بوسنیا کی چشم دید کیانی (30)

سٹولک میں زندگی اسی ڈگر پر رواں تھی۔ اس برائے نام آبادی والے قصبے میں زندگی کے آثار یا تو ہفتے کی شام کو کیفے باروں میں ملتے تھے یا پھر اس اتوار کی صبح کو جب گرجا گھر میں شادی کی کوئی رسم ادا ہونا ہوتی تھی اور شرکا اس میں شرکت کے بعد قصبے کے مرکز میں واقع کیفے باروں کا رخ کرتے تھے۔ UNHCR کی طرف سے محلہ اذونووچی میں مسلمانوں کے گھروں کی تعمیر نو کا کام جاری تھا۔ ہفتہ اور اتوار کو نسلی سرحد (IEBL) پر بٹے ہوئے خاندانوں کی ملاقاتیں بھی ہو رہی تھیں۔
سٹولک میں اسٹیشن کے قیام کے بعد ہمارے قدم بھی اب یہاں بہتر طور پر جم چکے تھے۔ مقامی پولیس اور آبادی سے ہمارا رابطہ اب پہلے کی نسبت بہتر ہو گیا تھا۔ مقامی پولیس کے کچھ افسر تو اب ہمارے بڑے اچھے دوست بن گئے تھے۔ اب وہ اپنے مسائل کا ذکر بھی ہم سے بلا جھجک کر دیتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ تنخواہ کا تھا۔ ایک تو یہ پہلے کی نسبت بہت کم کر دی گئی تھی، دوسرے وہ اب ہر ماہ باقاعدگی سے ملتی بھی نہیں تھی۔ تیسرے چوتھے ماہ ایک برائے نام سی رقم تنخواہ کے طور پر اگر مل جائے تو خوش قسمتی تھی۔
ان حالات کے نتیجے میں سپاہی اور حوالدار کے درجہ کے پولیس ملازمین ایسے بھی دیکھے گئے جو بریگاوا دریا سے مچھلی پکڑ کر شام کو بازار میں بیچتے تھے۔ میں انھیں دیکھ کر اکثر سوچتا تھا کہ اگر ایسے حالات ہمیں درپیش ہوتے تو کیا ہم بھی ایسے با ظرف ہونے کا ثبوت دے پاتے۔ جواب ملتا، ہرگز نہیں کیوں کہ ہمارا معاملہ ان لوگوں والا ہے جنہیں سورہ التکاثر کے مطابق ”کثرت کی خواہش غفلت میں رکھے ہوئے ہے۔“
ان مالی مسائل سے صرف پولیس ملازمین ہی دوچار نہ تھے بلکہ ہر شہری بے روزگاری کی وجہ سے نہایت تنگ دستی کی زندگی گزار رہا تھا۔ جنگ سے پہلے شہر تو کیا کوئی قصبہ بھی ایسا نہ تھا جہاں دو چار کارخانوں کی صورت میں روزگار کے مواقع نہ پائے جاتے ہوں۔ عوام کے روزگار کا بڑا وسیلہ یہی کارخانے تھے۔ جنگ کے دوران ان کو بری طرح نقصان پہنچا تھا۔ انتقال آبادی کی وجہ سے ان کو چلانے والا تکنیکی عملہ بھی ادھر ادھر بکھر گیا تھا۔
سٹولک میں جنگ سے پہلے چار کارخانے چل رہے تھے جب کہ اب صرف ایک ہی کارخانہ رواں تھا۔ نوجوان تو تقریباً مکمل طور پر بے روزگار تھے، البتہ لڑکیوں کے پاس روزگار کا وسیلہ کیفے بار یا پھر جنرل سٹور تھے۔ کھلے مکانوں کے مکین اب صحن میں سبزیاں اگاتے تھے۔ جب کہ تھوڑی بہت مالی مدد ان افراد خانہ کی طرف سے حاصل تھی جو دوران جنگ مغربی یورپ کے ممالک کو ہجرت کر گئے تھے۔
یہ مشکلات صرف کروایٹوں ہی کا مقدر نہ تھیں بلکہ سرب اور مسلمان بھی انھی مسائل کا شکار تھے اور شاید سربوں کی حالت ان سب میں ابتر تھی۔ لیکن یہ تمام مشکلات نہ کبھی ان لوگوں کی سفید پوشی کے لیے مسئلہ بنیں اور نہ ہی ان کے کردار کے لیے خطرہ ثابت ہوئیں۔ یہاں جنگ اپنی نتائج کے برعکس کسی حوالے سے اگر مکمل طور پر بے اثر رہی تھی تو وہ بوسنیا کی عورت کا کردار تھا جس کے شفاف پن پر نہ تو بے روزگاری اثر انداز ہوئی اور نہ بھوک۔ مشکلات بڑی قوموں کی زندگی کو تو متاثر کرتی ہیں مگر ان کے طرز زندگی کو نہیں۔
