پبلک سپیکنگ – گھبراہٹ پر کیسے قابو پایا جائے


آپ کتنے ہی پبلک اسپیکنگ کے ماہر ہوں، کیمرے کے آگے پٹر پٹر کرتے ہوں، اپنے کام سے بخوبی واقف ہوں، مائک آپ کا فیورٹ ہو پھر بھی ہر ایسے موقعے پہ دل تھوڑا زیادہ دھک دھک ضرور کرتا ہے، زبان بھی تھوڑی سی لکنت کا شکار ہوتی ہے، ہاتھ پاؤں بھی تھوڑے ٹھنڈے پڑتے ہیں (کبھی کبھی کانپتے بھی لگتے ہیں ) ، حلق بار بار خشک ہوتا ہے اور دل دماغ بھی سرگوشیاں کرتا ہے کہ ہائے اللہ میاں کہاں پھنسا دیا لیکن۔ سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے!

یہ سب ہونا عام سی بات ہے کیونکہ ”بولنا“ ، پھر ”صحیح بولنا“ اور پھر اپنے مضمون کے بارے میں ”مکمل گرفت رکھ کے بولنا“ در حقیقت آسان کام نہیں ہوتا لیکن بس یاد رکھیے کہ ”ڈر کے آگے جیت ہے“ ، اپنی اس گھبراہٹ اور اینزائٹی سے خود آپ ہی اپنے آپ کو نکال سکتے ہیں بس کچھ اہم نکات نوٹ کر لیجیے۔

ہوم ورک

جی! اسکول، کالج، یونیورسٹی ہو یا ایونٹ، اسٹیج، کیمرہ یا آفس، جب تک آپ اپنے موضوع کے متعلق اپنا ہوم ورک کر کے نہیں جائیں گے آپ کی بات ہلکی اور بے وزن رہے گی، یہ بات تو پریزنٹیشن کے متعلق ہے مگر عام محفل اور گفتگو میں بھی کسی ایسے موضوع پہ بات کرنا اور محض دوسروں پہ یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ آپ ہر بات جانتے ہیں خواہ مخوا اپنی رائے کا اظہار کرنا اکثر ناصرف دوسروں کے سامنے آپ کی شخصیت کا تاثر خراب کر دیتا ہے بلکہ اگر اس وقت اس خاص موضوع کے بارے میں کوئی مستند معلومات رکھنے والا بھی موجود ہو تو کبھی کبھی خاصی شرمندگی اور بے عزتی کا بھی باعث ہوتا ہے اس لیے اپنی معلومات وسیع اور مستند رکھیں اور اپنا ہوم ورک مکمل کر کے جائیں۔

گھبراہٹ

کوئی بڑے سے بڑا ہوسٹ ہو یا پریزنٹر، ہر ایسے موقعے پہ گھبراہٹ اور اینزائٹی قدرتی ہے اس پہ مختلف طریقوں سے قابو پانے کی کوشش کریں، گہرے سانس لیں، تھوڑی سی چہل قدمی کریں، پانی پیئیں اور اپنے آپ کو باور کروائیں کہ آپ یہ کام آسانی سے کر گزریں گے اور جن کے سامنے کرنے جا رہے ہیں وہ سب بھی بالکل آپ کی طرح عام لوگ ہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ اس خاص موضوع پہ آپ ان سے بہتر گرفت رکھتے ہوں تو خود کو ایک ٹیچر کی طرح دیکھیے اور اپنے سامعین سے بات کے آغاز میں ہلکی پھلکی بات چیت کے ذریعے کنکٹ ہونے کی کوشش کریں (پہلے یوں کہا جاتا تھا کہ سمجھنا تمہارے سامنے بیٹھے ہوئے سب لوگ گدھے ہیں 🙄 توبہ، یہ کبھی نہ سمجھیں کیونکہ ایک تو یہ آپ کے سننے والوں کی توہین ہے اور اس سے بڑھ کے آپ کی، ذرا سوچیں کوئی زی ہوش آدمی بھلا گدھوں سے خطاب کیوں کرے گا؟ اس لیے سوچیے کہ آپ فہم و فراست رکھنے والے لوگوں سے مخاطب ہونے جا رہے ہیں )

پریکٹس یا مشق

جو بولنا ہے وہ پہلے تولنا ہے، اگر لکھا ہوا اسکرین پہ دکھانا ہے مثلاً پاور پوائنٹ پریزنٹیشن تو تحریر کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں کہ لفظوں کی ہجے یعنی اسپیلنگ اور جملوں کی گرامر بالکل درست ہو، اس کی زبان سے نہیں تو دل ہی دل میں مشق کرنی ہے، اگر یہ نا کافی لگے تو ایک بار لکھ کے، یاد کر کے اور کیمرے یا

آئینے میں دیکھ کے مشق کر لیں اور اگر یہ بھی زیادہ لگے تو اپنی آواز ریکارڈ کر کے سن لیں۔

دو تین بار اپنا سوچا یا لکھا دہرانے سے یاد ہو جاتا ہے اور ذہن بن جاتا ہے پھر یاد رکھنے کے لیے پڑھنا نہیں پڑتا بلکہ پوائنٹس ہی کافی ہوتے ہیں۔

یہ ساری مشقیں آہستہ آہستہ آپ کہ اعتماد بحال کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

وقت کی پابندی

اپنی مطلوبہ جگہ پہ پوری تیاری کے ساتھ وقت سے پہلے موجودگی کو یقینی بنائیں، آپ کا ذہن ایسے موقعوں پہ پہلے ہی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، ایسے میں دیر ہونے کی فکر، ٹریفک، راستوں کی الجھن آپ کی ساری تیاری، محنت اور موڈ پہ پانی پھیر سکتی ہے پھر جگہ اور ماحول سے مانوس ہونا بھی ضروری ہے اس لیے اپنے آپ کو وقت دیں تاکہ پرسکون ہو کر پریزنٹ کر سکیں۔

دعا

آپ کا سارا علم اور عمل ایک ”کن“ کا محتاج ہے اس لیے دعا کرنا کبھی نہ بھولیں اور ہر اس قسم کے موقعے پہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا ضرور پڑھیں جو انہونے زبان کی لکنت اور علم کی کشادگی کے لیے کی تھی۔

اے میرے رب میرا سینہ کھول دے۔ اور میرا کام آسان کر۔ اور میری زبان سے گرہ کھول دے۔ کہ میری بات سمجھ لیں۔
(سورۃ طٰہ۔ آیت 25 سے 28 )
گڈ لک اینڈ آل دی بیسٹ

Facebook Comments HS