دیوالیہ ہوتا ملک اور ہم بحیثیت قوم

اقوام جب زبوں حالی کا شکار ہوتی ہیں تو ہمیشہ اپنے ہی اعمال ان کی بربادی اور تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ اور ہم بحیثیت قوم تباہ ہو چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا ملک پاکستان یہ مملکت خداداد دیوالیہ ہو چکنے کے قریب ہے یا ہو چکا ہے۔ اور اس قدر سنجیدہ اور تباہ کن صورتحال کے باوجود ہمارے چال چلن، ہماری حرکتوں اور ہماری غیر سنجیدگی میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑا۔ ہماری حالت کسی بھی طور اس بادشاہ سے کم نہیں ہے کہ اس کا ملک جل کر راکھ ہو رہا تھا اور وہ بانسری بجا رہا تھا۔ اور وہ تو اکیلا بادشاہ تھا یہاں ہم من حیث القوم اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ شوق بہرائچی صاحب نے کیا خوب اس کی عکاسی کی ہے کہ
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا
شروع کرتے ہیں ملک کی ایک مشہور و معروف یونیورسٹی جو کہ پاکستان کے مانچسٹر یعنی فیصل آباد کے عین وسط میں واقع ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شعبے اور صنعت زراعت پڑھانے والی اس عظیم درسگاہ میں کہ جہاں قرب و جوار کے تقریباً ستائیس ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں۔ سمجھ تو آپ گئے ہوں گے میں بات کر رہا ہوں ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد کی جس میں چند دن قبل ہی مہنگائی اور اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے رات کے اندھیروں میں اچانک پچیس فیصد تک فیسوں میں اضافہ کر دیا گیا۔
اور پھر طلباء کے شدید احتجاج اور ضلعی انتظامیہ کی مداخلت سے بہ امر مجبوری یہ اضافہ پندرہ فیصد تک محدود کر دیا گیا۔ اور فیسوں میں یہ کمی کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ یونیورسٹی کے پاس فنڈز نہ ہونے کا مسلسل رونا روتی رہی۔ اور پھر اچانک یونیورسٹی میں پیسے کی وہ بھرمار ہوئی کہ پہلے گڑ میلہ کے نام پہ پیسا اڑایا گیا، پھر اب جشن بہاراں کے نام پہ تقریباً دس دن کی تقریبات کا اعلان کیا ہے جس میں کتوں کی ریس، گھوڑ سواری، نیزہ بازی، مشاعرہ اور دیگر پروگرامات شامل ہیں۔ انتظامیہ سے پوچھا جائے کہ اب یہ سارے فنڈز کہاں سے آن وارد ہوئے۔ یاد رہے کہ یہ وہی یونیورسٹی ہے جس میں چند سال قبل پی ایچ ڈی کے ایک بچے کو صرف اس لیے نکال دیا گیا کہ اس نے کہا تھا ”جب درسگاہیں، رقص گاہیں بن جائیں تو کہاں کی اخلاقیات اور کہاں کی تعلیمات“ ۔
اب چلتے ہیں دوسری جانب جہاں اس مملکت خداداد کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے کے نگران وزیر اعلیٰ صاحب نے سرکاری سطح پر جشن بہاراں منانے کا اعلان کیا ہے۔ محسن نقوی صاب نے سرکاری مشینری کو بطور خاص ہدایت کی ہے کہ صوبے میں جشن بہاراں کے موقع پر کتوں کی ریس اور گھوڑوں کے کھیلوں کا خاص اہتمام کیا جائے۔ اور اسی صوبے میں مہنگائی کے یہ حالات ہیں کہ سفید پوش طبقہ بہ امر مجبوری اپنے اہل خانہ سے بھی مزدوری کروانے پر مجبور ہو گیا ہے۔
غریب دو وقت کی روٹی کو ترس گیا ہے۔ آٹے کے لئے لوگوں کی جان جا رہی ہے، بے روزگاری میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے، کئی نجی اداروں نے اپنے آدھے آدھے ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔ بے یقینی کا عالم ہے، سیاستدان اپنی اپنی کرسی کے چکر میں ہیں اور نگران حکومت اپنے چند دن یادگار بنانے کے چکروں میں ہے۔ ان سب میں نقصان صرف عوام کا ہو رہا ہے۔ کیا قومیں ایسی ہوا کرتی ہیں؟
ہمارا ملک ابھی حال میں سیلاب زدہ رہا ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے اجڑے ہوئے گھر اور لوگ ابھی تک بے یار و مددگار ہیں۔ خود ہماری حکومت تو دیوالیہ پن کو رونا روتی رہی اب جو کچھ باہر سے امداد آ رہی ہے اسے اس طرح اڑایا جا رہا ہے۔ عوام کو کوئی پرسان حال نہیں ہے، کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہے کوئی نہیں ہے جو ان کے زخموں پر مرہم رکھے۔
ترکیہ بھی ایک اسلامی ملک ہے وہ بھی زلزلے جیسی تباہی سے دوچار ہوا ہے لیکن بحیثیت قوم وہ ہم سے کہیں بہتر ہیں۔ ان کی حکومت ہر طور پر اپنی عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں لگی ہے۔ ان کے اینکرز، ان کے ایکٹر اپنی سب مصروفیات چھوڑ کر عوام کی مدد میں لگے ہیں۔ یہاں تک کہ بیرون ممالک سے آنے والے رضاکاروں سے بھی ترکیے حکومت نے جہازوں کے کرائے لینے سے منع کر دیا ہے۔ ہر قسم کی سیاست بالائے طاق رکھ کر وہ لوگ اس وقت صرف ملک و ملت کی سر بلندی میں لگے ہوئے ہیں۔
صورتحال آپ لوگوں کے سامنے ہے حکومت اور سیاستدانوں کی ترجیحات آپ لوگوں کے سامنے ہیں۔ کیا ہم بحیثیت قوم مردہ ہو چکے ہیں؟ کیا ہمارے اندر غیرت، حمیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی؟ کیا عوام حکومت کی ترجیحات میں شامل بھی ہے یا نہیں۔ ان سب سوالوں کے جواب ہم جانتے ہیں۔ لیکن اس کا حل کیا ہے یہ میرا اور آپ کا ہم سب کا فریضہ ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم بہتر ہونا ہے ورنہ وہ دن دور نہیں جب دیوالیہ ہونا ایک معمولی بات ہو جائے گی۔

