برج العرب سے برج خلیفہ تک


دبئی میں دن رات کی گھڑی اور اس کی رفتار کچھ حد سے زیادہ تیز ہے۔ مگر ہمارے والوں کو تو بیچنے کی حد تک ہی جچتی ہے۔ وقت کی رفتار کے مقابلے کی سوچ ابھی دور ہے۔ دن و رات کے آنے جانے میں بس سونے کا وقت مل جانا ہی موقع غنیمت ہوتا ہے۔ ایک عالمگیر قسم کے تجارتی و سیاحتی شہر سے توقع بھی یہ ہی کی جا سکتی ہے۔

شارجہ سے لے کر جبل علی تک ایک لامحدود قسم کی معاشی معاشرتی تجارتی سیاحتی و ثقافتی سرگرمیوں میں سمایا ہوا یہ شہر کب شروع ہوتا ہے اور کب رکتا ہے، اس کا ادراک ہونا ناممکن سا ہے۔ مختلف رنگ و نسل کے انسانوں کی ایک مستقل بھیڑ چال ہے جو دن رات والی گھڑی کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ ایک منظم یا پھر یوں کہیے جیسے ویل آرگنائزڈ قسم کی افراتفری سی ہے جو ہمہ وقت مختلف اشکال میں دوڑ رہی ہے۔

اور اس سب میں اگر دو گھڑی فرصت کے نکل آئیں تو بندۂ آوارہ کا پسندیدہ مشغلہ سمندر کنارہ ٹھہرتا ہے۔ یہاں کم از کم اس بات کی تسلی ہوتی ہے کہ منظم قسم کا تلاطم سمندر ہی تک محدود ہے اور انسانوں کا ہجوم بھی وہ ہی ہے جو سکون کی تلاش میں اس کنارے سے ٹکر لگائے بیٹھا ہے۔

مگر دبئی ہو اور سمندر کناروں پر کوئی نئی دنیا نا بنی ہو یہ کیسے ممکن ہے بھلا۔ بس ایک یہ ادھورا مشن اس سمندر کنارے کے برابر والی دنیا ٹٹولنے کا ایک زمانے سے دل میں سمندر کی طرح بھرے بیٹھا تھا۔

دبئی میٹرو کی ریڈ لائن جو ائرپورٹ سے شروع ہو کر جبل علی یا اس سے آگے ایکسپو 2020 تک جاتی ہے، اس پر سوار ہو کر اگر آپ اماراتی مال سٹیشن یا الصفا سٹیشن پر اتر جائیں تو دائیں سمت سمندر کنارے برج العرب کا شاہکار موجود ہے۔ گو کہ اس کے اندر جانے والی خواہش نے کبھی جنم نہیں لیا یا شاید ویسی حیثیت کی خواہش بھی نہیں، تو اس کا کنارہ اور اس کنارے سے سمندر کا نظارہ اور اس سے آگے شروع ہونے والی مختلف beaches سے متصل واکنگ ٹریک کو اخیر تک مکمل کرنے کا ادھورا مشن مکمل جوان تھا۔ آغاز اس کا الصفا میٹرو سٹیشن سے کیا گیا۔

میٹرو سٹیشن سے نکلتے ہوئے نیچے ایک دکان پر کڑک چائے کے بورڈ سے نظر دوڑی تو الٹے پیر چائے کا ٹوٹتا ہوا نشہ سامنے سا آ گیا۔ صاحب لگے تو دیسی تھے مگر ساوتھ انڈین ہونے کے واسطے اردو سمجھ نہ پائے اور انگریزی میں کام چلانا پڑا۔ مگر چائے نے دن بھر کے جھکڑ اڑاتے ہوئے برابر چکا چوند کیا تو برج العرب کی طرف جانے سے پہلے الصفا میٹرو سٹیشن کے اردگرد مارکیٹ کو کنگال کر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ قریباً سب ہی دکانیں ساوتھ انڈینز چلا رہے تھے۔

