چوتھے ہم ویمن لیڈر ایوارڈز کی تقریب سے صدر پاکستان سمیت اہم شخصیات کا اظہار خیال


”پاکستانی خواتین کی حوصلہ افزائی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ “ یہ اظہار خیال ہے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا جو انہوں نے چوتھے ہم ویمن لیڈر ایوارڈز کے شرکاء سے خیال کرتے ہوئے ظاہر کیا۔ ہم ویمن لیڈر ایوارڈ کے چوتھے ایڈیشن میں پاکستان اور بیرون ملک سے گیارہ قابل ذکر خواتین اور ایک متحرک مرد کو اعزاز سے نوازا گیا۔ اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقدہ ایوارڈز کی اس تقریب میں ایوارڈ وصول کنندگان کو سماجی کام ’صحت عامہ‘ انسانی حقوق ’تعلیم‘ صحافت اور فلموں کے خصوصی اثرات سمیت مختلف شعبوں میں ان کی شاندار خدمات اور کامیابیوں کا اعتراف کیا گیا۔ اس تقریب میں معزز شخصیات اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی ’آسٹریلیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر ڈیمین ڈونووین‘ بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ایچ ای ایم ڈی روح العالم صدیق ’ممبر قومی اسمبلی‘ اینکر پرسنز اور سماجی شخصیات نے شرکت جس کی وجہ سے ایوارڈز کی یہ تقریب خواتین ایوارڈز کے ضمن میں ملک کی سب سے مستند تقریب گردانی جاتی ہے۔

تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا جس کے بعد تقریب کے میزبان حمزہ علی عباسی اور صنم جنگ نے ہم نیٹ ورک کی صدر سلطانہ صدیقی کو دعوت خطاب دی۔ اپنے ابتدائی کلمات میں سلطانہ صدیقی نے صدر عارف علوی اور دیگر معززین کی موجودگی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ہم ویمن لیڈرز ایوارڈ کے آغاز کی بابت بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نیٹ ورک کے ذریعے ہم نے اپنے ’اپنے شعبوں کی نمایاں خواتین کی کامیابیوں کو پیش کرنے اور دنیا کے سامنے ان کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ سلطانہ صدیقی نے ویمن ایوارڈز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈز قومی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف شعبوں میں خواتین کی طرف سے کی گئی نمایاں پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو تبدیلی کے محرکات اور آنے والی نسلوں کے لئے متاثر کن مثالی کردار کے طور پر سراہا۔ سلطانہ صدیقی نے ان بین الاقوامی خواتین کا بھی اعتراف کیا جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں‘ اس طرح یہ ایوارڈز دنیا بھر میں خواتین کی عظمت کا احاطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم عالمی سطح پر خواتین کی حیثیت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

تقریب کے مہمان خصوصی صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے قرضوں اور دیگر اقدامات کو متعارف کرانے میں اپنی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خواتین کو تعلیم دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وسائل کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے موثر طریقے سے استعمال کیا جانا ضروری ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے تقریب میں موجود خواتین رہنماوں پر زور دیا کہ وہ رہنمائی کے کردار کو موثر انداز میں ادا کریں ’اس طرح دیگر خواتین کو ان کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنایا جائے۔ انہوں نے خواتین کو ایک دوسرے کی حمایت اور حوصلہ افزائی کرنے اور اپنے اور دوسروں کے لئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ صدر پاکستان کی متاثر کن تقریر نے ملک بھر میں صنفی مساوات کو فروغ دینے اور خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے حکومت کے عزم کی یاد دہانی کرائی۔

ایوارڈز کی تقریب کا آغاز عارف لوہار اور ان کے بچوں کی دلکش پرفارمنس سے ہوا جس کے بعد شام کے میزبان حمزہ علی عباسی اور صنم جنگ نے ہم ویمن لیڈرز ایوارڈ کی مشاورتی کمیٹی کو بشمول امینہ سید ’ریحانہ حاکم‘ امین ہاشوانی، اور ڈاکٹر ہما بقائی کی خدمات کا اعتراف کیا۔ شام کا پہلا ایوارڈ ”کھانہ گھر“ کی بانی پروین سعید کو دیا گیا جو 2002 سے پاکستان میں بھوک کے خاتمے کے لئے نہایت جانفشانی سے فعال ہیں۔ آسٹریلوی ڈپٹی ہائی کمشنر ایچ ای ڈیمین ڈونووین اور معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے انہیں ایوارڈ پیش کیا۔