اسٹیشن پر اب مانیٹروں کی تعداد پہلے سے دگنی ہو چکی تھی۔ مانیٹروں کو تین شفٹوں میں تقسیم کر دیا گیا اور ہر شفٹ کا ایک انچارج مقرر کیا گیا تھا، جسے ٹیم لیڈر کا نام دیا گیا۔ ایک شفٹ کا انچارج میں تھا۔ دوسری کا جرمن مانیٹر ڈورنگ اور تیسری کا فرانسیسی مانیٹر ژاں لیوک۔ ہر ہفتے شفٹ بدل جاتی تھی لہٰذا باری باری ہر مانیٹر کو شفٹوں کے تینوں اوقات میں ڈیوٹی سرانجام دینا ہوتی تھی۔ ان شفٹوں میں سب سے مقبول شفٹ، شام کی شفٹ ہوا کرتی تھی، جس کے دوران وقت بھی بہتر کٹتا تھا اور نجی کاموں کے لیے صبح سے دوپہر تک فراغت بھی حاصل ہوتی تھی۔
میری شفٹ میں دو فرانسیسی رولانڈ اور سرج، دو یوکرینین ولاڈی سلاد اور زونووی اور دو اردنی مانیٹر سلطان اور مراد شامل تھے۔ ہر شفٹ میں دو ترجمان خواتین کی ڈیوٹی ہوتی تھی۔ ان میں سے ایک کو کسی گشت پارٹی کے ہمراہ روانہ کر دیا جاتا تھا اور دوسری اسٹیشن پر ٹیم لیڈر، جو ڈیوٹی افسر بھی ہوتا تھا، کے معاون کے طور پر موجود رہتی تھی۔ میری شفٹ میں یہ قرعہ اکثر میرا کے نام نکلتا تھا۔ اس پر سیکا نے ایک دن چڑ کر کہا تھا لگتا ہے تمہیں ڈر ہے کہ اس سونے کو کہیں کوئی چرا نہ لے اس لیے اسے اسٹیشن سے باہر کی ہوا کم لگنے دیتے ہو۔
اس تبصرے کے بعد میرا ناراض ہو گئی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے ہر بار معاون کے طور پر اس کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح لوگ باتیں بنائیں گے۔ مجھے اچھی طرح اندازہ تھا کہ اس کی یہ ناراضگی بناوٹی ہے جب کہ درحقیقت سیکا کا تبصرہ اس کے عورت پن کے لیے اس تشفی کا باعث تھا کہ وہ اس عمر میں بھی خلقت شہر کے لیے موضوع فسانہ بننے کی خصوصیت رکھتی ہے۔
اس کے پاس مجھ سے کرنے کو ڈھیروں بے مقصد باتیں جمع ہوتی تھیں۔ اس کی گرمی کلام کا زیادہ تر موضوع نوجوان ترجمان لڑکیاں ساشکا، لوینیا، سلاجہ اور ویسنا تھیں۔ ان چاروں سے میرا، سیکا اور لیپا کی نہیں بنتی تھی۔ لہٰذا ان کے درمیان واضح طور پر دو گروپ بن چکے تھے۔ لیجا واحد ترجمان تھی جو مکمل طور پر غیر جانب دار تھی۔ وہ دونوں گروپوں کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھتی تھی۔
جیسا کہ پہلے بتایا گیا، سوائے لوینیا کے تمام ترجمان سرب تھیں اور ان کا تعلق ٹرے بینیا سے تھا۔ موجودہ نوکری کی وجہ سے ان سب کا قیام لوبینیا (Lobenia) میں ایک ہی گھر میں تھا۔ یہ ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے ایک دوسرے سے رسمی علیک سلیک بھی کم ہی کرتی تھیں۔ نوجوان گروپ تو اس کشیدگی کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن میرا، سیکا اور لیپا اس حوالے سے کافی جذباتی تھیں اور ان لڑکیوں کے بارے میں ان کی رائے کچھ ایسی تھی
