عظیم اور عالمگیر ادب!


ادب قوم کا زیور ہوا کرتا ہے۔ ادب ’اور اسلامی ادب کے متعلق تصنیف ”عہد نبوی ﷺ“ میں ڈاکٹر عبدالحمید اطہر ندوی یوں رقم طراز ہیں :جو شخص اپنے احساسات کو بہترین قالب میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے‘ عبارت عمدہ ’مربوط اور اس کے احساسات کی عکاس اور الفاظ سہل و آسان‘ پڑھنے والے کو سمجھ میں آنے والی ہوتی ہے۔ اور پیرایہ بیان خوبصورت ہوتا ہے ’اور اس عبارت میں دوسروں کا متاثر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ تو اس عبارت کو تیار کرنے وائے کو ادیب کہا جاتا ہے۔ اور اس کی کاوش کو نثری ادب کا نمونہ کہا جاتا ہے۔ ان ہی احساسات و جذبات کو کوئی قافیہ و وزن کا لحاظ کرتے ہوئے بیان کرتا ہے تو وہ شاعر کہلاتا ہے۔ اور اس کے اشعار کو شعری ادب کہا جاتا ہے۔ یہیں سے ادب کی دو قسمیں نثر اور شعر ہو جاتی ہیں۔

ادیب اپنے احساسات و جذبات ’افکار و خیالات اور نظریات و رجحانات اور اپنے عقائد کو صفحہ قرطاس پر ثبت کر دیتا ہے۔ عبارت لکھنے والے کی عکاس ہوتی ہے۔ اس لیے ادیب اور شاعر اپنا خون جگر صرف کرتا ہے۔ جتنی زیادہ محنت اور توجہ رہے گی ادب اتنا ہی زیادہ بلند اور اعلیٰ ہو گا۔ جس ادیب پر جس طرح کا احساس و شعور غالب ہوتا ہے‘ وہی احساس عبارت اور مضمون سے نمایاں طور پر معلوم ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اشعار شاعر کے احساسات و جذبات کے ترجمان ہوتے ہیں ’اور لکھنے والا پڑھنے والے کی روح میں اتر جاتا ہے۔ اور قلب و دماغ پر چھا جاتا ہے۔ اور اس کے افکار سے مطمئن ہو جاتا ہے۔ جس ادب میں معانی جتنے بلند ہوں گے اور الفاظ جتنے سہل اور آسان ہوں گے‘ اور پیرایہ بیان جتنا خوبصورت ہو گا ’جذبات جتنے پختہ ہوں گے اسی لحاظ سے اس ادب کی بلندی اور رفعت میں اضافہ ہو گا‘ اس بلندی معیار کو جانچنے کا فن تنقید کہلاتا ہے۔

لفظ ادب اور شعر کی لغوی تحقیق:ادب و شعر دونوں عربی الفاظ ہیں ’شعر کے معنی احساس و شعور کے ہیں‘ اور ادب کے اصل معنی دعوت کے ہیں ’لفظ ادب کا استعمال عام ہوتا گیا اور مجازاً لفظ ادب شعر اور نثر کے لیے استعمال ہونے لگا‘ کیوں کہ لوگ جس طرح دعوتوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اسی طرح ادب کی طرف بھی متوجہ ہو جاتے ہیں ’اور ذوق سلیم اس کو پسند کرتا ہے۔ حضرت مولانا سید محمد رابع صاحب حسنی ندوی دمات برکاتہم ادب کے بارے میں لکھتے ہیں : ”ادب عقل و حکمت‘ شعور و وجدان ’اور ایک فن ہے‘ جس کی طرف لوگ متوجہ ہوتے ہیں اور اس کا سننا اور پڑھنا لوگوں لو اچھا لگتا ہے ’ادب عقل انسانی کی کاوشوں میں سے ہے‘ اور کلام کے فنوں میں سے ایک فن ہے ’یہ کلام شعراء خطباء اور مصنفین و ادبا وغیرہ سے منقول ہوتا ہے۔ اس میں دقیق خیالات اور بلند معانی پائے جاتے ہیں‘ اس سے نفوس میں آراستگی پیدا ہوتی ہے۔ اور احساس و شعور میں بالیدگی آتی ہے اور زبان مہذب ہوتی ہے“ ۔ (الادب العربی بین عرض و نقدص) ۔

”تاریخ الادب العربی“ کے مولف عمر فروخ نے لفظ ادب کی وضاحت اس طرح کی ہے : ”لفظ ادب کے متعدد معانی ہیں ’ایک معنی لوگوں کو کھانے پر بلانا اور دعوت دینا ہے‘ دوسرا معنی نفس کو مہذب بنانا اور تعلیم و تربیت دینا ہے ’ادب کا ایک معنی مجلسوں میں گفتگو کرنا بھی ہے‘ ایک معنی حسن و سلوک کے بھی ہیں ’حکیمانہ کلام کو بھی ادب کہا جاتا ہے‘ جس میں حکمت پوشیدہ رہتی ہے یا بہترین نصیحت پائی جاتی ہے ’یا صحیح بات بیان کی جاتی ہے۔ لیکن یہاں ادب کا معنی دوسرا ہے‘ اس کا اطلاق بہترین مجموعہ کلام کے لیے ہوتا ہے ’چاہے وہ نثر میں ہو یا شعر میں‘ اس اعتبار سے ادیب وہ ہے جس میں ادب کا ذوق پایا جاتا ہو ’اور اس میں ادبی تخلیق کی صلاحیت موجود ہو“ ۔ (تاریخ الادب العربی۔ از:عمر فروخ جلد اص 42 ) ۔