تقریب کا دوسرا ایوارڈ 2013 سے 2019 تک خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی سابق چیئرپرسن اور معروف حقوق نسواں تنظیم ”شرکت گاہ“ کی سی ای او خاور ممتاز کو پیش کیا گیا۔ وہ ویمن ایکشن فورم کی بانی رکن بھی ہیں ’جس کا قیام پاکستان میں خواتین کے مساوی حقوق کے لئے کیا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ایچ ای ایم ڈی روح عالم صدیق نے پیش کیا جبکہ خاور ممتاز کے لئے یہ ایوارڈ امینہ سید نے وصول کیا۔ محترمہ کیرن آرمسٹرانگ کو مذہبی تاریخ اور ثقافت کے حوالے سے ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ایک عالمی اثر و رسوخ اور مصنفہ کے طور پر محترمہ آرمسٹرانگ کے کام نے معاشرے پر اہم اثرات مرتب کیے ۔ انہوں نے ایوارڈ دیے جانے پر ہم ویمن لیڈرز ایوارڈ کی آرگنائزنگ کمیٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنا ویڈیو پیغام بھیجا۔ پاکستان کے دو انتہائی پرتشدد محلوں لیاری اور کٹی پہاڑی میں ماؤں اور بچوں آگاہی والی تعلیم فراہم کرنے میں اپنی تنظیم کرن فاونڈیشن اور ابتدائی اسکول کے ذریعے خدمات انجام دینے والی سبینہ کھتری اگلی ایوارڈ یافتہ تھیں‘ جنہیں ایوارڈ دینے کے لئے یونائیٹڈ انڈسٹریز لمیٹڈ کی جانب سے علی ظفر اور نویرہ عدنان اسٹیج پر تشریف لائے۔ ایوارڈز اس اس تقریب کو مزید رونق بخشنے کے لئے ریشم فیض بھٹہ نے بھرپور پرفارمنس دی۔

اگلا ایوارڈ دینے کے لئے معروف اداکارہ ماورہ حسین اور جاز پاکستان کے نمائندے شعیب احسان آفتاب اسٹیج پر تشریف لائے جنہوں نے لاریب عطا کو ان کے فن کے اعتراف میں ایوارڈ پیش کیا۔ لاریب عطا ایک نوجوان وی ایف ایکس آرٹسٹ ہیں جو اسپیشل ایفیکٹس کے شعبے میں مثالی کام کرنے اور نوجوان لڑکیوں کو ان کے خوابوں کو آگے بڑھانے کی ترغیب دینے کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت کی حامل ہیں۔ اپنی ذاتی زندگی میں ایک ماں کا کردار ادا کرنے والی لاریب اپنا وقت انڈسٹری میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی رہنمائی اور کوچنگ کے لئے کے فرائض بھی سرانجام دیتی ہیں۔ اگلا ایوارڈ آمنہ نواز کے نام تھا جو انہیں دنیا کے سب سے زیادہ با اثر نیوز رومز میں صحافتی ذہانت اور استقامت کے اعتراف پیش کیا گیا۔ 2019 میں آمنہ نواز پہلی ایشیائی امریکی اور پہلی مسلم امریکی بن گئیں جنہوں نے امریکی صدارتی مباحثے کو اعتدال پسند کیا۔ آمنہ نواز کو 2023 میں پی بی ایس نیوز ہارر کی شریک اینکر نامزد کیا گیا تھا وہ پہلے مسلمان پاکستانی نژاد امریکی اور پہلی نسل کی امریکی بن گئیں جنہوں نے جمود کو چیلنج کرتے ہوئے اور رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے نیوز شاور میں اینکر کی نشست سنبھالی۔

