زندگی کی بے معنویت میں زندگی کی معنویت


کیا کائنات اس قدر سادہ سی ہے کہ ہم کندھے اچکا کر کسی بھی کہی، سنی یا پڑھی ہوئی کہانی یا نظریے پر ایمان لے آئیں اور اپنے شعور یا دلائل سے پر دماغ کے ساتھ دھوکہ دہی میں مبتلا ہوجائیں؟

ہماری وہی زندگی جو کبھی نوجوانی میں امیدوں اور خوابوں سے آراستہ ہو کر ایک خوبصورت منزل کی طرف گامزن تھی، جونہی مڈل ایج یا بڑھاپے کی جانب پہنچتی ہے اکثر و بیشتر یہ احساس شدت سے دینے لگتی ہے کہ روزانہ کے ایک جیسے کام کی بالآخر منزل بے معنویت، نامعقول اور اوٹ پٹانگ سی شے پر ختم ہو جائے گی یعنی حتمی انجام سوائے موت یا ضائع ہونے کے سوا کیا ہے؟ تو اس ساری محنت و مشقت کا فائدہ ہی کیا ہے جب زندگی ایک ابسرڈ سی شے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

ایسی صورت میں سوال یہی ہے کہ پھر اس زندگی کا کیا کیا جائے؟

1۔ کیا زندگی کی بے معنویت کو جان کر اور یونہی انجان ہو کر اسے گزار کر فارغ ہوا جائے اور جو سطحی یا گہرے سے رشتے اردگرد کی اشیاء اور انسانوں کے ساتھ پیدا ہوئے یا کیے گئے ہیں، ان ذمہ داریوں کو بس ایک کمٹمنٹ یا وعدہ یا عہد سمجھ کر پورا کر دیا جائے؟

2۔ یا اس حقیقت پر مسلسل غور و فکر کر کے اس خیال میں مستقل طور پر پھنس جایا جائے اور اپنی زندگی کی لا معنویت اور اس طویل کائنات میں اپنی تنہائی کو جان کر ایک مستقل دکھ، بے چینی اور گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائیں اور جب کوئی راستہ سمجھ نہ آئے تو اس بے معنویت کا علاج ایک اور مضحکہ خیز عمل یعنی خود کشی سے کر دیا جائے اور چپ چاپ زندگی سے نکل جایا جائے؟

3۔ اور نہیں تو کیوں نہ کسی بھی دیے گئے نظریے کو آنکھیں بند کر کے، ایک آسمانی خدائی مخلوق کو مان کر اور اس سے ایک اندھے ایمان کا وعدہ یا عہد وغیرہ کر کے اپنے اپنے مذہبی کمبل میں الٹے لیٹ کر ایک اچھی سی نیپ یا نیند لی جائے اور اس قسم کے پرتشدد سوالات کی برچھیوں سے خود کو بچا لیا جائے؟

مگر ظاہر ہے ان تینوں صورت حالوں میں اصل صورت حال یا حقیقت وہیں کی وہیں رہتی ہے اور اطمینان طلب جواب اپنی جگہ سوالیہ انداز میں ہاتھ پھیلائے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

قدیم فلاسفیانہ فکر میں ایپی کیورس نے حضرت عیسی کی پیدائش سے لگ بھگ تین سو برس قبل ہی اس سوال کا جواب ایک خوبصورت پیرائے میں دے دیا تھا۔ انہوں نے زندگی کے بجائے موت کو ہی سراسر بے معنویت سے تعبیر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی اور موت حقیقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کبھی بھی نہیں ہوتے ہیں۔ جب کبھی انسانوں کو موت کا تجربہ ہوتا ہے تو زندگی نہیں ہوتی ہے اور جب کوئی تجربہ بچتا ہی نہیں ہے تو موت کا خوف ہی سراسر مضحکہ خیز اور نامعقول سا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ زندگی کو ایٹمز کی اچانک خوش شکل اتفاقیہ ملاپ سے نصیب ہونے والی نعمت سمجھ کر خوشی خوشی اپنا لینا چاہیے اور اس سے قبل کہ یہ ایٹم کسی بیماری کے نتیجے میں یا اپنی بیالوجیکل دورانیہ کے نتیجے میں ڈس انٹی گریٹ ہوجائیں، کوشش کر کے اسے جسمانی اور ذہنی دکھ اور درد سے حتی المکان بچاتے ہوئے خوب ہی پرلطف انداز میں گزار دیا جائے اور ظاہر ہے ایپی کیورس کے لیے پر لطف زندگی سے مراد صرف سطحی مادی اشیا یعنی دولت، پراپرٹی یا سیکس وغیرہ نہیں تھیں بلکہ ایک پر دلائل زندگی یعنی ایک ایسی زندگی جو اعلی ترین انسانی اخلاقیات کے ساتھ اپنی زندگی کے پسندیدہ شعبوں کو انجوائے کرتی ہوئی گزاری جائے یعنی اس میں ادب، سائنس، آرٹ، موسیقی، سوشل زندگی یا دوستی اور گھومنا پھرنا وغیرہ شامل ہو۔

جدید فلسفیانہ فکر میں زندگی اور کائنات کے بے معنی تعلق اور زندگی کی بے معنویت یا مضحکہ خیزی کو البرٹ کامو نے اپنا موضوع بنایا اور کہا کہ بہتری تو اسی میں ہے کہ اپنے پر دلائل ذہن یا شعور یا خود کے ساتھ دھوکہ دہی نہ کی جائے اور اس تلخ سچائی کو اپنے پورے دل کے ساتھ گلے سے لگا لیا جائے اور قدیم دیومالائی قصے متھ آف سسفس کی طرح زندگی کی ذمہ داریوں، مسائل، دکھ درد کو کسی چٹان کی طرح کندھے پر سوار کر لیا جائے مگر اس سفر کو مسکراتے ہوئے گزارا جائے نہ کہ اسے سزا یا کسی امتحان سے تعبیر کیا جائے۔

کیونکہ زندگی کا اختتام دراصل منزل نہیں ہے بلکہ زندگی کا خوشیوں اور غموں سے بھرا ہوا سفر ہی حقیقت میں اس کی اصل منزل ہے۔

Facebook Comments HS

3 thoughts on “زندگی کی بے معنویت میں زندگی کی معنویت

  • 25/02/2023 at 1:20 صبح
    Permalink

    Human beings have a choice to become their best friends or worst enemies….to be most violent or most peaceful ….to create meaningful lives or live a life of absurdity…to commit collective suicide by civil wars and nuclear weapons or live harmoniously

    • 26/02/2023 at 2:52 شام
      Permalink

      Uuhhh

    • 27/02/2023 at 4:10 شام
      Permalink

      100 فیصد درست

Comments are closed.