چیٹ جی پی ٹی اور پاکستان کا اعلی تعلیمی نظام


انسان اس بات کا ہمیشہ خواہش مند رہا ہے کہ وہ ایسی ایجادات یا خود کار مشینیں سامنے لائے جو انسانوں کے مانند سوچ سکیں اور پھر اس پر عمل بھی کر سکیں۔ اسی خواہش کے تحت اب انسان نے ایسی مشینیں ایجاد کرنا شروع کر دی ہیں جو انسان کی طرح نہ صرف سوچ سکتی ہیں بلکہ اس پر عمل بھی کر سکتی ہیں۔ یہ مشینیں مصنوعی ذہانت کی حامل ہیں جو شطرنج کھیلنے سے لے کر ریاضی کے پیچیدہ سوالات کو حل کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔

بعض مقامات پر انسان کی مدد کرنے سے ایک قدم آگے اس کی راہنمائی کا فریضہ بھی انجام دینے کا کام خوش اسلوبی سے کرتی ہیں۔ مثلاً جہاز اڑانے، موسم کا حال بتانے سے لے کر ایک پر مغز اور فکر انگیز مضمون تک لکھنے کی قابلیت حاصل کر چکی ہیں۔ اس وقت ہم ایک ایسے شعوری انقلاب میں داخل ہو رہے ہیں جو سماج کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دے گا۔ اس حوالے سے نومبر 2022 ء میں ایک سافٹ وئیر چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) متعارف کرایا گیا ہے۔

اس سافٹ وئیر کے پس منظر میں موجود تربیت کار کو اس انداز میں ڈھالا گیا ہے کہ آپ جب بھی اس سے کچھ پوچھتے ہیں تو وہ پہلے سے موجود معلومات کے سیٹ کو پرکھ کر آپ کے کسی بھی سوال کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سافٹ وئیر کو محققین نے تحقیقی مضامین میں استعمال کیا تو اس نے انھیں تحقیق کا ماحصل بیان کرنے، نامکمل اور غلط جملوں کو درست کرنے، ادھورے پیراگرافوں کو مکمل کرنے سے لے کر موضوع کے بارے حوالوں کی معلومات تک فراہم کر دیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس وقت تحقیقی جرائد کے بعض مدیران نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے تحریر کیے گئے مضامین کو جرائد میں شائع نہیں کیا جائے گا۔ ظاہر ہے اس مقصد کے لیے ایک اور سافٹ وئیر کی ضرورت ہوگی جو یہ پتا چلا سکے کہ یہ تحقیقی مضمون چیٹ جی پی ٹی نے تحریر نہیں کیا۔ بالکل ایسے ہی جیسے تحقیقی مضامین کا سرقہ معلوم کرنے کے لیے سافٹ وئیر استعمال کیے جاتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی ترقی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو یہ بھی ممکن ہو گا کہ آنے والے وقتوں میں مصنوعی انسان بھی بنا لیے جائیں جو زندہ انسانوں کے مانند چلتے پھرتے نظر آئیں، ان میں اور حقیقی انسانوں میں فرق صرف اتنا ہو گا کہ انھیں نیند، تھکن، بیماری اور موت سے کوئی سروکار نہیں ہو گا۔ وہ ہر وہ کام کر سکیں گے جو انسان کر رہے ہیں بلکہ وہ کام بھی کر دیں گے جو انسان محدود ذہنی استعداد کے باعث نہیں کر پاتا۔ اسی وجہ سے مصنوعی ذہانت کو انسانی تاریخ کا دوسرا بڑا انقلاب خیال کیا جا رہا ہے۔