شام کا اگلا ایوارڈ ڈاکٹر زیبا ستار کو پیش کیا گیا ’جنہوں نے تحقیق اور پالیسی سازی کے ذریعے صحت اور ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے قابل ذکر کام نے لاتعداد لوگوں خصوصاً خواتین اور بچوں پر نہایت مثبت اثرات مرتب کیے ‘ ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ ایوارڈ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان ایچ آئی ٹی آئی اور سی ای او ہم نیٹ ورک درید قریشی نے پیش کیا۔ اس کے بعد جس شخصیت کو ایوارڈ دیا گیا وہ تھیں پاکستان میں اسپیشل اولمپکس کی بانی رونق لاکھانی جنہیں معذور افراد کی وکالت اور انہیں با اختیار بنانے میں ان کے اہم کردار پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسپیشل اولمپکس پاکستان نے 400 سے زائد ایتھلیٹس اور نوجوانوں لیڈر بنائے ہیں ’5000 سے زیادہ کوچز کو سپورٹ کیا اور 6000 سے زائد معذور ایتھلیٹس کے خاندان کے افراد کو بطور رضاکار شامل کیا۔ رونق لاکھانی کے کام نے ہزاروں مختلف معذور افراد کے سننے اور پہچاننے کی صلاحیت کو بحال کرنے میں معاونت کی کرتے ہوئے ان کو درپیش مسائل کے خاتمے میں مدد کی۔ یہ ایوارڈ علینہ لودھی اور خوش بخت شجاعت نے پیش کیا۔ ایوارڈز کے دوسرے سیگمنٹ کا اختتام علی ظفر کی دلفریب اور مسحور کن پرفارمنس کے ساتھ کیا گیا‘ ’انہوں نے خواتین کے لئے ایک مخصوص ”غزل“ پیش کر کے حاضرین کا دل جیت لیا۔ تقریب کے اختتامی حصے میں انسانی ہمدردی کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں تنظیم کے غیر معمولی کام کے اعتراف میں بہبود ایسوسی ایشن کی بانی عابدہ ملک کو خصوصی کشمیر گولڈن پلیٹ پیش کی گئی۔ اس کے بعد اگلا ایوارڈ عورت فاونڈیشن کے بانی نعیم احمد مرزا کو پیش کیا گیا جو پاکستان میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے غیر متزلزل حامی ہیں۔ یہ ایوارڈ خاتون اول ثمینہ علوی نے پیش کیا‘ جنہوں نے خواتین کو با اختیار بنانے کے شعبے میں نعیم احمد مرزا کی لگن اور شراکت کی تعریف کی۔

اگلا ایوارڈ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کے نام تھا ’جو صحت عامہ کے شعبے کی ایک نامور شخصیت ہیں اور پاکستان میں متعدی بیماریوں کے مطالعہ اور تفہیم کو فروغ دینے میں پیش پیش ہیں۔ ڈاکٹر صلاح الدین نے متعدی امراض میں فیلوشپ پروگرام آغاز کیا‘ پھر متعدی امراض کے لئے پیشہ ورانہ معاشرے کی بنیاد رکھی اور منتقل ہونے والی بیماریوں پر پاکستان کا پہلا جریدہ شروع کر کے اس شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی نے ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کو ایوارڈ پیش کرتے ہوئے اور ان کی نمایاں کامیابیوں پر ان کی تعریف کی۔ تقریب کا آخری ایوارڈ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ڈاکٹر قرة العین بختیاری کو پیش کیا جنہوں نے اپنی زندگی پاکستان میں کمیونٹی کی ترقی کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ ڈاکٹر بختیاری نے بلوچستان میں انسٹی ٹیوٹ فار ڈیولپمنٹ اسٹڈیز اینڈ پریکٹسز (IDSP) کی بنیاد رکھی جو خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے۔ یہ ادارہ نوجوانوں کو کمیونٹی ڈویلپمنٹ طریقوں بشمول کمیونٹی مڈوائفری، مینجمنٹ ’آئی ٹی اور قیادت کے ذریعے با اختیار بناتا ہے۔ آئی ڈی پی ایس کے ذریعے آج تک 8,000 سے زائد نوجوان خواتین اور مرد گریجویشن کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر بختیاری نے بلوچستان بھر میں لڑکیوں کے 2,200 پرائمری اسکولوں کے قیام‘ 200,000 لڑکیوں کے اندراج ’3,000 کمیونٹی کی بنیاد پر خواتین اساتذہ کی تقرری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ میں ان کی غیر معمولی خدمات کی بنیاد پر انہیں اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ پیش کرنے کے لئے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اسٹیج پر تشریف لائے۔

ایوارڈز کی یہ تقریب مارچ 2023 میں ہم ٹی وی پر دنیا بھر میں نشر کی جائے گی جس کا مقصد پاکستان اور دنیا بھر کی ان نامور خواتین کی کامیابیوں کا اعتراف کرنا ہے جو اپنے اپنے شعبوں میں تبدیلیوں کا باعث بنی ہیں۔ ایسی خواتین دنیا بھر کی خواتین کے لئے امید ’عزم اور حوصلے کی علامت سمجھتی جاتی ہیں اور ہم ویمن لیڈرز ایوارڈ ایسی قابل ذکر خواتین کی کامیابیوں کا جشن منا کر‘ انہیں ایوارڈ پیش کر کے دیگر خواتین کو ترغیب دیتا ہے۔ ہم ویمن لیڈرز ایوارڈ کے انعقاد کا مقصد خواتین کو صنفی مساوات ’اختیارات اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔

Facebook Comments HS