”کامسیٹس یونیورسٹی اور مکالمہ کی مرتی ہوئی روایت“ پر تبصرہ


زیر تبصرہ مضمون محترم عبدالستار صاحب کا ہے جو 21 فروری کو ہم سب میں شائع ہوا ہے۔ خاکسار مضمون نگار کی روشن خیالی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہمیشہ پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مذکورہ مضمون میں چند ایسے دلائل دیے گئے ہیں جو ان کے موقف کی تو شاید حمایت کرتے ہیں لیکن صورتحال پر منطبق صحیح نہیں ہوتے یا ان کا وزن یک طرفہ ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ :

”جولی اور مارک بہن بھائی ہیں، وہ کالج سے گرمیوں کی چھٹیوں میں فرانس میں اکٹھے سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک رات وہ ساحل سمندر پر ایک کیبن میں ایک ساتھ ہوتے ہیں۔ وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اگر یہ رات وہ ایک دوسرے سے پیار کرنے میں صرف کریں تو یہ بڑا پرلطف کام ہو سکتا ہے، یہ ایک طرح سے ان کے لئے ایک نیا تجربہ ہو گا۔ جولی پہلے ہی مانع حمل ادویات استعمال کرتی تھی اور مارک کنڈوم اپنے ساتھ رکھتا تھا تاکہ حفاظتی اقدامات برقرار رہیں۔ دونوں نے بہت لطف اٹھایا اور بہت پیار کیا۔ لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ سب کسی کو نہیں بتانا اور دوبارہ کبھی ایسا نہیں کرنا۔ یہ رات ایک طرح سے ان کے لئے خاص سیکرٹ تھی اور اس نے ان میں مزید قربت پیدا کر دی“

پھر لکھتے ہیں :۔
اس پیراگراف کے بعد طلباء سے سوالات پوچھے گئے کہ
بتائیے کہ کیا دونوں نے جو کچھ کیا وہ درست اقدام تھا؟
اپنے جواب کی صورت میں مناسب دلائل بھی دیجئے؟
اور اپنے مشاہدے کی حد تک کچھ مثالیں بھی دیجئیے؟
دیکھا جائے تو
1۔ وجہ سوال کوئی نئی نہیں ہے پہلے بھی ایسے پس منظر میں سوالات پیدا ہوتے رہے ہیں۔

بحری جہاز ڈوب جا تا ہے اور بہن بھائی ایک نا معلوم جزیرے پر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انسانی جبلت اور مقدس رشتے کے درمیان تقاضے متصادم ہونے پر کس فیصلے کو فوقیت ہو گی؟

2۔ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد شرعی پابندی سے پہلے بہن بھائی ہی آپس میں شادی کرلیتے تھے۔ اب بھی جو لوگ شرعی پابندی سے آزاد کر لیں وہ اس معاملہ میں کیا رویہ اختیار کریں؟

4۔ یہ دلیل کہ :۔

”کتا تمہارا کان لے گیا ہے، موصوف نے کان کو ہاتھ لگا کر دیکھ لینے کی زحمت تو نہیں کی مگر کتے کے پیچھے دوڑ لگادی“ ۔

بے محل ہے۔ کیے گئے سوال کے اثرات سے انکار ممکن نہیں۔ مخالف جنس کو دیکھ کر اشتہا کا پیدا ہونا فطری تقاضا ہے لیکن جب کھانے اور پینے کے قواعد پر عملدرآمد تہذیب کی علامت ہے تو اسی طرح جنسی اشتہا کی تسکین کے لئے بھی کچھ قواعد ہر سماج نے بنا رکھے ہیں۔ اور قطع نظر اس کے کہ وہ دقیانوسی ہیں یا آزاد خیال، ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس پیپر میں سوال پر اپنا اپنا موقف بیان کرنا دقیانوسیوں کا بھی برابر کا حق ہے۔

5۔ یہ باتیں کہ:۔

(ا) ”سوال کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ یہ تو آزاد پنچھی ہوتا ہے“ دوسرے زاویہ سے بھی غور کرنے کے لائق ہے۔

مثلاً یوں کہیں کہ : سوال کا ہی تو مذہب ہوتا ہے جو اس کے جواب سے ہی رونما ہوتا ہے۔ جتنے مذاہب کے عقائد ہیں یہ سب سوالوں کے جوابات کا مجموعہ ہی ہیں۔ لہذا سوال کا مذہب ارتقا ہے۔

(ب) ”مہذب قومیں اپنے نوجوانوں کو سوچنا سکھاتی ہیں اور اظہار کا موقع فراہم کر کرتی ہیں، نوجوانوں کو مختلف انداز سے سوچنا اور سچوایشن کے حساب سے معاملہ فہمی کرنا اور فیصلہ کرنا سکھاتے ہیں“ ۔

