چائنا، پاکستان اقتصادی راہداری – سی پیک


سی پیک چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی راہداری جو کہ نہ صرف ان دو ملکوں کو تقریباً تین ہزار کلو میٹر لمبائی کے درمیان منسلک کرتی ہے بلکہ اس کے ساتھ کئی مشترکہ مفاد کے منصوبے جڑے ہیں جو باہمی تعلقات کے فروغ کا باعث بھی ہیں۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دونوں ملکوں کے درمیان راہداری، تجارت، سرمایہ کاری کا فروغ، لاجسٹک اور دونوں ملکوں کے عوام کے علاوہ اس ریجن کے دوسرے ممالک کے عوام کے درمیان رابطہ بڑھانا بھی مقصود ہے۔

جن میں شاہراہوں، ٹرانسپورٹ، آئی ٹی، توانائی کا اشتراک، ریلوے انفراسٹرکچر اور زراعت جیسے بڑے منصوبے شامل ہیں۔ اس میں تربیت یافتہ افرادی قوت و ملازمتوں کی شرح میں اضافہ بھی شامل ہے۔ اس کے فوائد سے نہ صرف چائنا اور پاکستان استفادہ کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ افغانستان، ایران اور وسطی ایشیاء کے ممالک اور پورا خطہ اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکے گا۔ یہ تین بلین لوگوں کے لئے ایک ایسی اقتصادی راہداری بننے جا رہی ہے جو علاقائی تجارت میں دن بدن اضافے کا باعث ہو گی۔

اس منصوبے کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 47 بلین امریکی ڈالر تھا۔ لیکن بعد میں اب چائنا نے 65 بلین امریکی ڈالر سرمایہ کاری بڑھا دی ہے۔ جو ان کے نزدیک ان کی پرانی شاہراہ ریشم کی تجارت کا حصہ ہوگی۔ جس کا تصور اس کے بانی ژانگ کوئن نے 130 ء میں ہین ڈینسٹی کے دوران پیش کیا جس کے مطابق چائنا سے مغرب کی جانب تجارتی مسافت کم خطرات کے ساتھ ممکن ہو گی۔ اور دنیا جانتی ہے کہ انہی کے دور میں شاہراہ ریشم سے دنیا کے دوسرے خطوں کے ساتھ تجارت 1453 ء تک چلتی رہی۔

یہ بنیادی طور پر تجارتی راستوں کا جال تھا جو کئی خطوں کو تجارت سے منسلک کیے ہوئے تھا۔ چین اور پاکستان دونوں نے 2015 ء میں ایک پندرہ سالہ اقتصادی منصوبہ لانچ کیا جسے 2030 ء میں مکمل ہونا ہے۔ اگر چائنا پاک اقتصادی راہداری کا خلاصہ پیش کیا جائے تو اس میں پاکستان کی اقتصادی ترقی، توانائی کے منصوبے، ریلوے و شاہراہوں کا جدید انفراسٹرکچر، کراچی و گوادر میں گہرے سمندر کی بندرگاہیں تجارتی سامان کی ترسیل کا جدید نظام وغیرہ شامل ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح یہ اقتصادی راہداری پاکستان کی اکانومی کی شرح نمو میں اضافے کا باعث بنی گی؟ سب سے پہلے تو بات یہ ہے کہ اس کی پرائیویٹ فنڈنگ ہو رہی ہے جو ملکی سطح کی سب سے بڑی انویسٹمنٹ ہے۔ دوسری بات توانائی کی پیداوار و ترسیل کا جدید نظام، ٹرانسپورٹ کے سسٹم کو جدید بنانا اور اس کے علاوہ مقامی تربیت یافتہ افرادی قوت کا میسر آنا جب کہ ملکی روزگار کی شرح انتہائی کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے تو یہ مستقبل کے لئے ایک اچھی پیش رفت ہو گی۔

اس اقتصادی راہداری کو تین مرحلوں میں مکمل ہونا ہے۔ پہلے مرحلے میں توانائی کے منصوبے اور ان کی ترسیل کے نظام پر کام کرتے ہوئے ان تمام مشکلات کا خاتمہ کرنا جو اس کے راستے میں حائل ہوں۔ دوم اس کے کارخانے بنانا، سماجی و اقتصادی اور زراعتی شراکت کے علاوہ کاروبار کا فروغ اور سوم تمام ترقیاتی کاموں کو یکجا کرنا ہے۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ اس کی ترقی کے لئے ایک گیم چینجر ہے۔ جس سے ملک میں نہ صرف تجارت بڑھے گی بلکہ اسے مقامی تربیت یافتہ افرادی قوت بھی میسر ہوگی جس سے ملک میں بے روزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ اقتصادی راہداری کے تحت ملک میں توانائی کے 17045 میگا واٹ بجلی کے منصوبے، ملکی سطح پر شاہراہوں کی آپ گریڈنگ بشمول نئی موٹرویز، نئی تیز رفتار آپٹیکل فائبر کا چائنا کے ساتھ کنکشن، اور گوادر پورٹ کو کمرشل سطح کی تجارتی بندرگاہ بنانا اور اسے آپریٹ کرنا شامل ہیں۔