ماضی قریب میں جیسے یورپ میں وقوع پذیر ہونے والے صنعتی انقلاب نے انسانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں، اسی طرح دور حاضر میں مصنوعی ذہانت نے ایک تیز تر اور حیرت انگیز انقلاب کی بنیاد نومبر 2022 ء میں چیٹ جی پی ٹی (Chat Generative Pre-trained Transformer ) کے سافٹ وئیر کے ذریعے رکھ دی ہے جو کچھ ہی برسوں میں انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں داخل ہو جائے گا۔ یہ ایک طرح کا چیٹ بوٹ ہے جسے انسانوں کے ساتھ انسانوں کی طرح (فی الحال لکھ کر) بات چیت کرنے اور پیچیدہ سوالات کے جوابات دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔

جب آپ انٹر نیٹ استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو بعض ویب گاہوں پر پہنچتے ہی ایک پیغام دکھائی دیتا ہے۔ ”How can I help you؟“ اس کے نیچے ایک خالی ٹیکسٹ باکس موجود ہوتا ہے جس میں آپ سوال لکھتے ہیں تو فوراً جواب نمودار ہوجاتا ہے۔ یہ ایک خود کار پروگرام کے ذریعے ممکن ہوتا ہے جسے انٹر نیٹ صارفین چیٹ بوٹ کہتے ہیں۔ آج کے دور میں یہ کوئی نئی چیز نہیں اس کا آغاز پروفیسر جوزف ویزنبام نے 1966 ء میں ”ایلیزا“ نامی چیٹ بوٹ بنا کر کیا تھا۔

اس واقعے کو ستاون برس بیت گئے ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی کی خاص بات یہ ہے کہ اسے وکی پیڈییا سے لے کر ہزاروں اخبارات، میگزین، تحقیقی جرائد اور رسائل تک رسائی دی گئی ہے۔ مختصراً یوں کہ سکتے ہیں کہ اسے لاکھوں گیگا بائٹس پر تربیت دی گئی ہے جو دنیا کی پچانوے زبانوں میں انٹر نیٹ پر میسر ہے۔ مزید آسان اور سہل زبان میں یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ اس میں تیس لاکھ کتابوں سے سیکھا ہوا مواد موجود ہے۔

مصنوعی ذہانت میں انسانی زبانیں لکھنے، سمجھنے اور بولنے کی کوششوں کو ”این ایل پی (Natural Language Processing) کہا جاتا ہے۔ اسی سے منسلک“ ڈیپ لرننگ ”اور“ مشین لرننگ ”کی اصطلاحیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ ایسے طریقوں کا مجموعہ ہے جن کی مدد سے کوئی سافٹ وئیر بتدریج سیکھنے کے عمل سے گزرتا رہتا ہے اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے۔ ذہن میں رہے کہ ابھی تک خیال کیا جاتا رہا ہے کہ کمپیوٹر میں انسان کی طرح سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ وہ صرف اپنی معلومات کے ذخیرے میں موجود مختلف چیزوں کا آپس میں تعلق قائم کرتا ہے۔ ڈان نیوز کے مضمون نگار علیم احمد کا خیال اس بارے میں اہمیت کا حامل ہے :

”انسانوں کی طرح لکھ کر بات کرنے کے قابل بنانے کے لیے انسانوں نے اسے ابتدائی طور پر مختلف معلومات کے ذریعے تربیت دی، اس قابل بنایا کہ وہ کسی سوال میں موجود کی ورڈز کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی معلومات کے مختلف حصوں کو آپس میں یکجا کرے، مختلف جوابات مرتب کرے اور ان میں سے موزوں ترین جوابات منتخب کر کے اسے بطور آؤٹ پٹ پیش کردے۔ تربیت مکمل ہو جانے کے بعد اسے خودکار انداز سے مزید سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کے مرحلے سے گزارا گیا، جس میں انواع و اقسام کی معلومات (ڈیٹا) استعمال کی گئیں اور یوں چیٹ جی پی ٹی ایک ’ہر فن مولا‘ قسم کا ’حاضر جواب‘ چیٹ بوٹ بن گیا جو آج ساری دنیا کو حیران کر رہا ہے۔“

