ٹرانس جینڈر ایکٹ اور ہم جنس پرستی کے ابہام
ٹرانس جینڈر ایکٹ کے حوالے سے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا ہر کافی چرچا ہوا ایک مکتبہ فکر اسے غیر اسلامی اور ہم جنس پرستی کا سرٹیفیکیٹ بل قرار دے رہا تھا تو اس کے برعکس ایک دوسرا طبقہ فقط بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کا قانون کہتا نظر آیا۔ اور اس سلسلے میں ایک غیر جانب دارانہ نظریہ پیش کرنا بحر حال ایک قومی ذمہ داری کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے پیشتر کہ ہم اس قانون کی گہرائی میں جا اتریں پہلے چند جھلکیاں دیکھ لیتے ہیں چہرے پہ غازہ ملے، ہونٹوں کو لپ اسٹک کی تہہ میں چھپائے شوخ لباس پہنے تالیاں پیٹتے خواجہ سرا غالباً اس ملک میں بدقسمت ترین مخلوق کا درجہ رکھتے آئے ہیں جو اخباروں کی سرخیوں میں ایک روز کے لیے نمودار ہوتے ہیں کہیں گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنتے تو کہیں موت کے گھاٹ اتار دیے جانے والے یہ انسان نہ صرف خاندان بلکہ پوری قوم کے دھتکارے ہوئے ہیں۔ ان کے حقوق کی جب جب بات کی گئی تب تب چند عناصر نے معاشرے میں انتشار پھیلانے کی غرض سے اسے مذہبی رنگ دے دیا
خیر آج بات کرتے ہیں ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے حوالے سے دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ ان چند ایکٹس میں سے ہے جو بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے میرے نزدیک اس ایکٹ کا قابل ستائش نکتہ یہ ہے کہ جن خواجہ سراؤں کو آج تک معاشرے میں وہ عزت و مرتبہ حاصل نہیں ہوا جو بحیثیت انسان ان کا حق ہے وہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ جو ساری زندگی ایک دوہری اذیت سے گزرتے ہوئے ایک جعلی شناخت لیے گھومتے رہے وہ اب اپنا الگ شناختی کارڈ بنوا کر پاسپورٹ حاصل کر سکتے ہیں، ووٹ ڈال سکتے ہیں نادرہ آرڈینینس 2000 کے تحت اب ان کی الگ شناخت ہوگی۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں کوئی خواجہ سرا شادیوں پر ناچتا تو بھلا لگتا ہے لیکن کسی یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوا کوئی کاروبار کرتا ہوا دکھ جائے تو ہماری انا کو تسکین نہیں پہنچ پاتی۔ یہ ایکٹ نہ صرف خواجہ سراؤں کو ہراسانی سے تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ حکومت کو پابند کرتا ہے کہ ان کو یکساں تعلیم فراہم کرے، انہیں صحت کی سہولیات فراہم کرے اور انہیں زبردستی بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والے اشخاص کو چھ ماہ قید یا پچاس ہزار جرمانہ کرے۔
دیکھا جائے تو ہر لحاظ سے یہ ایک بہترین قانون ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف جماعتیں اس سے اس قدر برہم کیوں ہیں؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ چیپٹر ایک میں ٹرانس جینڈر کی جو تعریف پیش کی گئی ہے اس میں ہلکا سا جھول دکھائی دیا جس کے تحت لوگوں کا ماننا یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی خود ساختہ جنس کی تعریف کرے گا اسے نادرہ سے لیگل کروائے گا اور ہم جنس پرستی کرے گا۔ قبلہ! اس ملک میں جتنی ہم جنس پرستی جتنی آسان ہے اور جس نوعیت کے تعلیمی اداروں سے اکثر اس کی خبریں ملتی ہیں۔ میرے نزدیک خواجہ سراؤں کو جنسی بدلنے کے جھنجھٹ میں پڑنے کی بجائے بس داڑھی لمبی کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسرا یہ کہ مرد جنس بدل کر عورت بن جائیں گے، ارے بھائی آپ کے ملک میں عورت دفاتر میں ہراساں ہوتی ہے، عزت کے نام پہ مار دی جاتی ہے، حد تو یہ ہے کہ مری ہوئی قبر سے نکال کے زیادتی کا نشانہ بنائی جاتی ہے تو آپ ہے کہ یہ کہ مردوں کو عورت بننے کا آخر فائدہ ہی کیا ہے؟
اگلا مسئلہ ٹرانس جینڈر اور انٹر سیکس کی تعریف کے حوالے سے دیکھنے میں آیا ہے اس سلسلے میں سرکار کو چاہیے کہ چند ضروری ترامیم کر کے اس قانون کے نفاذ کو یقینی بنائے۔ اور ہمیں بحیثیت انسان خواجہ سراؤں کو احترام دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے لیے تعلیمی اداروں کی راہیں ہموار کرنے کی ضرورت ہے، تب جا کر کہیں ایک پر امن معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے گا۔


بہت خوب!