چند لمحے عصمت چغتائی کے ساتھ

کچھ لوگوں کی صحبت ایسی ہوتی ہے کہ ان کی باتوں اور مسکراہٹوں سے کبھی دل نہیں بھرتا۔ ان کی محفل سے اٹھنے کو کبھی دل نہیں کرتا۔ عصمت چغتائی ایک ایسی ہی شخصیت تھیں۔ ان سے پہلی ملاقات چند سال پہلے پرانی کتابوں کے ایک سٹال پر ان کے افسانوں کی کتاب ”چوٹیں“ کی صورت میں ہوئی۔ ملاقات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اسی مجموعے کی توسط سے میں عصمت سے آشنا ہو گیا۔ ان افسانوں کو پڑھتے وقت ایسا محسوس ہوا جیسے وہ میرے سامنے بیٹھی ہے اور مجھ سے باتیں کر رہی ہے۔ یہ سماج جو چہرے پہ خوبصورت نقاب لئے گھومتا ہے اس نقاب کے پیچھے محفوظ اصل اور گھناؤنی چہرے کو پاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کبھی لحاف سے جھانک رہی ہے تو کبھی کسی بیسوا کے کوٹھے پہ بیٹھ کر اس کی مظلومیت کی داستان لکھ رہی ہے۔
اسی دن سے میں عصمت چغتائی کا شیدائی ہو گیا۔ ویسے بھی اردو فکشن میں چند گنے چنے نام ہیں جن کو میں متواتر پڑھتا ہوں ان میں عصمت چغتائی بھی شامل ہیں۔ اب جب ان کی ادھوری آپ بیتی ہاتھ لگ گئی تو لگا کہ عید کا چاند نظر آ گیا۔ کیونکہ اب عصمت مجھ سے محو گفتگو ہو گئے۔ اپنی زندگی کی داستان کہاں سے شروع کی کہاں ختم کی اس کا پتہ ہی نہیں چلا۔ جب اکیلے بیٹھ کر ان کی آپ بیتی ”کاغذی ہے پیرہن“ پڑھ رہا تھا تو پھر ایک مرتبہ ہم ساتھ ساتھ گھوم رہے تھے۔
کبھی دہلی کی گلیوں میں تو کبھی لکھنو کی دلکش سرزمین پہ۔ کبھی ٹرین میں بیٹھ کر لاہور آتے تو کبھی علی گڑھ کے کسی کالج میں نظر آتے۔ کبھی وہ مجھے کسی راجہ کے محل میں لے جاتی اور ہنس کر کہتی کہ دیکھو کیسے یہ راجہ محض اس لئے مجھ جیسی ایک پڑھی لکھی لڑکی کو اپنی بہو بنانا چاہتا ہے کہ اپنی دوسری انگریز بہو سے جان چھڑائے اور اپنے جس بیٹے کو ولی عہد بنانا چاہتا ہے اس کے لئے راہ ہموار کرے۔
اپنی آپ بیتی میں وہ اپنی تعریف کو وقت کا ضیاع سمجھتی تھی۔ اس لئے یہ صرف ان کی آپ بیتی نہیں بلکہ اس زمانے کی ہندوستان کی آپ بیتی ہے کہ اس وقت ہندوستان کی سرزمین اور اس کے باسیوں پر کیا بیت رہی تھی۔ وہ اپنا نظریہ بھی دوسروں پر تھوپنے کی حامی نہیں ہے۔ بس وہ جو دیکھتی تھی وہ لکھ لیتی۔ جو چیز ان کے افسانوں میں نظر آتی ہے وہی چیزیں آپ بیتی میں ہیں۔ بس کبھی کبھی وہ کوئی اکڑ مغلانی بن جاتی ہے اور اپنی بات منوانے میں کسی بھی قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتی۔
اسی لئے تو انہیں کبھی ادھوری عورت ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے تو کبھی تعلیم حاصل کرنے کے جرم میں انہیں گھر سے بے دخل کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ پھر ان چیزوں کو عصمت جیسی ایک حساس عورت کیسے بھول سکتی ہے۔ اردو فکشن میں میں نے دو ہی لوگوں کو اتنا حساس پایا ہے۔ ایک ہمارا منٹو اور دوسرا عصمت۔ دونوں زندگی میں بدنامی کے کئی داغ اپنی دامن پہ سجائے پھرتے رہے۔ ہر جگہ انہیں فحش نگاری کے طعنے سننے پڑتے۔ دونوں اسی معاشرے کو بے نقاب کرنے کے پاداش میں کورٹ و کچہریوں کے چکر کاٹتے رہے۔ مگر نہ کبھی پیچھے ہٹے اور نہ کبھی ان کے قدم ڈگمگائے، کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ وہ حق پر ہیں۔ آج تک اردو ادب ان جیسی حساس ادیب پیدا نہ کر سکی۔
