لونڈے لپاڑے

نوعمری سے بالغ پن کی راہ میں پڑنے والی منزل کو نوجوانی کہا جاتا ہے۔ نوجوان ایسا عجوبہ ہے جسے سمجھے کے لیے شاعر اور ادیب دیوان کے دیوان لکھ گئے مگر نتیجہ اخذ کرنے سے ناکام رہے۔ کسی نے قاتل رو کہا تو کسی نے صیاد پیشہ۔ کوئی گل رو کہہ گیا تو کوئی چنچل صنم۔ شاعر لکھ لکھ تھک گئے مگر تسلی بخش نتیجہ اخذ نہ کر پائے۔ اس مسئلہ پر غور و خوض کرنے اور نتائج تک پہنچنے کے لئے کمیٹی ترتیب دی گئی۔ کمیٹی نے تحقیقی بنیادوں پر مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس بلایا۔
تمام شرکاء جن میں فلسفی، شاعر، ادیب، عاشق، آوارہ گرد اور کئی عام لوگ بھی شامل تھے، سر جوڑ بیٹھ گئے۔ غور و فکر شروع ہوئی۔ کئی ہفتے بعد اجلاس کے شرکاء ایک نکتہ پر متفق ہوئے۔ کمیٹی کے صدر نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام شرکاء کا اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ نوجوان ”لونڈے لپاڑے“ ہوتے ہیں۔ اور لونڈے لپاڑے کی وضاحت کرنا ایسا ہی ہے جیسا اس بات پر بحث کرنا کہ مرغی پہلے آئی یا انڈا۔ نوجوان کی یہ تعریف جامع ہونے کے باوجود کچھ لوگوں کے ہاں سطحی قرار پائی اور ہر کوئی نوجوان کو ایک راہ پر چلا کر ایک منزل دیکھا کر نئی تعریف پیش کرنے کی سعی میں سرگرداں ہو گیا۔ ہمارے علامہ اقبال، شاعر اور عاشق مزاج ہونے کے ساتھ فلسفی بھی تھے۔ انہوں نے تخیل کی پرواز میں محو ہوتے ہوئے نوجوان کو پہاڑوں کی چوٹیوں کی راہ دکھاتے ہوئے۔ کہا
” نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں۔ ”
اور نوجوان کی نئی تعریف ”نوجوان شاہین ہے“ پیش کر دی۔ نئی تعریف ہنگامہ خیز ثابت ہوئی اور تنقیدی حلقوں میں کہرام مچ گیا۔ نئی تعریف پر تنقید میں نیا موڑ آیا اور نئی بحث چھڑ گئی۔ کوئی اقبال کے حق میں تو کوئی خلاف تھا۔ نیام دین عرف ایرا غیرا نے کھل کر اقبال کے حق میں بیان دیے اور اپنا تحقیقی مقالہ پیش کر دیا جس میں اقبال کی کی گئی تعریف کو جامع اور موزوں قرار دیا گیا تھا۔ نیام دین عرف ایرا غیرا نے ایک اجلاس میں اپنا تنقیدی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا:
”اقبال، ایک فلسفیانہ اور زرخیز ذہنیت کے حامل شاعر ہیں۔ انہوں نے نوجوان کی تعریف میں جو نیا مفروضہ پیش کیا ہے۔ اس کے درپردہ وہ خصوصیات مخفی ہیں جو شاہین نام کے پرندے کو قدرت کی طرف سے عطا کردہ ہیں۔ اور وہی خصوصیات مخفی آج کے نوجوان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ “
مسٹر جلد باز نے نیام دین عرف ایرا غیرا کے کان میں کہا ”جناب جلدی اپنا مدعا بیان کریں۔ ابھی آپ کو حجام مانی کی دکان کا افتتاح کرنے بھی جانا ہے۔ “
نیام دین عرف ایرا غیرا دوبارہ عوام کی جانب متوجہ ہوئے اور کہنا شروع کیا۔
اگر ان تمام خصوصیات کو فرداً فرداً بیان کیا گیا تو اصل مدعا پایہ تکمیل تک پہنچنے کی سعی میں ہی دم توڑ کر بھٹک جانے والے گمنام مسافر کی طرح، بے منزل رہ جائے گا۔ اسی لیے یہاں صرف دو تین خصوصیات کی جانب آپ کی توجہ دلاتا ہوں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ شاہین رات کو آرام اور دن کے وقت طعام اور باقی معاملات سر انجام دیتا ہے، دوسری صفت جو باقی پرندوں سے اسے ممیز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنا رزق، جو خدا کی طرف سے اس کے نصیب میں پہلے ہی لکھا جا چکا ہے، خود تلاش کرتا ہے اور کسی دوسرے پرندے کا سہارا نہیں لیتا بلکہ اپنی قوت اور طاقت پر بھروسا کرتے ہوئے راستہ اکیلا ہی طے کرتا ہے۔ یہی خصوصیات آج کے نوجوان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقبال کا نظریہ انتہائی موزوں ہے کہ ”نوجوان شاہین ہے۔“ ”ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اور نیام دین عرف ایرا غیرا سٹیج سے اترتے ہوئے حجام کی دکان کا افتتاح کرنے چل دیے۔