چائنا اقتصادی راہداری کے اس منصوبے کو اپنی شاہراہ ریشم کے تسلسل و احیاء کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ جس سے اس کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے۔ اب ذرا اس منصوبے کے مخالفین ممالک کو دیکھتے ہیں۔ سب سے پہلے انڈیا آتا ہے جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے اسے اس کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ جس نے کھلم کھلا اس اقتصادی راہداری منصوبے کی مخالفت کی اور کر رہا ہے جب کہ دونوں ممالک اسے اس بات کی گارنٹی دے چکے کہ اس کے مفادات پر کبھی کاری ضرب نہیں لگائی جائے گی بلکہ اسے دعوت دی گئی کہ وہ اس اشتراک کا حصہ بنے لیکن وہ اس سے انکاری ہوا۔

اور اب اس میں روڑے اٹکانے میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان کے دونوں ہمسایہ ممالک افغانستان و ایران اس راہداری کا حصہ بن چکے ہیں۔ سری لنکا ون بیلٹ ون روٹ کے منصوبے کے تحت چائنا کے ساتھ شراکت میں پہلے ہی کام کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش بھی چائنا کے ساتھ اشتراک کر چکا ہے۔ دوسری جانب امریکہ و چائنا کی کاروباری رقابت و اپنے اپنے علاقائی تجارتی مفادات کے زیر اثر، ایک دوسرے پر نظر رکھنے پر مجبور ہیں جن میں ایسے اقتصادی ترقیاتی منصوبوں پر اثر انداز ہونا بھی شامل ہے لہذا پاکستان جیسے ملک کو اپنا ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔

برطانیہ اور پاکستان کے دو طرفہ تعلقات کئی دہائیوں پر مشتمل ہیں۔ یہ دونوں ملک توانائی کے منصوبوں اور بحیرہ خلیج کے دہانے پر موجود گوادر بندرگاہ میں برطانیہ کی کاروباری شراکت میں ان کے لئے کیا فوائد لا سکتے ہیں اور اس سے مزید آگے خلیجی ممالک میں ان کے کیا فوائد ہوں گے پر بڑھ چڑھ کر کام ہو رہا ہے۔ یورپ بھی اس دوڑ میں شامل ہو گیا ہے اور اس کی ترجیحات اپنی تجارتی مفادات کا دنیا کی بدلتی رت کے ساتھ نہ صرف تحفظ فراہم کرنا ہے بلکہ اس دوڑ میں وہ کہیں پیچھے نہ رہ جائیں لہذا انہوں نے ”گلوبل گیٹ وے“ کے زیر اہتمام تین سو بلین یورو ڈالر کی انویسٹمنٹ کی سٹریٹیجی بنائی ہے جس میں توانائی، ڈیجیٹل، صحت، تعلیم، ریسرچ اور ٹرانسپورٹ کے بین الاقوامی پراجیکٹس شامل ہوں گے۔

یہ انویسٹمنٹ 2021 ء تا 2027 ء کے درمیان کی جائے گی اور اس میں یورپی اقوام کے مفادات کو خاص اہمیت حاصل ہو گی۔ یورپی اقوام کا یہ وسیع شراکتی منصوبہ اور متحدہ امریکا کا ”بلٹ بیک بیٹر فیوچر ورلڈ built back better future world“ منصوبہ ایک دوسرے کی شراکت میں کام کریں گے۔ اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں ہر ملک اپنے اپنے تجارتی مفادات کو ترجیع طور پر دیکھتے ہوئے آپس میں تعلقات کو فروغ دیں گے۔

یہ پاکستان کے لئے دو دھاری تلوار بھی ہے جس پر اسے انتہائی ہوشیاری کے ساتھ چلنا ہو گا۔ اس کے ایک طرف اس کا آزمودہ دوست چائنا اور دوسری طرف امریکہ و امریکی اتحادی ہیں جو انڈیا کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

ہم ایک بٹی ہوئی قوم بن چکے ہیں۔ ہمیں باہر کے دشمن کی ضرورت نہیں رہی۔ ہم خود ایک دوسرے کے خلاف ایسی چالیں چل رہے ہیں جو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ رشوت لینا دینا حرام ہے پھر بھی ہم اس میں مکمل طور پر جکڑے ہوئے ہیں۔ انصاف سرے عام بکتا ہے۔ انصاف کی راہ میں خود رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور خود ہی رونا رو رہے ہیں۔ خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود اپنی حالت کے بدلنے کا احساس نہ ہو۔ ہم میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔

Facebook Comments HS