پاکستانی معیشت زبوں حالی کا شکار
پاکستان کی معاشی حالت ابتر ہو چکی ہے اس وقت ملکی خزانے میں صرف 2.9 ارب ڈالرز رہ گئے ہیں پاکستانی کرنسی ایتھوپیا کی کرنسی سے بھی نیچے گر چکی ہے مہنگائی کا طوفان ہے جس کی وجہ سے ہر خاص و عام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ موجودہ حکومت سابقہ حکومت پر الزام عائد کر رہی ہے کہ انھوں نے آئی ایم ایف کے معاہدے کی پاسداری نہیں کی اس لیے ہمیں پیٹرول اور دیگر اشیاء پر قیمتیں بڑھانی پڑ رہی ہیں اور نئے ٹیکسز لگانے پڑ رہے ہیں اور اب 170 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائے جائے گے اس وقت پاکستان میں مہنگائی کی شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو پورے خطے میں سب سے زیادہ ہے۔
ہمارے ملک میں جتنی حکومتیں آئی ہیں ان سب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی اور روپے کی قدر گرنے کی وجہ کی آئی ایم ایف کے قرضے ہیں اس وقت ایک امریکی ڈالر پاکستانی 270 روپے کے برابر ہے اور تیل کی قیمت 250 روپے فی لیٹر ہو چکی ہے کہا جا رہا ہے کہ اب روپے کی قدر مزید گرے گی اور ایک ڈالر 300 روپے تک پہنچے گا۔ ہماری تمام حکومتیں ہم سے مہنگائی کے حوالے سے آدھا سچ کہہ رہی ہیں کہ قرضہ کی وجہ سے مہنگائی بڑ رہی ہے باقی آدھا سچ ہم سے چھپا رہیں ہیں۔ پاکستان کئی دہائیوں سے ایک مرض میں مبتلا ہے اور وہ مرض ہے اسمگلنگ۔
اسمگلنگ کا مطلب ہے سامان کی درآمد اور برآمد حکومتی قوانین کے خلاف کرنا یا یوں کہہ لے کے درآمدات اور برآمدات پر ٹیکس نہ دینا یا ممنوع اشیاء کی ترسیل کرنا ہے ہمارے ملک کی گندم اور یوریا افغانستان اسمگل ہوتی تھی، اب تقریباً پچھلے دو دہائیوں سے ڈالر سمیت ہر سامان اسمگل ہو رہا ہے عالمی جریدے بلوم برگ کے مطابق پاکستان سے یومیہ 50 لاکھ ڈالر افغانستان اسمگل ہو رہا ہے اور افغانستان نے پاکستانی کرنسی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسمگل ہونے والی اشیاء میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، جیسے آٹا، چینی، چاول، گوشت، ادویات، ٹیکسٹائل گارمنٹس وغیرہ شامل ہیں۔ یعنی صرف خام مال ہی نہیں تیار مال بھی غیر قانونی طریقے سے بھیجا جا رہا ہے۔
ہم قانونی طریقے سے بھی تجارت کرتے ہیں جیسے کہ ہمارے ملک کی کپاس جو ہم چائنا، بنگلہ دیش، امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک کو برآمد کرتے ہیں اسی طرح چمڑا بھی برآمد کیا جاتا ہے حالانکہ 2021 میں پاکستان کی کپاس کی فصل کو بہت نقصان پہنچا اور تقریباً 30 سال میں پہلی بار پیداوار کم رہی اس کے باوجود پاکستان نے کپاس کی برآمدات کی مد میں 24 % آمدنی چائنا سے، 19.2 %بنگلہ دیش اور امریکہ سے آمدنی 5.46 % حاصل کی۔ دوسرے نمبر پر برآمدات چاول کی رہی۔ چاول اتنا برآمد کیا گیا اب ملک میں چاول کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور اس وقت چاول 200 روپے سے لے کر 450 روپے فی کلو تک دستیاب ہے۔
یہ تو وہ پیسہ ہے جو ہم قانونی طریقے سے کما رہے ہیں۔ اس برآمدات کی وجہ سے دوسرے ملکوں کو بھی فائدہ ہو رہا ہے جس میں سب سے زیادہ فائدہ بنگلہ دیش کو ہو رہا ہے ان کی خواتین کی ایک بڑی تعداد اس وقت ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ لیکن ہم یہ فائدہ نہیں اٹھا پا رہے ہیں۔ ہمارا قومی لباس خواتین کے لیے قمیض، شلوار اور دوپٹہ ہے۔ ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری خواتین کے لیے کپڑے بناتی تھی تووہ اس بات کا خیال رکھتی تھی کہ دوپٹے بڑے بنائے اور مناسب داموں میں عوام کو دستیاب بھی ہوں۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوتا اور اب ایسا کپڑا برانڈ کے نام پر پڑوسی ممالک میں بھیج دیا جاتا ہے۔
اس وقت ملک کی 80 فیصد تجارت غیرقانونی طریقے سے ہو رہی ہیں جس نے پاکستان کی معیشت کو مکمل طور پر برباد کر دیا ہے اور ٹیکس کلیکشن نہیں ہوری ہے اور ملکی خزانہ بالکل خالی ہو گیا ہے۔ معاشی ماہرین روز مطالبہ کر رہے ہیں کہ ڈالر کی غیر قانونی ترسیل بند کی جائے بارڈرز سے جو ڈالر باہر جا رہا ہے اسے روکا جائے اسی طرح ایک رپورٹ کے مطابق ڈالر کی قدر بڑھنے کی وجہ مصنوعی ہے یعنی ڈالر خرید کر ذخیرہ کیا جا رہا ہے اور باہر بھیجا جا رہا ہے اور قلت پیدا کی جا رہی ہے تاکہ ڈالر مزید مہنگا ہو۔
اس ساری خرابی کی وجہ کیا ہے ہمیں یہ سوچنا چاہیے۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے تعلقات ہمارے تمام پڑوسیوں سے خراب ہیں ہم عوام کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ تاجر کو چاہیے تجارت کے لیے نئی مارکیٹ جو اسے غیرقانونی طریقے سے مل رہی ہے اس لیے وہ تو پیسہ کما رہا ہے لیکن ریاست کنگال ہو گئی ہے اس بلیک مارکیٹ کی وجہ سے مزدور کو تنخواہ کم مل رہی ہے اس لیے وہ آگے والے کی جیب کتر رہا ہے یا خودکشی کر رہا ہے۔ غور کیا جائے اس وقت پاکستان کی مارکیٹ مکمل طور پر بلیک مارکیٹ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس لیے ملکی معیشت ختم ہونے کے دہانے پر کھڑی ہے اور ہمیں ہر وقت قرضوں کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔
اس مسئلے کا واحد حل ہے کہ ہم نئی معاشی پالیسیاں بنائیں۔ جو تجارت ہم چھپ کر اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کر رہے ہیں اس کو قانونی شکل دیں اور نئے معاہدے کریں تاکہ ہم اس مشکل دور سے نکل سکیں گے۔ فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ شریعہ کا مقصد پانچ انسانی چیزوں کی حفاظت ہے۔ دین، نفس، عقل اور مال کی حفاظت یہ سب جب ہی ممکن ہے جب ہم اپنے معاہدے صاف شفاف اور قانونی طریقے سے کریں۔ کسی بھی ملک کی تجارت صرف عوام ہی نہیں حکومت بھی کرتی ہے اس لئے سارا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا جاسکتا۔
تاجر حکومت بھی ہے اس لئے صاف شفاف تجارت اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت حکومت پر بھی لازم ہے۔ سورۂ نساء آیت نمبر 29 میں اللہ نے فرمایا! اے ایمان تم ایک دوسرے کا مال آپس میں نا حق طریقے سے نہ کھاؤ۔ اسی طرح حضرت رفاعہ ؓ سے روایت ہے کہ سرور کائنات نے ارشاد فرمایا! قیامت کے دن تاجر فاسق اٹھائے جائیں گے، سوائے اس تاجر جو اللہ عزوجل سے ڈرے، بھلائی کرے اور سچ بولے۔
مسلم شریف کتاب الزقاۃ میں دعا قبول نہ ہونے کی وجہ کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پراگندہ اور بدن غبار آلود ہے اور وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یارب! یارب! پکار رہا ہے، حالانکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور غذا حرام ہو پھر اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔
جب تک ہماری معیشت حرام مال پر چلتی رہے گی نہ ہماری دعا قبول ہوگی نہ ہمارے نیک اعمال!