یہ بنیادی طور پر درست ہے لیکن ان مہذب قوموں میں ہی کزنز کے ساتھ شادی بیاہ کی ممانعت ہے۔ اگرچہ وہ اس کی میڈیکل وجوہ بیان کرتے ہیں جو محض تخمینہ ہے۔ کزنز سے شادیوں کے نتیجہ میں جو بیماریاں پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے وہ بغیر کزنز میرج کے بھی پائی جاتی ہیں۔ البتہ اس سے پاکستانی طرز کا مافیا ٹائپ فیمیلی سسٹم جاری نہیں ہوتا۔

(ج) ساٹھ سال قبل چھٹی جماعت میں ذات پات کے فائدے اور نقصان پڑھائے جاتے تھے۔ بھارت میں آج بھی بڑی ذات کے ہندو اس بات کا دلائل کے ساتھ پرچار کرتے ہیں۔ گدھ ایک مفید جانور ہے کیونکہ وہ مردہ کھا کر ہمارے لئے صفائی کرتا ہے اور شودر ایک مفید طبقہ ہے جو دوسرے انسانوں کا گند سمیٹتا ہے۔ جبکہ ایسے سوالات دوسرے معاشروں میں حقیر شمار ہوتے ہیں۔

6۔ مضمون نگار نے سوال اٹھایا ہے جو اپنے اندر جواب بھی ظاہر کر رہا ہے لکھتے ہیں :
”کیا ہمارے ہاں جنسی انحراف کی مثالیں موجود نہیں ہیں؟

اس کا ہاں میں جواب دیا جا سکتا ہے لیکن اسی سوال کو ایکسٹینڈ کریں تو کیا ہمارے ہاں رشوت نہیں؟ ، چوری ڈاکا نہیں؟ جعل سازی نہیں؟ اس کا جواب بھی ہاں میں ہی دیا جا سکتا ہے لیکن اس ہاں کے نتیجہ میں ”اقبال جرم“ کر کے انسان سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ لہذا ”انحراف کا پایا جانا“ انحراف کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا۔

7۔ یہ سوال کہ:
”بلوغت کی باتیں بالغوں سے نہیں کرنی تو پھر کن سے کرنی ہیں؟“

جہاں تک بلوغت کی باتیں بالغوں سے کرنے کا تعلق ہے بعض بلوغت کی باتیں تو بچوں سے بھی کرنی جائز ہیں۔ اور ان کو آنے والی تبدیلیوں سے آگاہ کرنا لازم ہے۔ اور اس دور میں جنسی خیالات اور تجربات کے حوالے سے خود اعتمادی پیدا کرنی بھی لازم ہے لیکن بہن بھائی کے درمیان جنسی تعلقات کے حوالے سے یقیناً ریڈ لائن انسانی تہذیب نے ہزاروں برس کے تجربہ سے لگائی ہے اور پھر جب اس تجربہ کے معمولی نقصانات بھی سامنے نہیں آئے تو بہن بھائی کے جنسی تعلقات پر سوال کی افادیت ہی ختم ہوجاتی ہے۔ اور معقولیت کا تقاضا ہے کہ جس طرح انسان مضر ثابت ہونے والی باتوں سے گریز کرتا ہے اسی طرح لغویات (جس کا نہ فائدہ ہو اور نہ ہی نقصان ہو) سے بھی گریز کرے اور اپنا قیمتی وقت بچائے۔

8۔ محاورے کی حد تک تو مضمون نگار کی یہ بات کہ: ”تبلیغ، ترغیب اور سوال پوچھنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔“ کہی جا سکتی ہے۔ لیکن غور کریں تو سوال پوچھنے میں تبلیغ اور ترغیب دونوں شامل ہو جاتے ہیں۔ پیرس میں گزرتے ہوئے خاکسار نے بڑے بڑے عورتوں کے عریاں مجسمے دیکھ کر میزبان سے استفسار کیا کہ ان کا فائدہ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ”جن کو خواتین میسر نہیں وہ انہیں دیکھ کر دل خوش کر سکتے ہیں“۔ گوشت بھونے جانے کی خوشبو بھوک میں اضافہ کر سکتی ہے جبکہ ریڈ لائن کی وجہ سے حالت روزہ میں روزہ دار اپنی منکوحہ سے بھی جائز فعل کے تصور کو ڈھانپ لیتا ہے۔

9۔ آخری گزارش یہ ہے کہ سوال سے ہی انسان کی اندرونی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ بے شک اس سوال پر رد عمل قہر آلود تھا لیکن قہر آلود رد عمل سے سوال میں کوئی ثقاہت پیدا نہیں ہو سکتی۔ یہ سوال اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر علمی اور لغو ہی تھا۔

Facebook Comments HS