جاوید اختر شاعر تو وہ اچھا ہے پر۔ ۔ ۔


ان دنوں واہگہ کے دونوں اطراف سوشل میڈیا کے تھیٹروں میں ایک خبر باعث گرمی بزم بنی ہوئی ہے۔ یہ خبر الحمرا لاہور کے ایک ایوان سے اس وقت اٹھی جب اہل دل کے لیے سرمایہ جاں، فیض فیسٹول، میں جانے مانے شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے ایک سوال کے جواب میں کچھ ایسا کہہ دیا کہ سر حد کے اس پار واہ اور ادھر آہ کا غلغلہ بلند ہوا۔

میرے خیال میں اس شور پند ناصح کا درست تناظر میں تجزیہ ضروری ہے۔

جاوید اختر کا آبائی تعلق یو پی سے ہے۔ بھارتی مسلمان اور خاص طور پر بنگال، بہار اور یو پی کے مسلمانوں کے لیے ہمیشہ سے یہ ایک مسئلہ رہا ہے کہ وہ یہ نعرہ بلند کرنے کے باوجود کہ ہم بائی چوائس انڈین ہیں، اپنی وفاداری کے ثبوت کے کسی جتن میں کچھ ایسے کامیاب نہ ہو پائے۔ یہاں تک کہ اب کے انڈیا میں اس تھیوری کو ماننے والے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں کہ دراصل بنگال، بہار اور یو پی کے مسلمانوں نے انڈیا کا بٹوارہ کیا۔

بھارت میں دو قومی نظریہ، جناح، اقبال اور جہادی فکر ایسے معاملات ہیں جن سے استواری کا شائبہ بھی کسی مسلمان کو مشکوک بنانے کے لیے کافی ہے۔

اس تناظر میں عام مسلمان سے کہیں زیادہ ملک گیر یا سرحدوں سے باہر تک پہچان رکھنے والے صاحبان کے لیے محتاط رہنا از حد ضروری ہوتا ہے۔ مودی راج میں یہ احتیاط بہت اہم ہو چکی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسدالدین اویسی جیسے بیباک سیاستدان سے لے کر فلم اور ادب کی مشہور شخصیات تک کے ہاں اس احتیاط کا پاس ملتا ہے۔

جاوید اختر بالی وڈ کی شو بز کی دنیا کا بہت بڑا نام ہے۔ انہیں واں اپنی پگڑی کو اسی طور سنبھالنا ممکن ہے کہ اپنے دیش پریمی ہونے کے تاثر کو ہر حال میں شک و شبہے سے بالا رکھا جائے۔ شومئی قسمت سے ایسے اظہار کا موقع اگر دورہ پاکستان کے سمے مل جائے تو لطف دو آتشہ تو ہونا ہی ہے۔

جو لوگ انہیں مختلف تقریبات میں سنتے رہے ہیں ( یہ یو ٹیوب پر بہ آسانی دستیاب ہیں ) ۔ انہیں یہ خبر ہے کہ وہ نظریہ پاکستان کے حوالے سے کس طرح کے خیالات رکھتے ہیں جن کا اظہار وہ بعض اوقات موضوع سے ہٹ کر بھی گھسیٹ لیتے ہیں۔ تقریب میں موجود حاضرین کو اس کا ادراک رکھنا چاہیے تھا اور ایسے سوال سے گریز کرنا ضروری تھا جس کے جواب میں ان سے رواداری کے مظاہرے کی امید عبث تھی۔

وہ بھارتی شہری ہیں۔ لوک سبھا کے ممبر رہے۔ اعلیٰ سول اعزازات سے نوازے گئے لہٰذا انہیں دیش پریمی ہونے کا فخریہ اظہار کرنے کا حق تو حاصل ہے۔

وہ ترقی پسند تحریک اور فیض کے پرستار ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان سے قریبی مراسم رکھتے ہیں۔ ماضی قریب میں بھی وہ فیض فیسٹول میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ اب کی بار ان کے میزبان پروگرام ترتیب دیتے ہوئے ضروری احتیاط روا نہ رکھ سکے جس کے نتیجہ میں یہ واقعہ ہوا اور فسانہ بن گیا۔

ویسے اگر ان کا مکمل خطاب دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کوئی نیا بھاشن نہیں دیا بلکہ وہ تمام باتیں دہرائی ہیں جو وہ جشن ریختہ کی مختلف تقریبات میں کرتے رہے ہیں۔ یہ انوکھی ہوں گی پر مدلل نہیں۔ اس کے باوجود سامعین تالیوں کی گونج کے ساتھ یوں مچل رہے تھے کہ وہ ادبی ذوق کے حامل ہونے کی بجائے، معذرت کے ساتھ، کسی مداری تماشا کے شائق زیادہ لگ رہے تھے۔

غالب نے کہا تھا۔
ع۔ میری تعمیر میں مضمر ہے صورت اک خرابی کی

کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان جو 27 رمضان کی شدھ گھڑی کو وجود میں آیا تھا اس کے حوالے سے انڈین مسلمان بھی ویسی ہی جذباتیت رکھیں، جیسی بشکریہ زید حامد، اوریا مقبول جان وغیرہ ہم رکھتے ہیں اگرچہ وہ بس زبانی کلامی ہی کیوں نہ ہو۔

اپنے کرتوتوں کا ایک پھل ہم 1971 میں پا چکے ہیں اور دوسرا پھل ہماری جہادی رغبت کے نتیجہ میں سامان محشر لیے سر پہ کھڑا ہے۔ دوسری طرف تباہ معیشت کے باوجود مسلمان بادشاہوں کی اولاد کے بیچ تخت کی جنگ کی روایت کو ہم شاندار انداز میں زندہ رکھے ہوئے ہیں جس میں دعویداروں سے بڑھ کے اب نورتن سرگرم ہو گئے ہیں۔

لہٰذا جاوید اختر کس حد تک دوشی ہیں اسے درد سر نہ بنائیے اور جانے دیجیئے۔ بس اپنے گریبان میں جھانکیے اور میر کے اس مصرعے کو دھیان میں رکھیئے۔
ع۔ مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا۔

Facebook Comments HS