ادب ایک صلاحیت اور استعداد ہے جس میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے ’وہ ادیب کہلاتا ہے۔ اور اس کے ذہن و دماغ اور قلم سے ادبی کاوشیں ظاہر ہوتی ہیں‘ یہ صلاحیت یا تو وہبی ہوتی ہے یا کثرت مطالعہ اور تمرین اور مشق کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ صرف بہترین ادب ہی ادب ہے ’اس کے سوا ادب نہیں‘ اس اعتبار سے ادب وہ کلام یا اختراعی معنی ہے۔ جس کے لیے صحیح لفظ ’پختہ تعبیر‘ بلند اسلوب اور وسیع خیال استعمال کیا جائے ’روزہ مرہ کی گفتگو کو ادب نہیں کہا جائے گا۔ اسی طرح تجارتی اور برادرانہ خطوط بھی ادب نہیں کہلائیں گے‘ بلکہ ان میں سے صرف اتنی ہی مقدار ادب میں شمار ہوگی ’جس میں ادب کے شرائط پائے جائیں۔ اسلامی ادب:ادب کے ضمن میں اسلامی ادب کا بھی تذکرہ آتا ہے۔

اسلامی ادب سے متعلق غلط فہمی:بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ اسلامی ادب سے مراد دینی موضوعات اور مواعظ وغیرہ ہیں ’جن کا حقیقی ادب سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہوتا‘ اس میں ادب کے عناصر نہیں پائے جاتے ’ادب کے شرائط مکمل طور پر نہیں ہوتے‘ بس یہ ایک اعتقادی ادب ہوتا ہے ’اس ادب کا کوئی معیار نہیں ہوتا۔ اپنے آپ کو ماڈرن کہنے والے ادباء ادب اسلامی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بھی کوئی ادب ہے؟ یہ دینی موضوعات پر مشتمل ہو گا‘ اس میں وعظ و نصیحت ہوگی ’کوئی عمدہ خیال اور بلند فکر نہیں ہوگی‘ عبارت بھی سادہ ہوگی اور کوئی متانت اور پختگی نہیں ہوگی ’کوئی ادبی روح نہیں ہوگی‘ پیرائیہ بیان بھی خوبصورت نہیں ہو گا ’اور ادب کے آداب ہیں وہ بھی نہیں ہوں گے۔

اسلام میں ادب کی اہمیت:اسلام میں ادب کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ عرب اپنے آپ کو سب سے زیادہ فصیح اور بلیغ کہا کرتے تھے ’اللہ تعالی نے قرآن مجید کے نزول کے ذریعے ان کی فصاحت اور بلاغت کو چیلنج کیا‘ کہ قرآن کی طرح ایک آیت ہی بنا کر پیش کرو ’جو فصاحت و بلاغت میں اس کے مماثل ہو‘ عربوں نے اس چیلنج کا کوئی جواب نہیں دیا ’کیوں کہ قرآن سے زیادہ بلیغ اور فصیح کلام ان کے بس سے باہر تھا۔ بلکہ اس کا مثل لانا بھی ان کے لیے ناممکن تھا‘ قرآن ادب عربی کا سب سے بہترین نمونہ ہے۔ اور سب سے اعلی مثال ہے ’وہ فصاحت اور بلاغت کے اعتبار سے معجزہ ہے۔

عبداللہ بن مقفع عربی زبان کے مشہور ادیب ہیں ’انہوں نے قرآن کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اس کا مثل لکھنے کی کوشش کی تھی‘ کئی دنوں تک ایک ہی کمرے میں بیٹھے رہے ’آخر تنگ آ کر انہوں نے اپنا قلم توڑ دیا‘ اور کہا کہ یہ کسی انسان کا کلام ہو ہی نہیں سکتا۔ قرآن کے علاوہ احادیث نبویہ بھی عربی ادب کا شاہکار نمونے ہیں ’قرآن کریم کی ادبیت پر مستقل کتابیں لکھی جا چکی ہیں‘ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ (یعنی لوگوں کی عقلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے گفتگو کرو) یہ ادب کا اصول ہے کہ بات مخاطبین کی سمجھ میں آنے والی ہو ’اور اسلوب آسان اور عمدہ ہو‘ جب ادب میں یہ شرطیں پائی جائیں گی تو ادیب کی بات لوگوں کی عقلوں کے مطابق ہوگی۔

