زبان کون سی ہو؟

رابطہ کی بنیاد ایسے لفظ بنتے ہیں جن کا لہجہ اور معنی مخاطب کو سمجھ آجائیں۔ انسان اس مقصد کے لئے ابتدا سے ہی ایک یا اس سے زیادہ زبانوں کا سہارا لیتا آیا ہے ہر علاقے اور وہاں کے رہن سہن کا ایک تعارف زبان بنتی ہے یہی زبان زندگی گزارنے کے لئے معاون ثابت ہوتی ہے۔ بچہ جب ہوش سنبھالتا یہ بلکہ کچھ پیچھے جائیں تو اپنے وجود کی تکمیل کے مراحل کے دوران ماں کی آواز سے کسی حد تک شناسائی حاصل کرچکا ہوتا ہے اردگرد کی دنیا سے اپنا تعلق بنانے میں ماں کی گفتگو اس کی زبان بہت زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے وہ پہلا لفظ بھی ماں کے بولے الفاظ میں سے بولتا ہے یہیں سے اس کا زبان سے تعلق اور رشتہ استوار ہوتا ہے۔ وہ دنیا سے سب کچھ اسی زبان کی بدولت سیکھتا ہے۔ انہیں لفظوں کے سہارے آگے بڑھتا ہے۔
مادری زبان کا انسان کی شخصیت پر ایک گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہ حقیقت مسلمہ اور طے شدہ ہے کہ آگے چل کر چاہے وہ جتنی مرضی زبانوں پر عبور حاصل کر لے اس کی بنیاد بنانے والی وہی زبان ہوتی ہے جس سے پہلا تعارف بنتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ اصول رائج ہے کہ مادری زبان میں ابتدائی تعلیم دی جائے کیونکہ اس میں اپنا پن اور ایک واقفیت پائی جاتی ہے۔ کسی دوسری یا انجان زبان کو اپنانے میں دقت کے نتیجے میں رابطے کا فقدان واضح طور پر ایک بڑی رکاوٹ کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔
ہمارے ہاں سب زیادہ بولنے والی زبان ایک المیے سے دوچار ہو کر گمنامی اور شناخت کی تلاش میں چلی گئی۔ مختلف علاقوں کے رابطے کے لئے موجود زبان کے تعاقب میں بڑی مادری زبان کہیں کھو سی گئی۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے کہ پنجابی بولی نہیں جاتی لیکن اس کے استعمال سے گریز کی مصلحت پسندی نے اس زبان سے دوریاں بڑھا دی ہیں۔ تعلیم تو کبھی ملی نہیں اس پر کام کرنے والوں کو بھی بہت مخالفت کا سامنا ہے یہی سلوک کم وبیش دوسری مادری زبانوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا ہے۔
ایک الگ اور بہتر شناخت نئی نسل کے اچھے مستقبل کی خواہش کو ذہنوں پر سوار کر کے رابطے کی دوسری زبانوں کی انگلی پکڑ کر چلنے کی سوچ نے کسی ایک جگہ ٹکنے نہیں دیا۔
آج صورتحال کچھ ایسی ہے کہ انگلش اردو اور اپنی مادری زبانیں بولتے ہیں مگر کسی ایک کا مکمل تعارف نہیں ہے۔ یہ بات اکثریت کی ہے مطلب کم پڑھے لکھے اور ناخواندہ افراد۔ دیہی پس منظر کے حامل تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اکثریت اپنی الگ تعلیم یافتہ پہچان کے حصول کی خاطر مادری زبان سے اظہار لاتعلقی اختیار کیے ہوتے ہیں انہیں مادری زبان سے کوئی سروکار نہیں وہ کئی بنیادی الفاظ سے بھی ناواقف ہوتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ان کی دیگر زبانوں سے آشنائی بھی واجبی ہوتی ہے۔ اس سب کے نتیجے میں زیادہ لوگ ایک ادھوری پہچان کے ساتھ زندگی کے شب و روز گزار رہے ہوتے ہیں۔
مادری زبان کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جدید دور تقاضے پورے کرنے کے لئے میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر بھی مادری زبان یا چند لفظوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ مطلب اس کی قبولیت سے انکار نہیں کیا جاتا۔ اس زبان میں فلمیں اشتہار تیار کیے جاتے ہیں یعنی لوگ بہتر انداز میں ان لفظوں کو رابطے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
مادری زبان سے جہاں فرار اختیار کیا جاتا ہے وہیں اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال بھی کرتے ہیں نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ دیسی چیزوں کا استعمال بہت زیادہ ہو گیا ہے جن میں ثقافت رنگ بھی پایا جاتا ہے دانستہ طور پر مادری زبان سے گریز کی ریاستی سطح کی پالیسی اپنانے کی ہر دور میں شدید مخالفت کی گئی لیکن ان طبقات کو کبھی احساس نہیں ہو پایا کہ اس محرومی کے ساتھ کتنا نقصان ہوتا ہے۔
اپنے آپ سے فرار کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے یہ احساس کسی رابطے کی زبان کے ذریعے کرتے ہوئے ہو رہا ہے۔ وجہ یہی ہے کہ کسی ایک زبان سے نہیں تمام ماں بولیاں ایک جیسے سلوک کا شکار ہیں۔ انہیں نہ بولنے والے کسی اور کا نہیں اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔

