میں، وہ اور غلامی

وہ کہاں گلبرگی معاشرے کی پیداوار ماں کے پیٹ سے آزادی اظہار رائے کی تربیت لے کر آئی تھی اور کہاں میں لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا سطحی سوچ کا حامل۔ خدا خدا کر کہ ترقی پذیر اضلاع کے کوٹے پہ یونیورسٹی میں داخل ہوا لڑکا!
میں ہمیشہ کا دماغی طور پر الجھا ہوا شخص اس کو اپنی پارسائی جتانے کے لئے حیا ڈے کی اہمیت بتا رہا تھا۔
اور وہ ہمیشہ سے آزاد خیال اور ارادے کی پختہ اندر باہر سے ایک جیسی۔ ہمیشہ کی طرح مجھے مسجد و قحبہ خانے کے درمیان پھنسا ہوا دیکھ مدد کرنے کے لئے آ گئی تھی۔
پتہ ہے بات کیا ہے؟
وہ سمجھانے کے انداز میں گویا ہوئی۔
یہ جو معاشرے ہیں نہ۔ انہیں افراد بناتے ہیں۔
اب جس طرح کے افراد ہوں گے اسی طرح کا معاشرہ وجود میں آئے گا۔ حکمران بھی ویسے ہی ہوں گے ۔ پالیسیاں بنانے والے بھی وہی لوگ ہوں گے ۔
اور جو ہمارا معاشرہ ہے نہ!
یہ تین طبقوں میں تقسیم معاشرہ ہے۔
ان میں دو طبقے انتہاؤں پر ہیں اور ایک ان کے درمیان پستا ہوا۔
پہلا طبقہ:
یہ وہ طبقا ہے جو خود کو آزاد خیال کہلوانا پسند کرتا ہے۔ دنیا بھر میں جس کام کی بحیثیت معاشرے مخالفت ہوتی ہو یہ اسی کام کو کرنا پسند کرتا ہے۔ اس گروہ میں پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے باقی دونوں طبقوں کو وہ ان پڑھ جاہل سمجھتے ہیں۔ اس طبقے کو یہ لگتا ہے کہ وہ آزاد خیال ہیں اور آزاد ہیں۔ لیکن ایسا صرف انہیں لگتا ہے۔
دوسرا طبقہ:
یہ اول الذکر طبقے کو اکثر منکر یا ملحد قرار دیتے ہیں۔ پہلے سے محدود طبقے کو مزید تقسیم کرنے میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو غلط اور خود کو داعی حق کہتا نظر آتا ہے۔ یہ بھی خود کو آزاد سمجھتے ہیں۔ لیکن ایسا صرف انہیں ہی لگتا۔
تیسرا طبقہ:
یہ تیسرا طبقہ تم جیسے منتشر الخیال لوگوں پر مشتمل ہے جو زندگی پہلے طبقے کی طرح جینا چاہتا ہے لیکن ثانی الذکر سے رشتہ بھی قائم رکھنا چاہتا ہے۔ جو بیک وقت مذہبی بھی ہونا چاہتا ہے اور کہیں نہ کہیں آزاد خیال بھی کہلوانا چاہتا ہے۔ اور پتہ تم دھتکارے ہوئے لوگ ہو کوئی طبقہ بھی تمہیں اپنے لائق نہیں سمجھتا۔ مگر اس سب پہ ستم تو یہ ہے کہ تم لوگ بھی خود کو آزاد سمجھتے ہو۔
اب میں تمہیں حقیقت بتاتی ہوں اصل میں ہم سب لوگ یعنی یہ سبھی طبقے اپنے اپنے طور پہ ذہنی غلامی میں مبتلا لوگ ہیں۔ یہ خود کو آزاد کہتے ہوئے لوگ دراصل طبقاتی، ذہنی غلامی اور احساس کمتری میں پستے ہوئے لوگ ہیں۔ اور ان میں سب سے مظلوم دوسرے طبقے کے لوگ ہیں جو پیدا ہونے سے مرنے تک صرف جگہ پانے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔
بات کچھ حد تک میری سمجھ میں آئی لیکن میں خود کو ذہنی غلام ماننے پہ رضامند نہ ہوا۔
میں نے کہا کہ اصل غلام تو تم لوگ ہو اپنے ورثہ اور مذہب کو چھوڑ کر غیروں کی شعار اپناتے ہو۔ تعلیمی اداروں میں کہیں ویلنٹائن ڈے تو کبھی بالی وڈ ڈے جیسے دن مناتے ہو۔ یہ ہے اصل غلامی کہ خود کو دوسروں کی طرح ثابت کرنا۔
وہ تھوڑا سا مسکرائی! اور بولی!
تو اس بات سے میں نے کب منع کیا؟
لیکن غلام تو باقی سب بھی ہیں۔ لیکن چھوڑو تم نہیں سمجھو گے!
اور واقعتاً میں سمجھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔
باقی پردے میں پڑے رہنے دینا چاہتا تھا۔

