بارے کچھ ان بابوں کے
ایک کمزور نحیف و نزار چٹا سفید وجود جو ہمارے آس پاس تو رہتا تھا مگر ہم نے کبھی اسے ایک حد سے زیادہ لگاؤ نہیں کیا۔ کیا آپ جانتے ہیں، وہ شیطان صفت وجود جو میرے ابا جان کے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر میرے ننھیال کے خلاف سازشیں کرتا تھا وہ کون تھا۔ وہ میرے دادا جی تھے۔ مجھے ان کا پہلا تعارف ایسے ہی کرایا گیا تھا اور انھوں نے بھی ایسی ہی کوئی کہانی ہمیں اماں جی اور ننھیال کے بارے میں سنائی تھی۔ کبھی ہم نانا جی کے گھر اٹکھیلیاں کرتے، کبھی دادا جی کے ہاں دعوت اڑاتے مگر کبھی سمجھ نہیں پائے یہ سگے بھائی، جنہوں نے بچوں کی آپس میں شادیاں بھی کیں، ایک دوسرے سے کیوں اتنا کتراتے ہیں۔ اس سے زیادہ کھدائی کا میرا ضمیر روادار نہیں ورنہ نفس مضمون کھو جائے گا۔
میں جب ننھا بچہ تھا تو ہم اکثر نانا جی کے ساتھ لمبی سیروں پر نکل جاتے تھے۔ کبھی علاقے کے واحد عرس پر سے لمبی بندوقیں خرید کر گھر کو لوٹتے تو ہر شخص یہ ہی سمجھتا کہ فوجی دستہ مشق کی تیاری کر رہا ہے۔ میرے نانا جنہیں ہم اکثر مسٹر چپس، بھی بلاتے ہیں کیا دبنگ آدمی تھا۔ ساری زندگی من کی موج میں گزاری۔ خاندان کا پہلا آدمی جو تعلیم حاصل کرنے گجرات شہر گیا، یہ 1950 ء کی بات ہے۔ ان کے والد لوہار تھے اور لوہے کی ٹنڈ ( جو رہٹ نامی کنویں میں لگا کر پانی نکالا جاتا تھا) بناتے تھے اور دیگر زرعی آلات بنا کر انھوں نے بچے کو ایف ایس سی کرنے بھیجا، بعد ازاں وہ لڑکا اپنے ڈاکٹری کے خواب کو غربت کی وجہ سے پورا نہ کر سکا، جس کی کمپنسیشن بعد ازاں قدرت نے اچھے سے کردی۔ تعلیم تدریس سے منسلک ہوئے اور اپنی ایمان داری کی وجہ سے سب کی آنکھ میں چبھتے رہے۔ بندہ بشر تھے، باقی کہانی کسی دن پر چھوڑے دیتے ہیں۔
ان کا گھر پہاڑ کے دامن میں تھا، جہاں ہم بھاگ بھاگ کر جاتے تھے ( اور ہمارا ان سے ملحقہ) دعوت اڑاتے اور سیریں کرتے۔ اب وہ بھی ستارہ بن کر آسمانوں میں بس گئے ہیں۔
دوسرے ہیں لارنس آف دارا پور، بڑے میاں کے چھوٹے بھئیے، طبیعت سے جولی، ہنس مکھ اور فن لونگ (fun loving) ۔ درس و تدریس سے منسلک رہے۔ تھوڑے کھلے ڈلے لڑکے تھے اس لیے ابھی تک صحیح سلامت ہیں۔ کھانے میں دودھ جلیبی پسند کرتے ہیں۔ چھپ کر دھوئیں کے چھلے بھی اڑاتے ہیں اور درجہ بالا اشیا کے چھوڑنے کی سعی لا حاصل کرتے رہتے ہیں۔ مجھے یاد ہے مجھے اسکول چھوڑنے جاتے تھے تو اتنا دھیرے چلتے کہ مجھے شکایت کرنا پڑی کیونکہ روزانہ دیر ہو جاتی تھی۔
بد رنگ سی اسلامی کتابوں کے ڈھیر میں دبے رہتے ہیں اور ہر کس و ناکس کو صحابہ نامہ سناتے رہتے ہیں۔ بازو مضبوط ہیں کیونکہ کھجوریں کھاتے تھے۔ پنجابی میں ماسٹرز پڑھے ہیں اور وارث شاہ وغیرہ کو سمجھتے ہیں۔ عمر میں میرے سے چار پانچ گنا بڑے ہیں اور تجربے میں کئی ہزار گنا۔ موبائل فون بھی سیکھ گئے ہیں اور تفریح طبع کے بھی کافی قائل ہیں۔
ان بابوں کے پاس بیٹھیں گپیں لگائیں تو آپ کو ماضی کی کہانیاں دلچسپ انداز میں سنے کو ملتی ہیں۔ آپ نے بھی میری طرح کبھی انہیں کال نہیں کی ہوگی یا سازشوں والی کہانی پر یقین کرتے ہوں گے مگر آئینہ تو دیکھیں آپ ان کے جیسے بنتے جا رہے ہیں، مطلب یہ کہ آپ کے ہاتھوں کی حرارت، رگوں میں دوڑتا خون آیا کہاں سے ہے، کلائیاں اور چہرہ ان سے اتنا ملتا کیوں ہے۔ کیا آپ ان کی زندگی کی سٹرگل کو بھول سکتے ہیں، جس طرح انھوں نے خاندان کا شیرازہ منتشر ہونے سے بچایا۔
اندر کے اختلافات کو بولنے دیں لیکن یاد رکھیں اس دن اسکول چھوڑنے کون جاتا تھا، داخلے کرواتے وقت، بیماری، بھوک اور ہے چارگی میں کس نے ہاتھ تھاما تھا۔ یہ ہی مٹے سے چہرے زندگی کا حاصل ہیں۔ ان سے اظہار نہ کر پائیں تو ان کی کاوشوں کو ایکنالج ضرور کریں۔ ایک اچھی کہانی پرفیکٹ نہیں ہوتی، ایک اچھی کہانی حقیقی ہوتی ہے۔ اور یہ زندگی کے سیاہ حاشیے ہی اسے قیمتی بناتے ہیں۔ میرا ویلنٹائن بابا کھونڈی کے نام، لارنس آف دارا پر کے نام۔ گڈ بائے مسٹر چپس۔


