’جیل بھرو تحریک‘ عمران خان کی مایوسی کا اعلان ہے!


تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بدھ سے ’جیل بھرو‘ تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ باقاعدہ تاریخ کا اعلان کرنے کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اس نئے سیاسی ہتھکنڈے سے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس نام نہاد جیل بھرو تحریک کو کیسے آگے بڑھایا جائے گا۔ عمران خان کے ذہن میں جو بھی خاکہ ہو لیکن ان کا یہ نیا اعلان اور اب اس پر عمل کرنے کے پروگرام سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی طور سے زندہ رہنے کے لئے ان کے پاس آپشنز کم ہو رہے ہیں۔

جیسا کہ شہباز حکومت سے بھی کہا جاتا ہے کہ ملک گوناں گوں مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ صورت حال اس حد تک خراب ہے کہ وفاقی کابینہ کے سینئر وزیر بھی اپنی تقریروں میں اعتراف کر رہے ہیں کہ ملک درحقیقت ڈیفالٹ کرچکا ہے۔ دنیا کا کوئی مالیاتی ادارہ یا ملک فی الوقت پاکستان پر اعتبار کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ روز افزوں مہنگائی اور سنگین ہوتے سیاسی بحران کے دوران کم از کم یہ تو کیا جاسکتا ہے کہ حکومت اور اس کے ارکان تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں اور غیر ضروری بیان بازی یا ملک میں سیاسی نفرت پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

اسی طرح تحریک انصاف کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر نے اور یہ سوچنے کی بجائے کہ عمران خان کو کیسے اور کس الزام میں گرفتار کیا جائے یا انہیں کیسے نا اہل قرار دے کر سیاست سے نکال باہر کیا جائے، اگر شہباز شریف سمیت حکومت میں شامل سب لوگ تندہی سے صرف ملکی معاشی و سماجی مسائل کی طرف توجہ دیتے تو کم از کم ملک میں سیاسی ہیجان ختم کیا جاسکتا تھا۔ لیکن تحریک انصاف کی طرح حکومتی پارٹیاں اور ان کے نمائندے بھی حالات کی سنگینی کا اندازہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

سب پارٹیوں کے سیاست دانوں نے یہ طے کر رکھا ہے یا وہ اس شدید غلط فہمی کا شکار ہیں کہ اشتعال انگیز بیانات، مخالفین کی کردار کشی اور جب موقع ملے تو مدمقابل کو ہراساں کرنے کی کوشش ہی سب سے تیر بہدف سیاسی طریقہ ہے۔ حالانکہ سیاست کی بجائے ملک بچانے کا دعویٰ کرنے والی حکومت اگر واقعی اس تاریخی بحران میں ملک کی قیادت کا حق ادا کرنا چاہتی ہے تو سے پارٹی سیاست، ہار جیت، انتقام و دشمنی سے بلند ہو کر ٹھوس اقدامات کرنے اور معاشرہ کی تعمیر اور عوام کی تشفی کے لئے کوششیں کرنی چاہئیں۔

کچھ اسی قسم کی گزارش عمران خان سے بھی کی جاتی رہی ہے۔ کہ سازش، احتجاج، لانگ مارچ، بائیکاٹ اور روزانہ خطابات سے پیدا کیے گئے ہیجان سے باہر نکلنے اور ملک و قوم کو درپیش مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن عمران خان ایک ایسے وقت میں تمام سیاسی ہتھکنڈے آزمانے پر تلے ہوئے ہیں جب پاکستان کسی حد تک زندگی و موت کی جنگ میں مصروف ہے۔ قومی اسمبلی میں منی بجٹ کا معاملہ منظور نہیں ہوسکا اور اگر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے نہ پا سکا تو اسٹیٹ بنک کے پاس بیرونی ادائیگیوں کے لئے وسائل موجود نہیں ہیں۔

اس صورت میں پاکستان کو حقیقی ڈیفالٹ کا سامنا ہو گا۔ یہ کہنا آسان ہے کہ جب عملی طور سے ملک قلاش ہو چکا ہے تو ساورن ڈیفالٹ کرنے سے کیا فرق پڑ جائے گا۔ موجودہ حالات میں عوام کی مشکلات میں ضرور اضافہ ہوا ہے لیکن ریاست کا اعتبار اس حد تک قائم ہے کہ وہ اپنی غیر ملکی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کا ارادہ و عزم رکھتی ہے اور ان کی تکمیل کے لئے ہمہ قسم کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ لیکن ساورن ڈیفالٹ کی صورت میں یہ بھرم ختم ہونے سے جو قیامت برپا ہوگی، اس کا قیاس کرنا بھی مشکل ہے۔

