شمالی کوریا کی میزائل ٹیکنالوجی کے ممکنہ نتائج


امریکی سامراج کے سامنے سینہ سپر ہونا جان جوکھوں کا کام ہے جسے شمالی کوریا کے نوجوان رہنما کم جونگ ال کر رہا ہے۔ حال میں وہ اپنے والد کی کرسی صدارت پہ ان کی وفات کے بعد براجمان ہوا لیکن جس تندہی اور نڈر پن سے وہ اپنے ملکی دفاع کی خاطر وہ شب و روز اگلے مورچوں میں تعینات اپنے فوجیوں کے ہمراہ دکھائی دیتا ہے اور ان کی حوصلہ مندی کا باعث بنتا ہے وہ قابل دید بھی اور قابل داد بھی ہے لگتا ہے کہیں ہمارے نعرۂ مستانہ سے متاثر ہو کر وہ ہزار سال تک گھاس کھا کر بھی لڑنے اور اپنی بقا و عزت و وقار کی خاطر دیوانہ وار کارزار حیات مستعار میں کود پڑا ہے اسے کسی قسم کے طمع و لالچ سے بہکایا نہیں جاسکتا نہ اس پہ کوئی دھونس دھمکی کارگر ثابت ہو رہی ہے۔

کل ہی ایک نیا میزائل تجربہ کر کے اس نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ 600 ایم ایم کی ملٹی بیریل راکٹ لانچرز سے فائر کیا گیا میزائل اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو قریباً 400 میل دور اپنے ہدف کو تاک کر نشانہ لگا سکتا ہے۔ یعنی وہ امریکی ہوائی اڈے کو محض چند منٹ میں مٹا سکتا ہے۔ اس تجربہ نے ہمسایوں بالخصوص جاپان اور جنوبی کوریا کو ششدر کر دیا مگر امریکی بے چینی اور تلملاہٹ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

انہیں معلوم ہے کہ تجربہ تو محض خالی میزائل کی رینج کو ٹیسٹ کرنے کی خاطر کیا گیا ہے مگر اصل ہدف پہ پوری تیاری سے لانچ کیا جائے گا اور اس ایٹمی حملہ کے نتائج و عواقب سے ہر ذی شعور بخوبی آگاہ ہے۔ اس خوفناک پیش رفت سے ایک ہی صورت میں بچت ہو سکتی ہے کہ تمام اقوام عالم باہمی عزواکرام کا اہتمام یقینی بنائیں، کوئی اپنے مقام و مرتبہ کی بنیاد پہ دوسروں کی زیر نگیں کرنے کا نہ سوچے تمام اختلافی معاملات باہمی رضامندی اور مبنی بر انصاف حل ہوں ورنہ کسی غیر رسمی جنگ کے نتائج شاید کوئی تحریر کرنے والا بھی کہیں نہ بچے۔

ستارہ شناسوں کے اندازوں کے قیادت تو خیر انتہائی خوفناک صورتحال پیش کر رہے ہیں اور دنیا کی آبادی جو لگ بھگ اس وقت کوئی 7 ارب نفوس پہ مشتمل ہے اسے مختلف النوع وجوہ پہ کم کر کے 66 کروڑ تک لا رہے ہیں۔ حقیقت کیا ہے وہ تو رب العالمین ہی بہترین جانتا ہے۔

Facebook Comments HS