ع۔ کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
میرا کے پاس ان کے خلاف ہر روز ایک نئی چارج شیٹ تیار ہوتی تھی جسے چار و ناچار توجہ سے سننا بھی پڑتا تھا اور اتفاق رائے کا مظاہرہ کرنا بھی ضروری ہوتا تھا۔ اس کے اس لگے بندھے معمول میں تبدیلی کبھی کبھار ہی دیکھنے کو ملتی تھی۔ وہ انتہائی خوش گوار موڈ میں اس وقت ہوتی تھی جب کوئی پرانا دوست اتفاقاً مل جائے۔ ایک دن ہم شام کو اسٹیشن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون اندر داخل ہوئیں۔ میرا اسے دیکھتے ہی اچھل پڑی اور اس سے لپٹ گئی۔
ان دونوں نے پٹاخ پٹاخ ایک دوسرے کو تین تین بوسے دیے اور ایک دوسری کا حال احوال پوچھنے لگیں۔ دونوں نے جب ذرا دم لیا تو میرا نے خاتون کا تعارف مجھ سے کروایا۔ وہ اس کی پرانی دوست تھی جو دوبرونک (Dobronik) سے تعلق رکھتی تھی۔ آج بڑے عرصے بعد سرائیوو جاتے ہوئے اس کا پتہ کرنے سٹولک آئی تھی۔ اس کے اتفاق سے ڈیوٹی پر ہونے کی وجہ سے دونوں کی ملاقات ہو گئی تھی۔ میں نے کہا اس بات کا اندازہ تو آپ دونوں کے ملنے کے انداز اور خصوصی طور پر پٹاخے دار بوسوں ہی سے ہو گیا تھا۔ کیا تمہیں پتہ ہے کہ سرب جب بھی کسی دوست سے ملتے ہیں تو اسے تین بوسے دیتے ہیں جب کہ کروایٹ دو۔ ہمارا یہ انداز یقینی طور پر ثابت کرتا ہے کہ ہم میل جول میں کروایٹوں کی نسبت زیادہ گرم جوش ہیں۔ میرا بولی
میری بھلا کیا مجال کہ میں آپ کی گرم جوشی کو شک کی نگاہ سے دیکھوں تاہم اگر مقابلے کی بات ہے تو اس معاملے میں آپ ہم سے بہت پیچھے ہیں۔ میں نے عرض کی
وہ کیسے؟ میرا نے حیرانی سے پوچھا
حساب کے معاملے ہم ویسے تو زیادہ اچھے نہیں سمجھے جاتے لیکن معاملہ جب بوسے کا ہو تو پھر ہم شمار کے ہر گز قائل نہیں۔ اس کے لیے مد مقابل کی عمر، جنس اور شکل بہر حال ایک اہم شرط ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بدقسمتی سے ہمیں ایسی فراخ دلی کے مظاہرے کے مواقع کم ہی ملتے ہیں جس کا گلہ سب سے زیادہ ہمارے شاعروں کے ہاں ملتا ہے۔ میں نے وضاحت کی
میں یہاں تمہاری معلومات کے لیے یہ بتانا پسند کروں گی کہ شاعری اور اپنے خاوند دونوں سے مجھے کم ہی دل چسپی ہے۔ موصوف سے کم دل چسپی کا باعث بھی ان کا شاعر ہونا ہی ہے اور ان کی شاعری کے موضوعات بھی آپ کے شعرا سے کچھ ایسے مختلف نہیں ہیں۔ لگتا ہے شاعروں کی حد تک یہ مسئلہ آفاقی ہے۔ میرا نے جواب دیا
بوسے کے موضوع پر اردو اور سرب شاعروں کے رویے میں ہم آہنگی میری سمجھ سے بالا ہے۔ اردو شاعر کے ہاں تو اس کا جواز ہے کہ اسے اس خواہش کی تکمیل کے مواقع بمشکل ہی ملتے ہیں لیکن سرب شاعر کا رویہ ایسا ہونے کا کیا جواز ہے۔ میں نے استفسار کیا
دیکھو میاں! رویہ رویہ ہوتا ہے اور اس کا مواقع ملنے یا نہ ملنے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر مواقع ہی معیار ہوتے تو چالیس کے پیٹے کے تمام یورپی مرد پارسا ہوتے۔ میرا نے باہوں کو پھیلا کر جواب دیا۔

