ڈوبتی معیشت اور سرکار کی شاہ خرچیاں
معروف معاشیات دان جناب اشفاق حسن سے ایک ٹی وی شو کے دوران اینکر نے جب پاکستانی معیشت کی حالت زار بارے پوچھا تو انہوں نے ایک زبردست مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ فرض کریں ایک مریض ہے اسے پہلی بار ڈاکٹر کے پاس لے جایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مریض کا بڑی احتیاط اور باریک بینی سے دیکھنے کے بعد ضروری دوائیں تجویز کرتا ہے مگر مریض کے خاندان والے ڈاکٹر کے تجویز کردہ ادویات دینے کے بجائے کہتے ہیں کہ نہیں ہم اپنی طرف سے مرض کی تشخیص کریں گے، تجربات کریں گے، دیسی علاج کر کے دیکھیں گے۔
وہ اسی طرح اپنی ضد پر اڑے رہے اپنی طرف سے دوائیں دیتے رہے، مرض بڑھتا گیا۔ مریض کی حالت زار روز بروز بگڑتی گئی۔ زہر جسم میں پھیلتا رہا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ کینسر پورے جسم میں پھیل گیا۔ اب مریض کے خاندان والے پھر سے اسے واپس اسی ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اب کیا کریں؟
کتنی بہترین مثال ہے اپنے ملک کے معیشت کے حالت زار کی۔ معیشت کو بچانے کے دعویداروں نے دیسی فارمولے استعمال کر کے، بار بار کے دیسی ساختہ تجربات کر کے اس کا جو بیڑا غرق کر دیا ہے اس کی نظیر کہیں بھی نہیں ملتی۔ یہ بار بار تجربات کرتے رہے وزیر خزانہ بدلتے رہے۔ یہ معیشت دانوں کے تجاویز، مالیاتی ماہرین کے مشوروں کو رد کر کے اپنی قابلیت سے اسے حل کرنے اور اسے اپنے پاؤں کھڑا کرنے کے دعوے کرتے رہے وقت گزرتا گیا تو مصیبت در مصیبت آن پہنچی
”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“
زہر ہر سمت ہر سو پھیلتا گیا اور ہوش تب آیا جب زہر پورے بدن میں پھیل چکا تھا اور مرض لاعلاج ہو چکا تھا۔ اور اب صورتحال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے پاؤں پکڑ کر سخت سے سخت ترین شرائط مان کر قوم پر منی بجٹ کے نام سے ایک اور عذاب نازل ہونے والی ہے جس سے شنید ہے کہ مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا عوام کو بھوک سے مروانے کی تیاری ہو چکی اور ایوان اقتدار والے پہلے سے زیادہ عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ ڈیفالٹ کے قریب ملکی معیشت کے رکھوالے بیرون ملک دوروں، روز نئے مشیر وزیر لگانے اور اپنی اپنی بساط کے مطابق لوٹنے میں مصروف ہیں ان کو اس بات کا غم نہیں کہ عوام کا کیا بنے گا، لوگ کیسے گزارہ کریں گے اور ملک کا کیا بنے گا ان کی اپنی عیاشیاں ہیں اور ان کی اپنی اپنی کار گزاریاں۔
عوام۔ ملک اور اس ملک کے مکین جائیں بھاڑ میں۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے خزانے پر بوجھ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو ملنے والے مراعات پر نظر ثانی کرے۔ آئی ایم ایف کہتا ہے کہ گریڈ سترہ سے اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کیے جائیں، آئی ایم کے مطابق پاکستان میں تقریباً دو سو گالف کلب سرکاری خرچے پر چالو ہیں اس کے علاوہ بیشمار شاہی خرچے ہیں پٹرول ڈیزل مفت، بجلی مفت ان سب پر قدغن لگایا جائے مگر چونکہ یہ بڑے بڑوں کے شاہی خرچے ہیں انہیں پبلک کرنا، بند کرنا اور ان میں اصلاحات لانا ناممکنات میں سے ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق پاکستانی اشرافیہ کو 2600 ارب روپے کی سالانہ سبسڈی دی جاتی ہے یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے مگر کیا مجال ان پر کوئی بات کرے اور اگر کوئی باز پرس کی جرات بھی کرے تو اس کے خلاف مقدمات بنائے جاتے ہیں اس لئے غریبوں کے لئے بنائے گئے لنگر خانے بند کیے جاتے ہیں، پٹرول ڈیزل مہنگا کیا جاتا ہے اشیا خوردنی مہنگے کیے جاتے ہیں، صحت کارڈ ریلیف بند کیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ بڑے بڑوں کے خلاف لب کشائی کا جرم ہے جسے غریب سے سود سمیت وصول کیا جا رہا اور یہی اس ملک کے لاچار طبقے کے ساتھ ازل سے ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا کیونکہ یہی ہمارا مقدر ہے۔

