرناک ہے اور اگر اس میں حقیقت ہے تو اس بات کو دنیا کے سامنے لایا جائے ثبوت کے ساتھ۔

آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ سال رجیم چینج کے مشہور بیانیے کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ ان کی حکومت امریکا نے گرائی ہے اور ایک کاغذ بھی لہرایا، پھر تھوڑے عرصے بعد انھوں نے بتایا کہ جنرل باجوہ نے گرائی، پھر انھوں نے بتایا کہ حسین حقانی نے گرائی، اب گزشتہ دنوں انھوں نے بتایا کہ ایک میڈیا چینل کے مالک اور موجودہ نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے گرائی، اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں کہ عمران خان یہ کہے گے لاہور کے فلاں تھانے کے ہیڈ کانسٹیبل نے میری حکومت گرائی۔

عمران خان کو لاکھوں لوگ پسند کرتے ہیں اور فالو کرتے ہیں، لیکن اس پسند کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کی ہر بات درست اور سچی ہو۔ یقیناً سیاست اور بالخصوص پاکستانی سیاست منافقت کے اعلی درجے پر فائز ہے۔

کیونکہ غور کریں کہ جس زرداری کو شہباز شریف نے سڑکوں پر گھسیٹنا تھا انھی سے آج کل بڑے بڑے مشورے لئے جاتے ہیں اور اسی طرح جو شخص پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو تھا یعنی پرویز الہی وہ آج عمران خان کے نور نظر بن بیٹھے ہیں۔

یہ بیان جو عمران خان نے دیا وہ صرف بیان نہیں بلکہ بہت بڑا الزام بھی ہے اور ایسے الزام کا اگر ثبوت ہے تو وہ ساتھ پیش کیا جائے ورنہ ایسا بیان خطرناک ثابت ہو گا۔ ویسے بھی پاکستان جس دور سے گزر رہا ہے وہاں اب متشدد سیاست کی ذرا سی بھی گنجائش نہیں ہے۔

یہ بیان ایک ایسا شعلہ ہے جس سے کوئی ملک دشمن قوت فائدہ اٹھا سکتی ہے اور نقصان صرف دو شخصیات کا نہیں ہو گا بلکہ پاکستان کا ہو گا۔ اس سے نہ صرف آصف زرداری صاحب کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے بلکہ ان کے خاندان کے دیگر افراد کی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

قومی سطح پر سیاست کرنے والوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کا ہر الفاظ آپ کے چاہنے والے سنتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کی جستجو بھی کرتے ہیں۔

آپ کی باتیں ان کے لئے تربیت کا درجہ رکھتی ہے اگر آپ ابھی بھی اپنے فالوؤر کو جارحانہ سیاست سکھائیں گے تو یہ ملک کے لئے اچھا نہیں ہے، سیاست میں جارحانہ مزاج ہمیشہ نہیں جچتا، جب ایک ہی ملک میں سیاست کرنی تو ہے تو مفاہمت کی سیاست ایک اچھا آپشن ہے تاکہ ایک اچھے ماحول میں سیاست ہو سکیں جو ملک کے لئے فائدے مند ثابت ہو۔

Facebook Comments HS