گزشتہ چند سالوں کی طرح سال رواں میں بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی یوم منایا جا رہا ہے۔
ہو سکتا ہو کہ یہ ہماری کم علمی ہو یا کوتاہی تاہم ہمارا خیال ہے کہ متعدد بہ پاکستانی نہ صرف مادری زبانوں کے عالمی دن سے ناواقف ہیں بلکہ جو اس دن سے شناسا ہیں ان کی بھی اکثریت شاید اس دن کے پس منظر سے نابلد ہے۔ یا یہ کہ ان کو اس کی آگاہی سے سرکاری و شعوری طور پر روکا جا رہا ہے۔ سو مختصراً اس دن کا تعارف، تاریخ و مقصد پیش خدمت ہے۔ وکیپیڈیا اردو کے مطابق:

بین الاقوامی یوم مادری زبان ہر سال 21 فروری کو منایا جاتا ہے۔ یونیسکو نے یہ فیصلہ 17 نومبر 1999 ء کو لیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سال 2008 ء کو زبانوں کا عالمی سال قرار دیا تھا۔

مادری زبانوں کا دن فروری 2000 ء کے بعد سے ہر سال منایا جاتا رہا ہے۔ یہ دن 1952 ء کی 21 فروری کی وجہ سے چنا گیا ہے، جس دن ڈھاکہ یونیورسٹی، جگن ناتھ یونیورسٹی اور ڈھاکہ میڈیکل کالج کے طلبہ پاکستان میں اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان بنانے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ پولیس نے گولی چلا کر انہیں ڈھاکہ (اب بنگلہ دیش) میں ہلاک کر دیا تھا۔ (وکیپیڈیا کے مطابق یہاں حوالہ درکار ہے مگر کیا واقعی پاکستانیوں کو بھی اس سلسلے میں کسی حوالے کی ضرورت ہے؟ )

جب کہ گوگل پر دستیاب معلومات کے مطابق:

مادری زبانوں کا عالمی دن منانے کا خیال بنگلہ دیش کی پہل ہے۔ اسے 1999 کی یونیسکو جنرل کانفرنس میں منظور کیا گیا تھا اور 2000 سے دنیا بھر میں اس کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ یونیسکو پائیدار معاشروں کے لیے ثقافتی اور لسانی تنوع کی اہمیت پر یقین رکھتا ہے۔ مادری زبانوں کا عالمی دن 21 فروری کو منانے کی وجہ یہ ہے کہ 1952 میں بنگلہ دیش میں بنگالی اور اردو زبان کے تنازعہ کے باعث چار نوجوان طالب علم ایک احتجاج کے دوران مارے گئے تھے۔

مندرجہ بالا عبارات (ہم جان بوجھ کر ان سطروں کو حقائق نہیں لکھ رہے ) سے بہ خوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں اس دن کو سرکاری سطح اور حکومتی طور پر کیوں کر نظرانداز کیا جاتا آ رہا ہے۔ جب کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف یہ دن بہ رضا و رغبت منایا جائے، اور موجودہ پاکستانی قومی و صوبائی زبانیں (جن کو علاقائی زبانیں کہہ کر یاد کیا جاتا ہے یا پھر بھلانے یا بہلانے کی کوشش؟ ) کے بحالی، احیاء اور ترقی و ترویج و فروغ کی کوشش کی جاتی۔

کیا بروہی جیسی اہم پاکستانی زبان کے خاتمے کا خدشہ اور پنجابی جیسی پاکستان کی سب سے بڑی زبان کا تنزل ہمارے لیے بہ حیثیت قوم کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟ کیا اردو جو کبھی اپنے شعر و ادب، اخبارات، رسائل اور ڈائجسٹوں کے بل پر ترقی و فروغ کے راہ پر گامزن تھی، اور اب میڈیا کے انگریزی زدہ نو سکھیوں کے ”زبانوں“ سے تباہ و برباد ہو رہی ہے، یہ ہمارے لیے کسی بھی تکلیف کا باعث نہیں؟ سندھی جو کہ دور غلامی میں بھی سندھ کی سرکاری، اس کے اہم ترین اداروں اور اسکولوں و اسمبلی کی زبان تھی، اس کی ان اداروں اور بڑے شہروں کے بازاروں و شاہراہوں و دریوار سے سے بتدریج بے قدری و بے دخلی، اس زبان کا اردو سے تنازعہ اور تناقض یا سندھ اسمبلی میں سندھی زبان میں بجٹ کی پیشکش پر نام نہاد قومی رہنماؤں اور اداروں و تنظیموں کی تنقید و تحقیر کسی بھی طور جائز قرار دی جا سکتی ہے؟

