مور کے آنسو


دہائی ہے دہائی! ملک میں سب سے بڑا مسئلہ عمران خان کی گرفتاری کب سے ہو گیا؟ مہنگائی ہے مہنگائی ہے۔ حکمرانو اس ملک کا مسئلہ سردست مہنگائی ہے۔صنعتوں کا پہیہ الٹا چل پڑا،تباہی ہے تباہی۔ تعصب زدہ آنکھوں سے بھی دیکھیں تو عمران خان کی حکومت میں حالات بدرجہ بہتر تھے وقتی فریب ہی سہی تھا تو، شہباز شریف وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے ابو عبداللہ کی طرح عظیم و شان سلطنت قائم ہونے کے بعد جس طرح وہ سپین سے پشیمان شرمندہ شرمندہ نکلا۔یونہی جناب نکلیں گے ناکامی کی تصویر کے سوا وہ موجودہ عہد کو کوئی دوسرا نام نہیں دے سکیں گے۔ ابو عبداللہ نے پہاڑ کی چوٹی سے واپس الحمراء پر نظر ڈالی آنکھ چھلکی، آنسو امڈے تو اس کی ماں نے عظیم جملہ کہا ”میرے لال تم جس الحمرا کی حفاظت مردوں کی طرح نا کر سکے اس پر عورتوں کی طرح آنسو بہانے سے کیا حاصل؟

یہ چوٹی مور کی آہ سے عبارت ہوئی شہباز شریف کی ساری عمر کی ریاضت کجا کھو گئی۔پنجاب میں دکھائے گئے جوہر طاق نسیاں ہوئے۔بندہ پرور خلق خدا بلک اٹھی۔ گئے روز کراچی میں بے روزگاری کی سے تنگ شخص خودکشی کر گیا۔ جس حال میں معیشت ملی برا تھی تسلیم برا تھی مگر یہ جو اب ہوا بندہ پرور وہ کیا ہے؟

ڈار کی ڈالر سے شکست فاش کے بعد مفتاح کا غیر جذباتی تجزیہ ہی بہتر معلوم ہوتا ہے۔ پنجابی کی کہاوت ہے گائے فروخت کر کے گدھی خرید لائی، دودھ سے محروم ہوئی۔ غلاظتوں کے ڈھیر کی مشقت الگ اٹھانا پڑی۔ یہی ہے خلاصہ یہی نتیجہ ہے اب تک کی تجربہ کاریوں کا تباہ کاریاں ہی تباہ کاریاں۔ احباب ذی وقار میں شامل چین پلٹ ڈاکٹر ارشد بھٹی سے پوچھا چینیوں کا طرز فکر کیا ہے؟ کیسے وہ مسائل پر غور کرتے ہیں۔ میرے مسلسل سوالات سے تنگ بھی آئے مگر سائل کے تجسس کے آگے ڈھیر ہوئے۔ ڈاکٹر نے۔ کہا غیر جذباتی انداز میں مسئلہ کا بھرپور تجزیہ مسلسل نشستیں بار بار تجزیہ ہاں مگر تجربے سے پہلے پہلے تمام پہلوؤں سے جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سازی۔ پھر مصمم ارادے کے ساتھ بھرپور جدوجہد۔

چینی ویسے خدا کے وجود سے گریزاں ہیں مگر قانون فطرت وہاں بھی وہی ہے۔ اللہ کی کتاب کہتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔ ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ ریاضت کرتا ہے۔ چینی اسی قانون فطرت پر عمل پیرا ہیں۔

مشکلات در مشکلات کے بعد چند ایک ناکامیوں کے باوجود چینی سنبھل گئے امریکا لرزہ براندام ہے اور یورپ انگشت بدنداں۔

اس کے برعکس وطن عزیز؟ جذبات ہی جذبات منطقی تجزیہ کے بغیر حب الوطنی کے درس نتیجہ بھٹکے راہی جیسا۔ وزیر خزانہ سے شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں پوچھا گیا کیسے؟ جواب تھا ہو جائے گا؟ پہلے بھی کر چکے ہیں سوال مکرر ہوا؟ اب کی بار کیسے اس کیسے کا جواب ناں تب تھا نا اب ہے؟

ہیجان انگیز لمحوں میں گھبراہٹ دوسری غلطی ٹھہرتی ہے پہلی وہ صورت جس سے ہیجان انگیزی پیدا ہوئی دوسری گھبراہٹ مفتاح کے اقدامات سے گھبرائی نون لیگ نے رہی سہی ساکھ بھی گنوا دی۔ ڈالر منہ زور، مہنگائی کمر توڑ ہے معیشت کمزور یہ خلاصہ ہے لیگی حکومت کے ماہ و سال کا۔ حل اب بھی ممکن اب بھی ممکن، حالات کا غیر جذباتی تجزیہ اور ہیجان انگیز لمحوں میں گھبراہٹ سے انکار۔

منزل اب بھی ممکن ہے کہ یہاں بھی قانون فطرت موجود ہے۔ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے ہر تنگی کے بعد آسانی۔ تمہی غالب آؤ گے اگر سچے ہو؟

کیا ہم سچے ہیں۔ بندہ پرور سوچیے۔ پھر سوچیے۔ دہائی ہے دہائی ملک میں سب سے بڑا مسئلہ عمران خان کی گرفتاری کب سے ہو گیا؟ مہنگائی ہے مہنگائی ہے، حکمرانو! اس ملک کا مسئلہ سردست مہنگائی ہے۔

Facebook Comments HS