سماجی انصاف اور انسانی بقا
مذاہب ہو یا معاشرے کیوں انصاف کے نام پر سماج میں ظلم کے بڑھنے کا سبب بنتے ہیں؟
اس سوال کا جواب جس طرح ماضی کے انسان کے پاس نہیں تھا اسی طرح آج بھی اس سوال کا جواب موجود نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس کے جواب کے لئے کوئی تگ و دو نہ انفرادی سطح پر نظر آتی ہے نہ ہی اجتماعی سطح پر۔ ہمارے لئے انصاف کی تان ذات سے شروع ہو کر خاندان، کمیونٹی اور ملک پر آ کر ٹوٹ جاتی ہے
جبکہ انسانی بقا اسی میں ہے کہ جلد از جلد اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے ورنہ جس قدر بھیانک ہتھیار اقوام عالم کے پاس موجود ہیں بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ زمین پر انسانی بقا ہی خطرے سے دوچار ہو جائے گی
ہمیں اپنے اپنے راگ الاپنے کی بجائے بہت جلد سماجی انصاف کے لئے یونیورسل تعریف اور طریقہ کار پر متحد ہونا پڑے گا
ہم اس کرہ ارض کو اپنی نادانیوں کی بدولت اس نہج پر لے آئے ہیں جہاں ایک غلط فیصلہ سب کچھ تباہ کر دے گا۔ برباد کر دے گا پھر نہ ترقی یافتہ اقوام بچیں گی نہ ہی ہم جیسے بظاہر آزاد لیکن حقیقت میں غلام جن کی حیثیت ترقی یافتہ اقوام کے لیے تجربہ گاہ سے زیادہ نہیں
ہمیں سمجھنا ہو گا کہ لوگوں یا کمپنیوں کے مفادات کے لیے لاکھوں انسانوں کو مار دیا جانا، ملکوں کے ملک تہس نہس کر دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اصل مسئلہ ہے۔ میرا ہمسایہ امن میں نہیں نہیں تو میں کیسے امن سے رہ سکتا ہوں؟
لیکن ہمارا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ بڑی بڑی امپائرز کے مفادات کے تحفظ کے لئے حکومتی ہو یا ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں۔ رات ہی رات میں قوانین تبدیل ہو جاتے ہیں، بینک اپنی تجوریاں کھول دیتے ہیں، مرکزی بینک نوٹ چھاپنے سے بھی گریز نہیں کرتے جس کی قیمت ہم جیسے لوگ مہنگائی، بے روزگاری، افراط زر کی صورت میں ادا کرتے ہیں میڈیا ان کے لئے پروپیگنڈا کرتا ہے تو فلاحی تنظیمیں ان کی سہولت کاری
بڑے بڑے ظالم جابر مٹی کے ساتھ مٹی ہو گئے گئے ان کی قبروں کے نشان بھی ناپید ہیں۔ لیکن جس کسی نے بھی آزادی، معرفت عمل کے ساتھ انسانی فلاح میں حصہ ڈالا وہی انسانی تاریخ میں امر ہو گیا
مسلم دنیا کی عظمت بھی اس کے عالم، سائنسدان اور طبیب ہیں اسی طرح اقوام مغرب کا طرہ امتیاز بھی وہاں کے جرنیل، سیاست دان یا تاجر نہیں بلکہ ادیب، شاعر اور سائنس دان ہیں جو سماجی انصاف اور انسانی فلاح کے لئے مصروف عمل ہیں
اسی لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ انسانیت اور انسانی اقدار پھولی تو پھر علم کے لیے اپنی سرحدوں کو کھولنا ہو گا
پابندیاں یا جنگیں کبھی انصاف کی ضامن نہیں ہوتی بلکہ سماجی بہبود اور انصاف کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہیں۔
انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ فرد کی ترقی کے بغیر کوئی قوم ترقی یافتہ نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح فرد کی قدر و منزلت کے بغیر کوئی قوم قدرومنزلت نہیں پا سکتی
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مذاہب سماجی انصاف کی راہ میں رکاوٹ کیوں بن جاتے ہیں جب کہ تمام مذہبی تحریکیں دراصل سماجی انصاف کے لئے ہی اٹھتی ہیں۔
نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ پاک جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے تو سب سماجی انصاف ہی کے داعی تھے۔
سبھی بانیان مذاہب یہی بتاتے رہے کہ انسان کو زمین پر بسنے والے سبھی مخلوقات پر فوقیت حاصل ہے مگر اس کی یہ برتری لامحدود نہیں جیسا کہ انسان سمجھتا ہے۔
ہوتا یہ ہے کہ سماجی انصاف کے لئے اٹھنے والے یہ تحریکیں کچھ وقت کے بعد ہائی جیک ہو جاتی ہیں جب مذہبی تحریکیں ہائی جیک ہو جائیں تو زیادہ تباہی پھیلاتی ہیں کیونکہ مذہبی اشرافیہ کو ایک تقدس ایک احترام حاصل ہوتا ہے جب وہ اس تقدس اس احترام کو سماجی استحصال کے لئے استعمال کرتے ہیں اس وقت ان کے خلاف آواز اٹھانا مزید مشکل ہو جاتا ہے ابتدائی انسان سے لے کر آج تک یہی ہو رہا ہے
آج انسانی فہم اس معراج پر پہنچ چکا ہے جہاں شاید اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی یونیورسل لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے یوں انسانی فلاح کی اس جہد مسلسل کو کوئی منزل مل جائے