سر دست اس چیٹ بوٹ میں 2021 ء تک کی معلومات درج کی گئی ہیں۔ اگر آپ 2021 ء کے بعد کی معلومات اور سوالات پوچھیں گے تو یہ جواب دینے سے قاصر رہے گا۔ مذکورہ سافٹ وئیر کی صلاحیت کا پتا چلانے کے لئے تجرباتی طور پر انڈیپنڈنٹ اردو نے پاکستان کے حوالے سے کچھ سوالات کیے جن کے اس نے کسی حد تک درست جوابات دیے کیوں کہ اس کے پاس 2021 ء کے بعد کی معلومات نہیں تھیں۔ چیٹ جی پی ٹی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب اسے لانچ کیا گیا تو پہلے ہی ہفتے میں اس کو دس لاکھ لوگوں نے استعمال کیا اور اب تک کئی ریکارڈ بنا چکا ہے۔

اس کے زیادہ تر صارفین سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے طالب علم ہیں جنھیں یہ چیٹ بوٹ امتحانی مشقیں بنانے اور ہوم ورک کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ اس سے پہلے طالب علم گھنٹوں محنت کر کے اپنی اسائنمنٹس اور مشقیں گوگل سے بناتے تھے یا کتب خانوں کا استعمال کرتے تھے۔ اسی وجہ سے امریکا میں نیویارک سمیت دیگر کئی شہروں کے تعلیمی اداروں میں اس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پاکستان میں بھی یونیورسٹیوں اور کالجز کے بچے اس سافٹ وئیر کا استعمال کر رہے ہیں۔

ان میں سماجی سائنسوں اور زبانوں کے طلبا کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے لیکن، کیمیا، طبعیات، شماریات اور کمپیوٹر سائنس کے طلبا کی تعداد زیادہ ہے کیوں کہ انھیں اس سے مساواتیں حل کر نے میں فوری مدد مل جاتی ہے۔ کورونا کے بعد پاکستانی طالب علموں میں، انٹر نیٹ سے مواد حاصل کرنے کی شرح میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے۔ جہاں سے انھیں تیار شدہ مواد آسانی سے دستیاب ہو جاتا ہے اور چیٹ جی پی ٹی اس میں ایک نیا اضافہ ہے۔

پاکستانی طالب علموں میں اس کا منفی استعمال ان کی تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر سکتا ہے۔ انٹر نیٹ سے حاصل شدہ مواد کی چوری کو پکڑنے کے لیے اساتذہ ”Turnitin“ سافٹ وئیر استعمال کرتے ہیں لیکن جب گوگل کی معلومات کو طالب علم مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر جی پی ٹی سے پروسس کر کے پیش کریں گے اسے پکڑ نا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ کیوں کہ یہ ایک لینگویج ماڈل ہے اور انسانوں کی طرح رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ آج کے میقاتی نظام تعلیم میں زیادہ تر طالب علم سیکھنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ ”سی جی پی اے“ حاصل کرنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔

”سی جی پی اے“ کے خود غرضانہ نظام سے انھیں اوپر اٹھا کر، اس کے منفی استعمال سے روکنا مشکل تو کیا، اس وقت تک جب کوئی نیا سافٹ وئیر سامنے نہیں آتا، ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں پہلے سے ہی رو بہ زوال تعلیمی نظام کا مستقبل کیا ہو گا؟ حالاں کہ ترقی یافتہ ممالک اس سے زراعت کے شعبے میں آگاہی پھیلانے، زلزلے اور سونامی کی پیش گوئی اور جینیات میں ترقی کے لیے استعمال میں لانے کا سوچ رہے ہیں جب کہ ہمارے ہاں کا صارفی معاشرہ اس کا عادی ہونے جا رہا ہے جہاں تخلیقیت اور دریافتوں کا سلسلہ پہلے ہی مخدوش ہے۔

Facebook Comments HS