ریاست پاکستان کے دیوالیہ ہونے سے نہ صرف درآمدات کا سلسلہ بند ہو جائے گا، مہنگائی کا ایک ناقابل یقین طوفان آئے گا اور تمام ریاستی ادارے بے بس ہو کر رہ جائیں گے بلکہ انتشار اور بدامنی کی ایسی کیفیت بھی پیدا ہو سکتی ہے جس میں فوج سمیت ملک کا کوئی بھی ادارہ محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ صورت حال خانہ جنگی سے لے کر ملک کے حصے بخرے ہونے تک کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ باتیں کھلے اور صاف لفظوں میں کہنے کی ضرورت یوں محسوس ہو رہی ہے کہ صرف سیاست دان ہی نہیں بلکہ ریاست کا کوئی بھی ادارہ ان حالات کو سمجھنے اور اس شدید پریشان کن صورت حال سے بچنے کے لئے اجتماعی کاوش کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہ مزاج عدالتوں میں دیکھے جانے والے رویے سے لے کر میڈیا کی سنسنی خیزی اور سیاست دانوں کی غیر ذمہ داری تک ہر جگہ پر نمایاں ہے۔

عمران خان نے آج نہایت فخر سے صدر عارف علوی کی طرف سے حکومت کے مالیاتی آرڈیننس پر دستخط نہ کرنے کی تعریف کی ہے۔ گویا انہیں اس بات سے غرض نہیں ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ ہو سکتا ہے اور اس کے جلو میں ایک قیامت کا منظر نامہ پاکستانی عوام پر مسلط ہو سکتا ہے بلکہ اس بات کی خوشی ہے کہ شہباز حکومت کو مزید پریشانی، ہزیمت اور شرمندگی کا سامنا ہو کیوں کہ اسی میں عمران خان کی کامیابی ہے۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سے عمران خان کے ہر اقدام کا مقصد بحران و ہیجان میں اضافہ کرنا رہا ہے۔

وہ چاہتے ہیں کہ سیاسی تنازعہ جاری رہے تاکہ وہ خود کو ہیرو اور مخالفین کو ولن کے طور پر پیش کرتے رہیں۔ لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ جب ڈوبتے جہاز کے بوجھ میں اضافہ کر کے اس کی تباہی کا اہتمام کیا جائے گا تو ایسے میں ہر وہ شخص ولن ہی کہلائے گا جو حالات سنبھالنے میں کردار ادا کر سکتا تھا لیکن اس نے کسی گمراہی کی وجہ سے اس سے گریز کیا۔ پاکستان کو نقصان پہنچا تو عمران خان کا نام اسے تباہ کرنے والوں میں سر فہرست ہو گا۔

عمران خان کی کل سیاست فوری انتخابات تک محدود ہو کر رہ چکی ہے۔ اب جیل بھرو تحریک کا اہتمام بھی حکومت کو مجبور کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے تاکہ وہ فوری انتخابات کا اعلان کرے۔ تاہم عمران خان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ موجودہ حالات میں جو انتخابات منعقد ہوں گے، وہ کیوں کر ملکی مسائل حل کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کی وجہ سے پاکستان دنیا میں بدنام ہو رہا تھا اور متعدد دوست ممالک سخت نالاں تھے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت نے ان تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ تاحال اس کا کوئی عملی ثبوت تو دیکھنے میں نہیں آیا لیکن اس وقت یہ ہمارا موضوع گفتگو نہیں ہے۔ بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ عمران خان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی وجہ سے پاکستان کو غیر معمولی نقصان پہنچ رہا ہے لیکن وہ یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ وہ جس نقصان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اس کے بیشتر عوامل کا تعلق عمران خان اور تحریک انصاف کی حکمت عملی سے ہے۔

عمران خان کی اس بات کو اگر من و عن مان لیا جائے کہ انتخابات ہی موجودہ مسائل کا حل ہیں تو انہیں یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ انتخابات میں خواہ کوئی بھی نتیجہ سامنے آیا، وہ اسے خوشدلی سے قبول کریں گے۔ ان کا سیاسی رویہ نشاندہی کر رہا ہے کہ وہ انتخابات کو درحقیقت تحریک انصاف کو اقتدار دینے کی اصطلاح کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اگر نام نہاد انتخابات سے یہ مقصد حاصل نہ ہوسکا تو عمران خان اسے دھاندلی قرار دے کر انتشار اور خلیج پیدا کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

