اقتدار میں اختیار اور سیاسی بیانیہ


پاکستان کی حالیہ سیاست میں کشیدگی اور غیر یقینی کی سی صورت حال ہے۔ انتقامی کارروائیوں کی روش نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کے یہی لوگ مسلسل ہم پر حکمرانی کرتے ہیں۔ اک سیاسی جماعت حکومت میں آتی ہے اپنی ٹکر کی حریف جماعت سے پرانے بدلے لیتی ہے، کیسز بنائے جاتے ہیں جس کا مقصد انصاف نہیں انتقام ہوتا ہے ملک کے قانون کے ساتھ کھیلا جاتا ہے اور جب ان کی حکومت ختم ہو یا ختم کردی جائے تو وہ اسی نظام کے خلاف آواز اٹھتے ہیں اسی نظام کی خامیوں کا ذکر کرتے ہیں جس کو چلانے والے وہ خود ہیں اس نظام کو بدلنے کی باتیں کر کے سیاسی بیانیہ بناتے ہیں اور جب ان سے سوال کیا جائے کے جب وہ اس حکومت میں تھے صاحب اختیار تھے تو نظام میں بہتری کیوں نہیں لائے انصاف و قانون کا نظام بہتر کیوں نہیں کیا تو وہ سارا ملبہ پچھلی حکومتوں پہ ڈالتے ہیں پھر کہتے ہیں کے ہمارے پاس تو اختیارات ہی نہیں تھے اصل کنگ تو کوئی اور تھا۔

ایسا ہی کچھ عوام کے من پسند لیڈر عمران خان نے بھی کیا۔ آج کل جب ان سے ان کے دورے حکومت کی ناکامیوں کا سوال کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کے میرے پاس تو اختیارات ہی نہیں تھے ”کنگ تو کوئی اور تھا“

حکومت میں آنے سے پہلے ہی عمران خان عوامی طاقت رکھتے ہیں جس کی وجہ شوکت خانم اور ان کا انصاف اور نظام کی تبدیلی پسند بیانیہ اور نیا پاکستان بنانا تھا۔ لیکن ان کے وزیر اعظم بننے کے سفر کو بھی سب بخوبی جانتے ہیں بھرپور عوام کے ووٹ اور کچھ پس پردہ انسانی معجزوں نے بھی کردار ادا کیا۔ عمران خان وہ واحد لیڈر رہے جنہیں کام کرنے کا بھرپور موقع دیا گیا کے وہ اس بوسیدہ نظام میں تبدیلی لائیں، اس ملک میں انصاف لے کے آئیں قانون کی حکمرانی یقینی بنائیں مافیاؤں سے اس ملک کو آزاد کروائیں اور اسے نیا پاکستان بنائیں لیکن انہوں نے بھی وہی کیا جو سب کرتے ہیں انتقامی سیاست کی روایت کو برقرار رکھا سیاسی حریفوں کو نیچا دکھانے کے لیے اپنی طاقت کو استعمال کیا اور اس پر بھرپور کام کیا۔ پھر عمران خان کا وقت ختم ہوا اور وہ جیسے آئے ویسے چلے گئے۔

اب عمران خان اپوزیشن میں ہیں، جب ان کے ”مجھے کیوں نکالا“ کے سفر کا آغاز ہوا تو وہ بھی جانتے تھے کہ انہیں کیوں نکالا ہے انہوں نے بیانیہ بنایا کے ان کی حکومت ختم کرنے میں امریکہ نے پاکستان میں آ کر سازش کی یہ سیاسی بیانہ بے حد مقبول ہوا۔ لیکن اب اس بیانیہ نے بھی ”امریکہ سے پاکستان“ سے ہٹ کر ”پاکستان سے امریکہ“ کا سفر تہہ کر لیا ہے۔ عمران خان کے اس بیان پر کے اختیارات ان کے پاس نہیں تھے تو ان سے سوال یہ کہ آواز اپنے وزیر اعظم ہوتے ہوئے کیوں نہیں اٹھائی، نظام میں رہ کر ممکن نہیں تھا تو مستعفی ہو کر اس نظام سے خود کو الگ کیوں نہیں کیا، عوام جس نے آپ کو ووٹ دیا اس کو یہ سچ اس وقت کیوں نہیں بتایا عوامی طاقت کا استعمال تب پاکستان کے لیے کیوں نہیں کیا؟ جن لوگوں کے ساتھ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اب ان کے خلاف باتیں کیوں؟

جب خود اس کا حصہ رہے اور دفاع کرتے رہے تو اب یہ ساری وضاحتیں کیوں؟ اب عوام کی طاقت کا استعمال اور سچ سامنے لانا محض کرسی دوبارہ حاصل کر کے اقتدار میں آنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

Facebook Comments HS