عصمت چغتائی خود لکھتی ہیں کہ وہ بچپن سے کافی حساس تھیں۔ ایک دفعہ جب ان کے سامنے علی اصغر کو حلق میں تیر مارنے کا قصہ سنایا گیا تو وہ جی بھر کر روئیں۔ اس رات سو نہ سکیں کہ کیوں ایک پیاسے بچے کو حلق میں تیر مارا گیا تھا؟ وہ ہر کسی کے درد کو اپنا درد سمجھتی تھیں۔ اسی حساسیت نے انہیں اتنا بڑا فکشن نگار بنایا۔
دوسری بات جو انہیں سب سے زیادہ تکلیف دے رہی تھی وہ اس معاشرے میں عورتوں کی زبوں حالی تھی۔ وہ عورت اور مرد کی برابری کا حامی تھا۔ یہی بات ان کے افسانوں میں نظر آتی ہے۔ آپ بیتی میں ایک جگہ لکھتی ہیں : ”مجھے معلوم ہوا کہ میری اماں کیوں ڈرتی تھیں۔ یہ مرد کی دنیا ہے، مرد بنائی اور بگاڑی ہے۔ عورت ایک ٹکڑا ہے اس کی دنیا کا جسے اس نے اپنی محبت اور نفرت کے اظہار ذریعہ بنا رکھا ہے۔ وہ اسے موڈ کے مطابق پوجتا بھی ہے اور ٹھکراتا بھی ہے۔ عورت کو دنیا میں اپنا مقام پیدا کرنے کے لئے نسوانی حربوں سے کام لینا پڑتا ہے۔“
آج بھی کم و بیش صورتحال ویسا ہی ہے۔ آج بھی اس معاشرے میں عورتوں کو مردوں سے کمتر سمجھ کر ان سے جانوروں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس وقت پھر بھی چوراہوں پہ کسی کا ریپ نہیں ہوتا تھا اب تو یہ بھی ہو رہا ہے۔
عصمت لکھنے کو اپنی زندگی کا ایک مقصد سمجھتی تھی۔ وہ خود لکھتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی کے نہایت دلچسپ اور کٹھن لمحے لکھنے کے سہارے جھیلے ہیں۔ یہی تو بڑے ادیبوں کی نشانی ہے۔
اپنی آپ بیتی اگرچہ انہوں نے ترتیب سے نہیں لکھی ہے مگر پھر بھی اس میں ایک قدرتی ربط موجود ہے۔ اس چھوٹی سی کتاب میں وہ اپنی زندگی کے تمام پہلو بیان کر گئی ہیں۔ گھریلو معاملات سے لے کر معاشرتی مسائل اور اس زمانے کی ہندوستان کا عکس اس میں پنہاں ہے۔
عصمت خود کو کبھی عورت نہیں سمجھتی تھی۔ وہ اس بات کے قائل تھی کہ انسان کو انسان ہونا چاہیے۔ اسی بات پہ وہ اپنے گھر والوں سے لڑتی رہتی۔ ان کی مرضی کے خلاف گریجویشن بھی کیا اور روایات کو توڑ کر ایسی موضوعات پہ لکھا کہ اس وقت مرد بھی ان پر لکھنے سے ہچکچاتے تھے۔ یہی ان کی سب سے بڑی خاصیت تھی۔ وہ معاشرے سے مکمل طور پر باغی ہو چکی تھی۔ ان کا نظریہ یہی تھا کہ انسان آزاد ہے چاہے کوئی بھی ہو اسے اپنی زندگی اپنے حساب سے جینے کا حق دیا جائے۔
مجھے عصمت اسی لئے پسند ہے۔ جب کبھی خود کو معاشرتی بندھنوں میں گھرا پاتا ہوں، عصمت کو پڑھنا شروع کرتا ہوں تو پھر سے ہمت بندھ جاتی ہے۔