عمران خان فوری انتخابات چاہتے ہیں لیکن جس ادارے نے یہ انتخابات منعقد کروانے ہیں اور جن قوانین کے تحت ملک میں انتخابات منعقد ہوسکتے ہیں، انہیں ان پر بھروسا نہیں ہے۔ بلکہ وہ چیف الیکشن کمشنر پر ہمہ نوعیت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ فوج اب تک غیر متنازعہ ادارہ تھی۔ عمران خان نے اسے مکمل طور سے متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ وہ اپنے بیانات اور اقدامات سے فوج پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے اگرچہ بظاہر سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن ان کا اصل ہدف موجودہ فوجی قیادت ہے جس سے وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ اسے عمران خان کی حمایت میں کھل کر سامنے آنا چاہیے اور موجودہ حکومت کا ’بائیکاٹ‘ کرنا چاہیے تاکہ وہ انتخابات پر مجبور ہو جائے۔ فوج پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لئے ہی عمران خان نے ملک میں حال ہی میں ہونے والے دہشت گردی کے ہر واقعہ کے بعد عسکری اداروں کو نشانہ بنانا ضروری سمجھا ہے۔

ان حالات میں عمران خان خود ہی بتائیں کہ انتخابات کیوں کر ان کی سیاسی خواہشات کی تکمیل کا سبب بنیں گے۔ انہیں فی الوقت چونکہ عدالتوں سے مسلسل ریلیف مل رہا ہے جس کا وہ سیاسی فائدہ بھی حاصل کرتے ہیں، اس لئے وہ کسی حد تک عدالتوں کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ لیکن جس روز انہیں اندازہ ہوا کہ عدالتوں میں ان کے ’عاشقین‘ کی بجائے میرٹ پر فیصلہ کرنے والے ججوں کو اختیار حاصل ہو رہا ہے تو ان کی توپوں کا رخ فوری طور سے عدلیہ کی طرف ہو جائے گا۔ عمران خان کو جان لینا چاہیے کہ دریں حالات انتخابات شاید ان کے سیاسی عزائم کی تکمیل کا راستہ نہ بن سکیں بلکہ انتخابات ان کی سیاست کا قبرستان بھی بن سکتے ہیں۔

ان حالات میں وہ ایسے انتخابات کے لئے جیل بھرو تحریک شروع کرنے والے ہیں جن کے نتیجہ میں صرف وہی کامیاب ہوں۔ ملک کی کوئی سیاسی پارٹی یا ادارہ انہیں یہ ’تحفہ‘ دینے پر تیار نہیں ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے انہوں نے اپنے سابقہ محسن جنرل باجوہ کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے، اس کی روشنی میں کوئی دوسرا ویسا ہی ’محسن‘ بننے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔ یوں بھی ایسی جیل بھرو تحریک کون سا مقصد حاصل کرسکے گی جس میں قائدین تو اپنے آرام دہ گھروں میں رہنا چاہتے ہیں لیکن کارکنوں کو جیل بھرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔

بہتر نہ ہوتا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے سارے قائدین عدالتوں سے حاصل کی گئی ضمانتوں کو واپس کر کے گرفتاریوں کا آغاز کرتے اور اپنے کارکنوں پر یقین رکھتے کہ لیڈر کے ایثار کے بعد وہ خود بھی گرفتاریاں دیں گے۔ عمران خان کا عالم تو یہ ہے کہ وہ اپنے کارندوں کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ کی ایک پیشی سے بچنے کے لئے درجنوں جھوٹ بولنے پر تیار رہتے ہیں۔

کوئی حکومت کسی شہری کو کسی قانون شکنی کے بغیر گرفتار نہیں کر سکتی۔ عملی طور سے جیل بھرو تحریک کا یہی مقصد ہو گا کہ تحریک انصاف کے کارکن قانون ہاتھ میں لیں گے تاکہ حکام انہیں گرفتار کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ سوچنا چاہیے کہ اقتدار کے لئے قانون شکنی کو جائز ہتھکنڈا سمجھنے والا لیڈر اس ملک میں کیسے قانون کی حکمرانی نافذ کرے گا؟

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali