مہنگائی کے رولے اور ہماری ترجیحات

آج جسے دیکھو وہ مہنگائی کا رونا روتے نظر آتا ہے۔ ہر کوئی پریشان ہے، ہر کسی کی زندگیوں میں محرومیوں کی لمبی لائن لگی نظر آتی ہے ہر کوئی رشتوں کی بے قدری کا رونا روتا ہے۔ ہر کوئی گزرے وقت کو یاد کر کے آہیں بھرتا ہے جب گھر کچے مگر دل سچے ہوا کرتے تھے۔ سب یہ مانتے ہیں کہ ان کا سکون کہیں کھو گیا ہے مگر کوئی بھی اپنے اردگرد بچھائے دکھوں کے گرداب سے نکلنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ کچے گھر سے پکے گھروں کے سفر نے ہمارے دلوں کو بھی سخت کر دیا ہے آج ہم بہت سے کام اپنی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ دنیا کو دکھانے کی نیت سے کر رہے ہیں۔
ہماری رسومات، ہمارے تہوار اور ہماری تقریبات ہمیں آپس میں ملانے ایک دوسرے کے قریب کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے دور کر رہے ہیں۔ اب ہم اپنے قریبی رشتوں کی پروا بھی دنیا داری کے لیے کرنے لگے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے متوسط لوگ اپنی شادی مرگ پہ اتنا خرچ کرتے ہیں کہ انہیں ادھار لینا پڑتا ہے۔ یہ ادھار ان کے دن رات کا سکون چھین لیتا ہے۔ ہم مغربی دنیا کے چھوٹے گھروں کی مثال دیتے ہیں۔ مگر ہم سے ہر کوئی شہر کی اچھی سے اچھی سوسائٹی میں بڑا گھر بنانا چاہتا ہے اور اس گھر میں جیسے تیسے دنیا جہاں کی نعمتیں اکٹھی کرنے کی کوشش کرتا ہے کبھی ادھار سے کبھی قسطوں سے۔
مگر اس سب سے وقتی طور نمود و نمائش کا ”چاہ“ تو پورا ہوجاتا ہے مگر پھر کئی سال اس قرض سے نکلتے گزر جاتے ہیں۔ آج ہر بندے کے پاس پندرہ سے تیس ہزار کا موبائل ہے جس میں نیٹ پیکج کے لیے ہر ماہ ہزار سے دو ہزار لوڈ کرواتا ہے اور پھر سال بعد نئے ماڈل کا نیا فون۔ مطلب اوسطاً ہر بندہ مہینے میں چار سے پانچ ہزار موبائل پہ خرچ کرتا ہے۔ بہت سے لوگ شوز ضرورت کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو دکھانے کے لیے مہنگے برانڈز سے خریدتے ہیں۔
بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ وہ آٹھ دس ہزار سے کم کا جوتا نہیں پہنتے۔ اور ایسے متوسط طبقے کے بندوں کے پاس ہر وقت پانچ سات جوڑے موجود ہوتے ہیں۔ یہی حال کپڑوں کا ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں جب پٹرول پانچ روپے کلو یا مٹن سو روپے کلو ملتا تھا۔ ہم عید کے عید نئے جوتے لیتے اور کپڑے بنواتے۔ والد صاحب سب کے لیے ایک ہی طرح کے کپڑے خریدتے۔ دیسی مرغی سارا سال گھر میں دستیاب رہتی۔ جو ہفتے میں ایک بار گھر والوں کے لیے ضرور پکتی اور جب مہمان آتے تو ان کی تواضع بھی گھر کی مرغی سے ہی کی جاتی۔
گھر کا دودھ گھر کی لسی اور گھر کی تیارکردہ چٹنی و اچار۔ مطلب مہمانوں کی آمد پہ نہ جیب پہ بوجھ پڑتا اور نہ دل پر۔ سستے میں رشتوں کی محبت بڑھتی رہتی۔ گھر میں اچھا کھانا بنتا تو پڑوس میں بھی ایک آدھ پیالی بھیج دی جاتی۔ گھر کا کوئی بچہ کھانا کھاتے نخرہ کرتا تو اسے کہا جاتا جا ساتھ والی پھوپھو یا چاچی سے سالن لے آ۔ یوں چھوٹی چھوٹی باتوں سے محلے میں بہترین ماحول بن جاتا۔ محلے کے بزرگوں کی خاص ٹوور ہوا کرتی۔
وہ گلی سے گزرتے کسی بھی بچے کے کان کھینچنے اور اسے دو چار سنا نے کا حق استعمال کرنا کبھی نہ بھولتے اور بچے مسکراتے ہوئے نظریں نیچی کیے گزر جاتے۔ مگر آج مہمان آ جائے تو گھر کی خواتین کی جیسے جان پہ بن آتی ہے۔ وہ مہمان آنے سے پہ پہلے گھر کی سجاوٹ دیکھتی ہیں پھر مہمان کے حساب سے میاں صاحب کی بازار دوڑ لگوا دیتی ہیں۔ کبھی وقت تھا کہ دوست گھروں کے باہر چبوتروں پہ بیٹھ کے گپیں لگاتے اور کسی کے گھر سے کبھی لسی آجاتی تو کبھی کہیں سے چائے کی پیالیاں۔
کبھی گڑ کی ڈلیاں تو کبھی مکئی کی روٹیاں۔ گھر کے پکے کھانے ایک ساتھ بیٹھ کے کھانے سے معاملات میں برکت پیدا ہوتی اور دل سکون میں رہتے۔ رویوں میں تحمل، برداشت اور صلح رحمی نظر آتی۔ آج ہر دوسرا بندہ دوستوں کی دعوت باہر ہوٹلوں میں کرنے لگا ہے۔ جہاں ایک کلو مٹن کڑاہی جس کے بارے ہمیں بالکل یقین نہیں ہوتا کہ یہ حلال جانور سے ہی تیار ہے یا ہمیں کسی مردہ یا حرام جانور کا گوشت کھلایا جا رہا ہے۔ مگر ہم صاف ستھرے ہوٹل میں بیٹھ کے ہزاروں روپے خرچ کر کے بھی ایک دوست ایسا نہیں بنا پاتے جو ہمارے دکھ کا ساتھی جو ہماری خوشی پہ خوش ہو، جو زرہ سی بات پہ ہمیں چھوڑ نہ جائے۔ ذرا سوچیں تو
یہی مٹن کڑاہی اگر گھر بنے تو خرچہ پندرہ سو بھی نہ آئے اور ہمیں یہ یقین بھی ہو کہ ہم حلال گوشت ہی کھا رہے ہیں۔ اور گھر کی بیٹھک میں مہمان یا دوست کو کھانا کھلانے سے گھر میں برکت بھی آنے لگے۔ ہم نے خود کو بگاڑا سو بگاڑا ہم اپنے بچوں کو بھی بگاڑ رہے ہیں۔ ہم بچوں کو ہر دوسرے دن پیزا۔ برگر شوارما کھلانے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں جبکہ ہمیں پتہ ہے کہ یہ کھانے سے بچوں کی صحت خراب ہوگی۔ ان میں استعمال ہونے والا گوشت پتہ نہیں کیسا ہوتا ہے۔
مگر ہم پھر بھی بچوں کو فاسٹ فوڈ پہ لگا رہے ہیں جس سے ان کے اندر جذبات کا ہیجان پیدا ہو رہا ہے۔ خون میں تیزی آ رہی ہے شخصیت میں جلد بازی آ رہی ہے۔ اور ہر روز میں ہم ایسے واقعات سنتے ہیں جنہیں سن کے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ صاحبو مہنگائی صرف آلو پیاز یا دالوں تک محدود نہیں بلکہ اور بہت سی روز مرہ کی چیزیں جو مہنگائی سے عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہیں۔ ان پہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے سکول کے اساتذہ اور مسجد کے امام صاحبان کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔
حکومت سے گلہ کرنے سے بہتر ہے کہ ہمیں اپنے اخراجات کم کریں۔ کھانے اچھا ضرور کھائیں مگر گھر میں پکا ہوا تو سونے پہ سہاگہ ہو۔ بازار سے چیزیں دنیا کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ ضرورت کے لیے خریدیں۔ جن گھروں میں جگہ ہے وہ سبزیاں گھروں میں اگانے کی کوشش کریں۔ جس سے سبزی تازہ اور فری ملے گی۔ جیب پہ بوجھ نہیں پڑے گا تو دل سکون میں رہے گا۔