کئی سال اس تعریف کو قانون کی سی حیثیت حاصل رہی اور ہر تحقیقی مقالہ کی بنیاد قرار پاتی رہی۔ تیس چالیس سال بعد شکیل چتروتی عرف سوشی نے نوجوان کی تعریف پر مقالہ لکھتے ہوئے نیا مفروضہ پیش کر دیا۔ ایک اخباری رپورٹر کو بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا۔
”جس وقت اقبال نے نوجوانوں کو شاہین کہا، اس وقت نوجوان میں کچھ کر جانے کی تڑپ اور کچھ پا لینے کا جذبہ اور حوصلہ موجود تھا۔ مگر موجودہ تناظر میں جب دنیا کا تصور انٹرنیٹ کے بغیر تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ اقبال کا پیش کیا گیا مفروضہ“ نوجوان شاہین ہے ”ادھورا ہے اور نا صرف ادھورا ہے بلکہ رد کیے جانے کے قابل۔ اور میں غالب یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر آج اقبال اس عالم فانی میں موجود ہوتے تو وہ اپنے مفروضہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے، خود ہی اسے قطع کر دیتے۔
موجودہ تناظر میں میں“ تو الو ہے بسیرا کر پہاڑوں کی غاروں میں۔ ”کہتا ہوا نوجوان کی تعریف میں نیا مفروضہ پیش کرتا ہوں کہ“ نوجوان الو ہے ”اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں؟ اس سوال نے آپ کے ذہن کی کسی گمنام جگہ میں سر اٹھانے کی کوشش ضرور کی ہوگی۔ اس سوال کا جواب دینے سے قبل میں الو کی چند خصوصیات کا تذکرہ کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔“
رپورٹر: ”اجازت! دنیا بے تاب ہے۔ نئے مفروضہ کی وضاحت چاہتی ہے۔ آپ بیان کرتے جائیں۔“
”الو صبح کو سوتا ہے اور رات کو جاگتا ہے، کسی دوسرے پرندے کے ساتھ، سوائے اپنی برادری کے چند پرندوں کے، کچھ واسطہ نہیں رکھتا۔ ان دو خصوصیات کو ہی بنیاد بنائے اگر موجودہ نوجوان کی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو پہلا ثبوت ہمیں یہی ملے گا کہ دور جدید کا نوجوان دن کو سوتا ہے اور رات کو جاگتا ہے۔ شام پڑتے ہی ان کی آنکھیں ایسے کھل جاتی ہیں جیسے روٹی کو دیکھ کر بھوکے غریب کا منہ۔ کوئی فلم دیکھنے میں محو ہوتا ہے، تو کوئی گیم کی تخیلاتی دنیا میں کھویا دشمن کو ختم کرنے کی سعی میں سرگرداں۔
ان کو کچھ خبر نہیں ہوتی کہ ساتھ والے کمرے، بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ ساتھ والے بستر پر پڑے ہوئے انسان کے کیا مزاج اور حالات ہیں۔ یعنی سیدھے الفاظ میں الوؤں کی طرح انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساتھ والا ان کی برادری کا نہیں اور اگر انہوں نے اس سے کلام کر لیا تو برادری بدر کر دیا جائے گا۔ اس لیے ایک دوسرے سے گفتگو نہیں ہو پاتی اور دونوں اپنی اپنی دنیا میں مگن پو پھوٹنے کے ساتھ ہی سو جاتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ“ نوجوان الو ہے۔ ”بلکہ ہم سب الو ہیں۔ “
”ایک منٹ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔“
رپورٹر: ”آپ کون؟“
”لکھاری“
”کیا کہنا چاہتے ہیں، آپ؟“
”الوؤں سے اس گستاخی کی معافی طلب کرنا چاہتا ہوں جو میں نے الوؤں کو الوؤں سے تشبیہ دیتے ہوئے کی ہے۔“
رپورٹر: ”جی تو سوشی صاحب آپ کچھ کہنا چاہیں گے۔“