دبئی کی ایک خاصیت کہیے یا بعض صورتوں میں شاید خامی بھی ٹھہر جائے ہر علاقہ کسی خاص قومیت یا رنگ و نسل کے لوگوں سے منسوب ہو چکا ہے۔ جیسے مثلاً پاکستانی یا بنگالی ڈیرہ، بر دبئی یا قدرے شارجہ کی طرف زیادہ پائے جاتے ہیں۔ الریگا کا علاقہ فلیپینوز سے کھچا کھچ بھرا ہے۔ ڈاؤن ٹاؤن میں انڈینز اور زیادہ تر تجارتی سیاح پائے جاتے ہیں۔ اور پھر اگر جمیرا اور اس ساحل سمندر طرف آ جائیں تو یہاں کا طرز سہن بالکل مختلف ہے۔

اپارٹمنٹس کی جگہ بڑے بڑے عالی شان قسم کے ولاز ہیں۔ اور یہاں پر گوری چمڑی بکثرت موجود ہے چاہے وہ امریکی ہے یورپین ہے یا کوئی اور گوری قومیت مگر البتہ ایک امر طے ہے کہ یہ دبئی کے مہنگے علاقوں میں سے ایک ہے۔ خالص چوغوں والے عربی اس ساحل سمندر سے متصل علاقہ میں اپنی سپورٹس کاریں یا سکوٹیز دوڑاتے نظر آ جاتے ہیں۔

خیر ٹریک برج العرب سے بالآخر شروع کیا گیا۔ جمیرا بیچ سے ہوتے ہوئے اگلی بیچ کائٹ بیچ ہے۔ انفراسٹرکچر بلا کا کمال ہے۔ چھوٹے چھوٹے کیفیز، ریسٹورنٹس کی بھرمار ہے۔ بیچ سپورٹس کے خاطر خواہ انتظامات موجود ہیں۔ پیدل چلنے والوں اور سائکل والوں کے لیے دو علیحدہ ٹریک سمندر کنارے برابر چلتے رہتے ہیں۔ کائٹ بیچ کے برابر میں ایک شاندار مسجد بھی تعمیر ہے۔ جسے راقم ’جمیرا ماسک‘ ہی سمجھتا رہا مگر بھلا ہو گوگلائے ہوئے زمانے کا۔ تصحیح ہوجاتی ہے۔ ’المنارا ماسک‘ ۔ ساحل سمندر پر ہونے کے ناتے اس کی اپنی ایک مخصوص خوبصورتی ہے۔

6 کلومیٹر بعد ٹریک نسبتاً رہائشی علاقے میں داخل ہوجاتا ہے مگر نشانات ابھی اس کے مزید آگے جانے کا بتا رہے ہوتے ہیں۔ پچھلی بار غلطی کھا کے یہاں سے واپسی کا سفر ہو لیا تھا۔ مگر اس بار ارادہ بس ٹریک کی سمت میں چلنے کا تھا کہ منزل تو ہو گی کہیں۔ اور پھر کچھ ڈیڑھ کلومیٹر بعد جا کے دوبارہ ساحل سمندر سے جا منسلک ہوا۔ انٹرنیٹ نہ ہونے کے سبب آف لائن میپ ڈاؤن لوڈ کر رکھا تھا جو اب بتا رہا تھا کہ میٹرو ٹریک اور مرکزی شاہراہ سے کافی دور ہو چکا ہوں۔ ٹیکسی کار کے بھی کوئی آثار نہیں تھے۔ البتہ ٹانگوں اور پنیوں کے بدلتے ہوئے حالات غلطی کا احساس پیدا کر رہے تھے۔

مگر قصد چونکہ پکے ارادے کے ساتھ کیا تھا سو اب ٹریک تھا، سمندر کنارہ تھا، ہم تھے اور کچھ آوارہ مزاج خلقت، جو یہاں اب خاصی کم تھی۔ مگر برج خلیفہ چونکہ اب قریب تر ہوتا جا رہا تھا تو اس چیز کی تسلی برقرار رہی کہ سمت اسی طرف کی ہے۔ کچھ دیر بعد دبئی واٹر کینال کے ساتھ ساتھ ٹریک دائیں جانب مڑا۔ سمندر کنارہ جنوبی سمت میں رہ گیا اور برج خلیفہ کے آثار زیادہ نمایاں ہو گئے۔ دبئی واٹر کینال کے ساتھ والا ٹریک بھی کافی اچھا تھا۔ ٹالرنس برج کا خوبصورت آرکیٹیکچرل شاہکار دریافت ہوا جو صرف پیدل اور سائیکل والوں کے لیے بنا ہوا ہے۔ سیاحت کے نام پر ان کے پاس لگانے کو جس مقدار میں پیسا موجود ہے اس کا تصور ہمارے ہاں ابھی جنم نہیں لے سکتا۔