اسلامی ادب کی تعریف:اسلامی ادب کی تعریف کی جا سکتی ہے کہ اسلامی و دعوتی اعراض و مقاصد اور تاریخ کو بہترین اسلوب بیان میں پیش کیا جائے اور دین کی تشریح اور اس کا دفاع اس انداز میں کیا جائے کہ پیش کی جانے والی مخاطبین کی سمجھ اور عقل کے مطابق ہو ’یہ بات پڑھنے والے یا سننے والے کو اچھی لگے‘ اور وہ اس سے متاثر ہو اور اس کے ذہن و دماغ میں اتر جائے ’دوسرے الفاظ میں جس عبارت میں اسلامی تعلیمات و اقدار سے متعلق واضح فکرو سوچ‘ بلند مقصد اور روشن ہو۔

صالح ادب اسلام کی نظروں میں پسندیدہ:صالح ادب کو اسلام نے پسند کیا ہے ’نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے بہت سے صحابہ اور صحابہ کہ علاوہ معتقدین شعراء کے بہترین اشعار کو سماعت فرمایا ہے اور ان کو پسند کیا ہے‘ حضرت حسان رضہ اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اشعار سنانے کی فرمائش کیا کرتے تھے اور کفار کی ہجو اور اسلام کی سر بلندی کے لیے اشعار کہنے کی فرمائش کرتے تھے۔ مولانا علی میاں رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب ”مختارات من ادب العرب“ کے مقدمے میں عربی ادب اور اس کے مختلف ادوار پر روشنی ڈالتے ہوئے اسلامی ادب کے بارے میں رقم طراز ہیں : ”ان علمی اور دینی تالیفات اور تحریروں کی فضیلت ’تاثیر و قوت اور جمال و حسن کا راز مسجع و مقلی اوزان سے آزاد ہونا ہی نہیں ہے‘ بلکہ اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ان تالیفات اور مقالات کو عقیدہ و جذبہ ’فکر و سوچ و عزم و حوصلے کے ساتھ لکھا گیا ہے اور اس کے علاوہ دوسرے ادبی نمونے عام طور پر کسی بادشاہ‘ عزیر یا دوست کی فرمائش یا اپنی ادبی خواہش کی تکمیل ’یا معاشرے کو دلچسپی کا سامان فراہم کرنے یا تفوق و شہرت کی خواہش کی وجہ سے لکھے گئے ہیں‘ یہ سب سطحی اسباب ہیں ’ان سے تحریر میں قوت اور روح نہیں پیدا ہوتی‘ اس کو بقا و خلود حاصل نہیں ہوتا ’اور نہ دلوں میں اس کی کوئی تاثیر ہوتی ہے‘ ان تحریروں اور دل و عقیدے سے نکلی ہوئی تحریروں کے درمیان انسانی تصویر اور حقیقی انسان کے درمیان فرق ہے ’یہ مومن صفت مؤلفین جن پر کوئی سوچ یا عقیدہ غالب ہوتا ہے‘ وہ اپنے ضمیر اور اپنے عقیدے کی آواز پر لکھتے ہیں۔

اس سے ان کی صلاحیتوں میں جوش پیدا ہوتا ہے ’ان کے خیالات میں فیضان آتا ہے اور ان کے دل میں تڑپ پیدا ہوتی ہے‘ اس کے نتیجے میں معنی کی بارش اور بوچھار شروع ہوتی ہے ’الفاظ معنی کے مطابق نکلتے ہیں اور ان کی تحریروں کا اثر پڑھنے والوں کے دلوں پر پڑتا ہے‘ کیوں کہ یہ بات دل سے نکلی ہوئی ہوتی ہے، اور جو بات دل سے نکلتی ہے اس کی جگہ دل ہی ہے وہیں جا کر اثر کرتی ہے“ ۔ (مختارات من ادب العرب ص 15 )

ادب اسلامی کے بارے میں مولانا طیب عثمانی ندوی نے بہت اچھی بات لکھی ہے، ملاحظہ ہو: ”اسلامی ادب چونکہ عظیم مقصد کا داعی ’ساری انسانیت کا ترجمان اور عالمگیر سچائیوں کا عکاس ہے‘ اس لیے وہ تمام باتیں جو ایک عظیم اور عالمگیر ادب میں ہوتی ہیں ’ان کا یہاں پایا جانا ضروری ہے‘ وہی فن کی بلندی ’مقصد کو شعور‘ اچھا اسلوب ’بہتر تکنیک‘ ادبی لطافت اور ان سب کے ساتھ ساتھ سادگی اور پرکاری بھی ہونی چاہیے ’جو ادب کی جان ہے۔

اسلامی ادب ”ادب برائے زندگی ’زندگی برائے بندگی“ کے حیات بخش اور صحت مند اصول و نظریہ پر ساری انسانیت کا ترجمان ہے ”(ادبی کاوشیں۔ از:مولانا طیب عثمانی ندوی ص 58 ) ۔ ادب اسلامی وہ ادب ہے جس میں حیات و کائنات اور انسان کے واقعات و حالات کی با مقصد فنی تعبیر ادیب کی وجدان و شعور کے مطابق کی گئی ہو‘ ایسی تعبیر ہو اللہ عزوجل اور اس کی مخلوق سے متعلق اسلامی تصور کے سر چشمے سے نکلی ہوئی ہو اور اس میں اسلامی قدروں کی مخالفت نہ ہو۔

Facebook Comments HS