کیا بلوچی اور پشتو جیسی پاکستانی زبانوں کی ان کے اداروں، صوبائی اسمبلیوں اور اسکولوں میں عدم موجودگی کسی کے لیے بھی باعث تشویش نہیں؟

کیا چترالی، کھوہار یا بلتی سمیت کتنی ہی پاکستانی زبانیں اس کی مستحق نہیں کہ انہیں کسی نہ کسی حد تک شناخت و پرداخت کے قابل سمجھا جائے؟

ہم سمجھتے ہیں ان سب معاملات اور مسائل کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں یہ دن قومی اور صوبائی اور ہر ہر سرکاری و غیرسرکاری سطح پر منایا جانا چاہیے۔ نہ کہ اس دن کی آمد پر اس طرح سے آنکھ بند کر لی جائے کہ جس طرح بلی کبوتر کو دیکھ کر آنکھ بند کر لیتی ہے!

علاوہ ازیں ضروری ہے کہ ان حقائق اور اسباب و علل کو بھی عوام کے سامنے لایا جائے جن کے باعث مندرجہ و مذکورہ بالا خونی واقعات پیش آئے جو آخرکار مشرقی پاکستان کی علحدگی اور بنگلہ دیش کی آزادی پر منتج ہوئے۔

اگرچہ ان واقعات کی ذمہ داری سے مجموعی طور پر پورے مغربی پاکستان کو (اردو داں طبقے سمیت کسی کو بھی) بری الذمہ نہیں ٹھیرایا جا سکتا تاہم یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اردو بولنے والا طبقہ جو کہ موجودہ پاکستان میں بھی صرف 7 سے 8 فی صدی تک ہے وہ متحدہ پاکستان میں تو اور بھی زیادہ اقلیتی طبقہ ہو گا۔ تو کیا اس مختصر طبقہ کے محض زبانی۔ کلامی سیاسی یا پھر اخلاقی (؟ ) حمایت کے باعث اردو کے مقابلہ میں بنگالی یا سندھی کو اپنی ہی سرزمینوں پر بے قدر و بے دخل کرنا ممکن العمل تھا؟

اور یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگرچہ اردو کی ملک بھر میں خودرو انداز میں تعمیم و ترویج تو ہوتی رہی ہے لیکن کیا اس کی ملک بھر میں تنفیذ کا دعویٰ، وعدہ یا ارادہ واقعی منطقی اور حقیقی بھی ہے یا محض بھلاوا/بہلاوا اور مقامی و مادری زبانوں کے ترقی، ترویج، تعمیم و تنفیذ کی راہ میں ایک رکاوٹ کا ایک ہتھکنڈا اور ہتھیار؟

یہاں پر ہمیں اردو داں کی اصطلاح پر ایک منطقی اعتراض ہے کہ اردو گو طبقے کو عام طور پر اردو داں طبقہ کیوں کر کہا جاتا ہے جب کہ اردو داں تو ہر وہ پاکستانی ہے جو کہ اردو جانتا اور برتتا ہے؟

یا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی مادری زبان تو اردو تھی ہی نہیں لیکن چوں کہ ان کی اکثریت ہندوستان (بھارت) سے آئی تھی اور اردو ان کی مشترکہ زبان تھی۔ تو وہ سب اردو داں کہلائے، اور آج ان میں سے گجراتی، کوکنی اور دیگر ہندوستانی زبانیں بولنے ناداں محض اردو داں ہو کر رہ گئے ہیں اور مادری زبانوں سے نا واقف و ناشناس!

علاوہ ازیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہماری ہر قسم کی حکومتوں اور حکمرانوں کی طرح ہمارا نام نہاد قومی برقی و کاغذی میڈیا جو کہ دیگر کئی بامقصد و بے مقصد ایام پر کہ جن پر دنیا بھر کہ میڈیا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی؛ ایک ہنگامہ سا بپا کر دیتا ہے وہ اس دن کو ہلکے سے کیوں لیتا ہے؟