اور اگر باہر کی دنیا کی ٹکر کا انفراسٹرکچر اور ایڈمنسٹریٹیو نظام چاہیے تو ہمارے ہاں کے ریڑھی بان کہاں جائیں گے؟ چنگچی رکشہ سے وابستہ ایک جم غفیر کا سلسلہ معاش وابستہ ہے۔ ان کے لیے متبادل کیا ہو گا؟ پرچون فروشوں کو لیے کبھی کوئی مرکزی قسم کی مارکیٹ کا ماڈل ترتیب دیا گیا ہے جو ثقافتی و معاشرتی پہلوؤں کو بھی اجاگر کر سکے؟

اور اس سے بھی بڑھ کے اس طرح کی سیاحتی ریاستوں میں وہاں امان کی صورتحال ہے اور دبئی اس سلسلے کا امام ہے۔ لاجواب ہے۔ مجال ہے کہ آپ کسی کو اس کی بغیر اجازت سے چھو بھی جائیں۔ ہمارے ہاں ریاست اپنے لوگوں کو وہ امان دے رہی ہے جو ان کا بنیادی حق ہے؟ یا پھر وہ اپنا موڈ اپنی مرضی سے ہی ترتیب دیتی ہے شاید۔ کیا جرنیل ہوں، سیاستدان ہوں، کیا مائی لارڈ جج صاحبان ہوں یا بیوروکریٹ ہوں، سب اقتدار کو کتے کی ہڈی بنا کے اس کے اردگرد اپنا اپنا سرکس سجائے ہوئے ہیں۔ اور تماش بین صحافت قوم کے لیے شعور کے نام پر ایک مستقل کمرشل تماشا چلائے رکھی ہوئی ہے۔

اور گستاخی معاف ان سب کو بھی کیا کہنا، ہم لوگ انفرادی سطح پر ایک دوسرے کے بہتان، زبان اور اخلاق سے کس حد تک محفوظ ہیں؟ یہاں تو محض اختلاف رائے ہو جانے پر اپنوں سے امان نہیں ملتی تو زیادہ دور کیا جانا۔ اور پھر اس سے بڑھ کے ستم یہ ہے کہ میرے جیسے بھی دو چار آج کل جب کسی محفل میں اٹھتے بیٹھتے ہیں تو محض اپنے ملک کو کوستے ہیں، نظام کو کوستے ہیں اور بہتر معاشی مستقبل کے لیے یہاں سے چھٹکارا پا کر باہر نکل جانا چاہتے ہیں۔ سخت و کٹھن حالات کا کسی مستقل ارادے کے ساتھ مقابلہ کرنے کی نیت بیدار نہیں کرنا چاہتے۔ اس سب میں غلطی کا احساس بھی کیسے ہو سکتا ہے۔ اور جب وہ احساس نہیں ہو گا تو سدھار کس چیز کا کرنا ہے اس کے لیے شاید رستہ بھی لمبا ہے۔

بالکل شاید فی الحال پیدل رفتار والا رستہ ہی چلے گا۔ 14 کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد یہ خیال پختہ ہوا تو سامنے میٹرو کا بزنس بے سٹیشن آ چکا تھا۔ برج خلیفہ بھی سامنے تھا بالکل۔ ہمت جواب دے چکی تھی۔ پھر وہ ہی کلائی پر بندھی گڑھی دیکھی تو پاکستان کے سوا 12 بج رہے تھے۔ دبئی کے سوا 11۔ کوئی دبئی کا تاجر گاہک ملا ہی نہیں جس کو بیچ پاتا۔ بہرحال آخری ٹرین پانچ منٹ بعد تھی جو پکڑ کے ہوٹل کا رخ ہوا اور ایک سحر انگیز لمحات کا مجموعہ اس سمندر کنارے کے ٹریک پر رہ گیا جو آنے والے وقتوں میں یاد بن کر آتے جاتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS