کنفیوزڈ ہم اور آئیڈنٹی کرائسس


پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر اس خبر سے حادثاتی طور پر واسطہ پڑ گیا جس میں نجی اسکول میں انگریزی نہ بولنے پر بچی کی استاد اور باقی ہم جماعتوں کے ہاتھوں تحقیر کی داستان تھی۔ یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ تو نہیں تھی کہ جس تیزی سے اخلاقی پستی کے مظاہرے آج کل دیکھنے، سننے اور برتنے کو ملتے ہیں۔ ان حالات میں یہ کچھ انہونا نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی دل و دماغ مکرتے ہی رہے۔ اندر ہی اندر اس بات کے جھوٹا ہونے کی امید باندھے رہے۔

لیکن ایک اور واٹس ایپ گروپ میں بھی کسی مستند رکن کی طرف سے یہی شیئر کیا جا رہا تھا۔ اور پھر چل سو چل۔ شیخ چلی کی سبھی خوش فہمیوں کی طرح میری بھی سبھی توقعات زمین بوس ہوئیں۔ لیکن تکلیف بہت ہوئی۔ بہت سے بھرم ٹوٹتے ہیں۔ استاد سے کچھ بہتر کرنے کا بھرم۔ نوجوان بچے، بچیوں سے اچھے برتاؤ کرنے کا بھرم۔ انسانیت کے زندہ ہونے کا بھرم۔ پاکستانی، مسلمان ہونے کا بھرم۔ اور اردو قومی زبان، شلوار قمیض قومی لباس، ہاکی قومی کھیل وغیرہ وغیرہ والے ساری غلط فہمیوں کا بھرم۔ یہ سارے نعرے کتابی اور مذاق اڑاتے محسوس ہوتے ہیں۔

معاشرتی علوم سے سوشل اسٹڈیز، مطالعہ پاکستان سے پاک اسٹڈیز کے درمیان اچھل کود بھی ہمارا پسندیدہ مشغلہ بنا رہتا ہے۔ ہماری حکومتیں ابھی تک یہی فیصلہ نہیں کر پا رہیں کہ ہم کدھر جائیں۔ دنیا کے سامنے قومی زبان اردو ہے۔ لیکن سرکار کی ساری خط و کتابت، معاملات ابھی تک انگریزی میں ہیں۔ سرکاری اسکول بے چارے دسویں تک اردو میں سارے مضامین پڑھا بھی دیں تو گیارہویں سے پھر سائنسی مضامین جناب انگریز کی زبان میں ہوتے ہیں۔

اب وہ غریب طالب علم جو پہلے سولہ سال اردو میں ہر چیز تیار کرتے ہیں، ذہین اور محنتی ہونے کے باوجود زبان کی تبدیلی سے نمبروں کی دوڑ میں مار کھاتے ہیں۔ کل کے قابل اب درمیانے درجے کے طلبا میں شمار ہوتے ہیں۔ کیونکہ کیمیا اب کیمسٹری، طبیعیات اب فزکس، حیاتیات اب بائیولوجی اور نباتات اب بوٹنی پڑھائی جاتی ہے۔

خان صاحب کی حکومت کو یکساں تعلیمی نظام کا بخار چڑھا تو جنرل نالج واقفیت عامہ ہو گئی اور سوشل سٹڈیز معاشرتی علوم اور ایسے دیگر مضامین بھی۔ بڑے بڑے نامی گرامی پرائیویٹ اسکولوں کو بھی کچھ نہ کچھ ماننا پڑا۔ تو نہ اردو میں استاد پڑھانے کو میسر اور نہ نیت۔ اور بچوں کا تو نہ پوچھیں کہ جنہوں نے پیدا ہوتے ساتھ اے فار ایپل، بی فار بوٹ پڑھا تھا۔ اور چوتھی جماعت تک براعظموں کو کونٹیننٹ اور سمندر کو اوشئن پڑھتے آئے تھے۔

جنہیں حقوق کہو تو کچھ سمجھ نہ آتی ہو لیکن رائٹس کہنے پر فر فر بولتے ہوں۔ جب فرائض پوچھے جائیں تو ہونقوں کی طرح آپ کی طرف دیکھیں لیکن ڈیوٹی کا لفظ آدھا آپ کے منہ میں ہو اور بچہ سب بتا دے۔ تو اس کے لئے تو یہ تبدیلی عذاب ہی تھی۔ اور چلو خیر، طالب علم اس ٹراما سے گزر کر دو سال اردو میں پڑھ بھی لیں تو کیا؟ چھٹی سے پھر سب کچھ انگریزی میں۔ اور سب سے بڑھ کر آپ سات دہائیاں گزار کر بھی اردو میں عالمی سطح پر کچھ متعارف نہیں کروا سکے۔ نہ فنون میں، نہ ڈبنگز میں، نہ سب ٹائٹلز میں اور نہ تحقیق میں۔ تو قومی اور بین الاقوامی سطح پر آپ نے کرنا سب کچھ کسی دوسری زبان میں ہی ہے۔

ہماری دکانوں کے نام انگریزی میں، ٹریفک کے اشارے، نشان سب غیر زبان میں، شادی کارڈز تک فرنگیوں کی زبان میں۔ ہمیں اپنے سے زیادہ دوسروں کو سمجھانے کی فکر ہے۔ ہماری بھلے آدھی آبادی کسی پتے، سمت کو سمجھے نہ سمجھے۔ لیکن غیر ملکیوں کو سمجھ آنا چاہیے۔ دنیا میں غیرت مند ملکوں میں جائیں تو سب کچھ ان کی اپنی زبان میں ہوتا ہے۔ جن کا ملک ہے ان کی سہولت کے لئے ہر چیز ہے۔ باقی جائیں بھاڑ میں۔

زبان کی چھوڑیں لباس کو دیکھ لیں۔ اب تو گھر گھر اسکرٹ، شارٹس پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں سب پہننا پسند ہے، جینز، پینٹ، بیک لیس، سلیو لیس، تھری پیس سوٹ وغیرہ سب کچھ۔ لیکن شلوار قمیض اب مجبوری ہے۔ خال خال ہو رہا ہے۔ اب تو شادی بیاہ پر بھی اس لباس کی قسمت کم ہی جاگتی ہے۔

اور ہاکی کا تو نہ ہی پوچھیں۔ کہنے کو ہمارا قومی کھیل ہے۔ لیکن کتنے برسوں سے بس کاغذوں میں رہ گیا ہے، نہیں معلوم۔ نہ کھیل کے میدان، نہ حکومتی پالیسی و ترجیع۔ نہ مارکیٹنگ، نہ کھلاڑیوں کی قدر و ترویج۔ اب کی نسلیں تو یہ بھی پوچھتی ہیں کہ ہاکی کیا ہے؟ کون کھیلتا ہے؟

گنوانے اور لکھنے تو اور بھی بہت کچھ ہے۔ یعنی ہمارے دستر خوانوں پر بدیسی کھانوں کی معمول کی شمولیت۔ میڈیا پر ہماری قدروں کا غائب ہونا۔ تقریبات کے رنگ کا بدلنا۔ لیکن جو بھی پہلو اٹھا لیں۔ اپنا ہی پیٹ ننگا ہو گا۔ ہمیں اپنا کچھ بھی پسند نہیں۔ نہ زبان، نہ لباس، نہ کھیل، نہ کھانے۔ سلسلہ بہت لمبا ہے۔ احساس کمتری کے شکار لوگ ان بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں اور اسی بیمار مجمعے سے ملک وجود میں آتے ہیں۔ ایسے ملک جہاں اپنی ہی زبان بولنے پر تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور تذلیل کرنے والوں کی زبان گدی سے نکالنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ جہاں اپنا ہی لباس پہننے پر آپ کو گرومڈ کی صف سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ اور سو کالڈ کلاس کو سبق سکھانے والا کوئی نہیں۔ جہاں کوے ہنس کی چال چلتے ہیں اور اپنی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

Facebook Comments HS