یہ ظلم ہے


”بات نظام، اس کے چلانے والوں اور آلہ کاروں کی ہو رہی ہے“ ۔

وقت وقت کی بات ہے ؛ نہ لاڈلا پن ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے اور نہ ہی دشمنی۔ وقت کے ساتھ مفادات بدل جاتے ہیں، وابستگیاں بدل جاتی ہے، تعلقات بدل جاتے ہیں۔

جاوید وششٹ کیا خوب لکھتے ہیں ؛
”یہ تو وقت وقت کی بات ہے ہمیں ان سے کوئی گلہ نہیں
وہ ہوں آج ہم سے خفا خفا، کبھی ہم سے ان کو بھی پیار تھا ”

مہذب زبان میں بدقسمتی ہی کہے سکتے ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ عموماً عوامی سیاسی لیڈروں کو بندوق کی نوک پر نہیں بلکہ ان کے اپنے سیاسی مخالفین کو چند محدود اختیارات دے کر دبایا گیا۔ ان کو کرسی پر بیٹھا کر تھوڑا سا اختیار دیا جاتا ہے، اور بدقسمتی سے یہ گروہ اس غلط فہمی میں ہوتی ہے کہ یہ اختیارات ہمیشہ کے لئے ہوں گے، جس کو بلا دریغ مخالفیں کی آواز اور مزاحمت کو دبانے اور اپنے مفادات کے حصول کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ اس وقت نہ عوام کی فکر ہوتی ہے، نہ عدل و انصاف کا سبق یاد رہتا ہے، اور نہ ہی اپنے ظلم و ستم کے دور رس نتائج کا کوئی اندازہ لگاتے ہیں۔

اس برائے نام محدود اختیارات والے حکمران طبقہ کو فکر تب لاحق ہوتی ہے، جب ان سے اختیارات واپس لیے جاتے ہیں، تب یہ خواب غفلت سے بیدار ہو کر چیخنے چلانے لگتے ہیں۔ تب ان کو عوام کے حقوق یاد آنے لگتے ہیں، جمہوریت اور آزادی اظہار رائے یاد آ جاتی ہے، دیگر بنیادی انسانی حقوق تب یاد آنے لگتے ہیں۔ لیکن درحقیقت ان کو نہ عوام کی فکر ہوتی ہے اور نہ اس نظام کے بہتری اور بدلنے کی، بلکہ فکر صرف اور صرف کرسی اور اختیارات کے واپسی کی ہوتی ہے۔

اس سارے عمل میں عوام کو بیوقوف بنا کر انھیں استعمال کیا جاتا ہے، عوام کو مختلف فرقوں در فرقوں میں بھٹکا کر اصل و بنیادی مسائل سے ان کا توجہ ہٹائی جاتی ہے۔ کوئی مذہب کے نام پر عوام میں تفریق پیدا کر کے ورغلاتے ہیں، تو کوئی قومیت، علاقائی اور طبقاتی بنیادوں پر، اور کوئی احتساب اور خوبصورت اصطلاحات سے عوام کو بیوقوف بناتے ہیں۔ عوام بجائے اس کے کہ اپنے سیاسی نمائندوں کے پالیسیوں پر کھڑی نظر رکھیں اور غلطی کی صورت میں خوب تنقید کر کے ان کے خلاف اس انداز میں مزاحمت کرے کہ وہ اپنے پالیسیوں پر نظرثانی کے لئے مجبور ہو جائیں۔ یہ بیوقوف بن کر زندہ باد و مردہ باد اور ایک دوسرے پر الزامات میں مصروف رہتے ہیں، اور یونہی سیاسی اور غیر سیاسی نمائندوں کو مزید موقع مل جاتا ہے کہ اپنی من مانی جاری رکھیں۔

یہ ڈراما میرے دیس میں کئی دہائیوں سے چل رہا ہے۔ اگر حقیقت میں کامیاب ہونا ہے تو عوام کو جاگنا ہو گا، اپنے حقوق و فرائض کو پہچاننا ہو گا، ہمت کر کے سوال اٹھانا ہو گا، مفاہمت کی پالیسیوں سے نکل کر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہوگی۔ تب ہی اس غلیظ کھیل سے نکل کر اس نظام کو بدلا جا سکتا ہے، ورنہ یہی فرسودہ نظام اور یہی نا اہل حکمران ہوں گے ۔

ان بے حس رہنماؤں پر غصہ بھی آتا ہے اور افسوس بھی۔ لیکن ان سے زیادہ مایوس ان لوگوں (عوام) سے ہوں، جو پچھتر ( 75 ) سالوں سے رگڑنے کے باوجود سمجھ نہیں رہے ہیں۔ یہ جان کہ بھی کہ ہمارے حقوق کی پامالی کون اور کس طرح کر رہے ہیں، اور بجائے اس کے کہ خلاف متحد ہو کر اٹھ کھڑے ہو جائیں، یہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

میں بذات خود کسی خاص نظریے یا نظام کی تلقین و ترویج نہیں کر رہا، صرف اور صرف ایک ایسے نظام کی تلاش میں ہوں، جس میں حقدار کو اپنا حق ملے، ذہنی غلامی کی زنجیروں کو توڑا جائے، ایک ایسا نظام جہاں ذہنی و فکری نشوونما کو فروغ ملے، اور ظلم و زیادتیوں کا رستہ روکا جائے۔

یاد رکھیں! اگر صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط نہیں کہہ سکتے، اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے، اور ظالم کے ظلم سہ کر خاموش تماشائی بن کر رہو گے تو ترقی، بدلاؤ اور امن کی سوچ کو دفن کر دیں۔ کیونکہ اس حال میں ترقی، امن اور خوشحالی محض ایک خواب ہے، اور رہے گا۔

Facebook Comments HS