بھارت میں ہجومی تشدد: پانی کہاں مر رہا ہے؟



ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں جو تعلیم و ترقی، خوشحالی، امن و مساوات اور ہر طرح کی آسودگی کی صدی کہلاتی ہے لیکن اس کے باوجود ملت اسلامیہ ہندیہ کی حالت یہ ہے کہ وہ اکیسویں صدی میں بھی غربت، ناخواندگی، بے روزگاری اور ہجومی تشدد جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ عروج کی اس صدی میں بھی ہندوستانی مسلمان ہجومی تشدد، قتل و غارت، نا انصافی اور فسادات جیسے بہیمانہ واقعات کی زد میں ہیں۔ ماورائے عدالت قتل کے واقعات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک فرد کے جرم کی سزا پورے خاندان کو دی جاتی ہے، بنا کسی قانونی چارہ جوئی کے ہی ان کے گھروں کو مسمار کر دیا جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں راجستھان میں دو مسلم نوجوانوں ناصر اور جنید کے ساتھ ایسا ہی ہولناک واقعہ پیش آیا۔ انہیں نہ صرف یہ کہ ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ بے دردی کے ساتھ زندہ جلا دیا گیا اور پولس تماشائی بنی رہی۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جن افراد نے اس انسانیت سوز جرم کو انجام دیا ان کا تعلق بجرنگ دل سے ہے۔ راجستھان کے گھاٹمیکا گاؤں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی جلی ہوئی باقیات ہریانہ کے جس بھیوانی گاؤں سے ملی ہیں، اس کو 2017 اور 2018 کے درمیان پہلو خان، اکبر خان اور عمر محمد کے وحشیانہ قتل کا دردناک منظر دیکھنا پڑا تھا۔

ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ تشدد کی یہ کوئی پہلی واردات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی ملک کے مختلف حصوں میں ایسے دل سوز واقعات ہوتے رہے ہیں۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خبر کو جس انداز میں میڈیا میں عام ہونا چاہیے تھا نہیں ہوئی۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ میڈیا نے اس کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ حالاں کہ یہی میڈیا چھوٹے چھوٹے مسائل پر اس قدر شور بپا کرتی ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔

اس حوالے سے کچھ مقامی ویب سائٹوں میں چند سطری خبریں ضرور دیکھنے کو ملیں مگر مین اسٹریم میڈیا سے یہ خبر غائب رہی۔ اس کے پیچھے میڈیا کی جو بھی منشا اور حکمت رہی ہو، میں اس پر گفتگو کرنا نہیں چاہتا۔ تاہم سماج میں عدل و انصاف نافذ کرنے والے ادارے، عدالت اور سول سوسائٹیز کے لیے بھی یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ملک کی ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے نہتے لوگوں کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہوتا ہے اور کہیں کوئی بے چینی دکھائی نہیں دیتی۔ نہ پولس حرکت میں آتی ہے، نہ حکومت اور نہ حقوق انسانی کی دہائی دینے والے افراد ہی احتجاج کرتے نظر آتے ہیں، گویا کتے، بلی، کاکروچ یا چوہے تھے جو مار دیے گئے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ متاثرین کے گھر والوں نے جمعرات 16 فروری کو ایف آئی آر درج کرائی لیکن اس مضمون کے لکھے جانے تک ایک شخص کے علاوہ کسی کی گرفتاری یا کسی خاص کارروائی کی اطلاع نہیں ہے، حالاں کہ میڈیا رپورٹوں میں بتایا جا رہا ہے کہ جن افراد کے خلاف نامزد رپورٹ درج کرائی گئی ہے، ان کے خلاف پہلے بھی کئی معاملے درج ہیں لیکن اس کے باوجود پولس انھیں گرفتار کرنے کی ہمت نہیں کرپا رہی ہے۔ اس حوالے سے آؤٹ لک انڈیا ( 18 فروری 2023 ) اور دی وائر ( 18 فروری 2023 ) کی رپورٹوں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جن میں نامزد مجرمین کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں۔

متعدد تحقیقات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ 2014 کے بعد ہجومی تشدد کی وارداتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ ملزموں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔ نجی طور پر قائم کردہ ڈیٹا بیس انڈیا اسپنڈ کے مطابق، جس نے انگریزی میڈیا میں رپورٹوں کے مجموعے اور مواد کے تجزیے کے ذریعہ اعداد و شمار مرتب کیے 2010 تا 2017 کی مدت کے دوران محتاط ہجومی تشدد کے تقریباً 66 معاملے ہوئے۔ 2017 اس معاملے میں بدترین سال ثابت ہوا، اس سال بائیس واقعات پیش آئے جو کہ 2014 کے بعد سے کل ( 64 / 66 فیصد) کا 96 فیصد ہوا۔

ایک اور ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2014 کے بعد سے ہجومی تشدد کے واقعات (قتل کے ساتھ یا قتل کے بغیر تشدد) کی تعداد کا تخمینہ تقریباً 266 لگایا گیا ہے۔ انڈیا اسپنڈ میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ حالیہ برسوں (زیادہ تر 2015 کے بعد ) سے اب تک ہجومی تشدد کے 24 واقعات ہوئے، جس کے نتیجے میں 34 افراد کا قتل اور 2 خواتین کی عصمت دری ہوئی ہے۔ یہ کسی بھی جمہوری ملک کے لیے چونکا دینے والے اعداد و شمار ہیں، مغربی ممالک میں اتنا کچھ ہوا ہوتا تو ایک ہنگامہ بپا ہو جاتا لیکن ان سب کے باوجود ہمارے ملک میں ایوانوں سمت ہر جگہ خاموشی چھائی ہوئی ہے، بلکہ ایک رپورٹ میں تو یہاں تک انکشاف ہوا ہے کہ وزارت داخلہ کے پاس ہجومی تشدد جیسے معاملوں کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے۔

کئی معاملوں میں یہ تحقیق بھی سامنے آ چکی ہے کہ پولس اس میں براہ راست ملوث رہی ہے اور یہ کہ ہجومی تشدد کا یہ واحد جرم نہیں ہے جس میں ریاستی ایجنٹ (پولیس) متاثرین، عام طور پر مسلمانوں کے خلاف کام کرتے ہیں۔ ہاشم پورہ 22 مئی 1987 سے گودھرا 2002 تک تمام مسلم کش فسادات کے دوران اس کے کردار پر سوال اٹھائے جا چکے ہیں۔ جس میں، 50 مسلمانوں کو پروونشل آرمڈ کانسٹیبلری (پی اے سی) کے اہلکاروں نے اتر پردیش کے میرٹھ کے ہاشم پورہ گاؤں سے اٹھایا تھا۔

بعد میں متاثرین کو گولی مار دی گئی اور ان کی لاشوں کو نہر میں پھینک دیا گیا۔ 42 افراد کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ (انڈیا ٹوڈے، 31 اکتوبر 2018 ) مؤخر الذکر معاملے میں اصغر علی انجینئر نے 2002 کی اپنی ایک تحقیق میں باضابطہ طور پر فرقہ وارانہ تشدد میں ریاستی ایجنٹ کے رول کا ذکر کیا ہے اور اس پر سوال اٹھایا ہے اور دلیل دی ہے کہ ’گجرات میں پولیس نے فسادیوں کی مدد کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی‘ ۔ اسی طرح پال براس نے بھی جو سماجی تحقیق میں اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہیں علی گڑھ میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران متاثرین کے تئیں پی اے سی اور پولیس کے کردار پر روشنی ڈالی ہے، یہ تفصیلات 2014 میں شائع ان کی معروف کتاب ’دی پروڈکشن آف ہندو مسلم وائلنس ان کنٹمپریری انڈیا‘ نامی کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے۔

ریاستی مشینری (پولیس یا پی اے سی) کا اس طرح کا رویہ نہ صرف فرقہ وارانہ تشدد کے دوران بلکہ ہجومی تشدد کے حوالے سے بھی اس کے کام کاج اور مسلمانوں سے نمٹنے پر سوال اٹھا رہا ہے۔ اس سے ریاستی نظام کی نوعیت کے بارے میں بھی سوالات اٹھتے ہیں، یعنی اسے نہ صرف سیکولر بلکہ منصفانہ اور غیر جانبدار بھی سمجھا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کے مبصرین یہ کہتے ہیں کہ ہجومی تشدد میں اضافہ کے پیچھے مقتدر طبقہ ہے کیوں کہ ملک پر حکمرانی کرنے والے زیادہ تر لوگوں نے جارحانہ اور پرتشدد سیاسی نظام کے ذریعہ اپنا اقتدار برقرار رکھا یا اس پر قبضہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اقلیتوں کے خلاف تشدد کا پرچار کرتے ہوئے اپنا سیاسی کریئر بنایا ہے، جہاں ہجوم خود کو با اختیار اور مضبوط محسوس کرتا ہے۔ سیاسی طبقہ اپنی روایتی مذمت کے علاوہ متاثرین ان کے زندہ بچ جانے والے خاندانوں سے ملنے سے گریز کرتا ہے، تو یہ غلط بھی نہیں ہے۔

اس حوالے سے مبصرین کی یہ رائے بھی قوی ہے کہ حکومت اس طرح کے معاملات کی روک تھام چاہتی ہی نہیں اور ایسے افراد کے حوصلے اس لئے بھی پست نہیں ہوتے کہ ایسے عناصر کو سرکار کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جس کی متعدد مثالیں سامنے آ چکی ہیں جن میں ایسے جرائم پیشہ افراد کو ہار پہنائے گئے، نوکریاں دی گئیں اور بعض جگہوں پر سیاسی پارٹیوں میں عہدے دیے گئے۔

خلاصہ یہ ہے کہ گائے کے نام پر مسلمانوں پر حملہ یا کسی بھی طرح کے نفرت انگیز جرائم اکثریتی طبقے میں پیدا کی گئی مسلم دشمنی کی پیداوار ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی سلامتی کے مسئلے سے آگے سوچنے نہ دیا جائے۔ اس طرح کا خوفناک ماحول پیدا کر کے انہیں اتنی فرصت ہی نہ دی جائے کہ وہ سیاسی نمائندگی (جو 543 کم کر کے محض 25 مسلم ارکان پارلیمنٹ، یعنی 4۔ 60 فیصد کردی گئی) ، تعلیم (اے آئی ایس ایچ ای، 2015۔

16 کے مطابق اعلی تعلیم میں 4۔ 7 فیصد) ، اقتصادی، سماجی اور دیگر میدانوں میں ترقی پر غور کر سکیں۔ اس طرح کے اقدامات کا تسلسل سیکولرازم کے ساتھ ساتھ سماجی عدم ہم آہنگی کی مسخ شدہ تصویر کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہ نئے ہندوستان میں ایک نیا معمول بن گیا ہے۔ اس طرح کے واقعات ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘ کے تصور کی صداقت اور اعتبار پر بھی سوال اٹھاتے ہیں اور ایسے میں یہ دیکھنا بہرحال ضروری ہے کہ ’پانی آخر کہاں مر رہا ہے؟‘

Facebook Comments HS

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah