روس یوکرین تنازعے میں خطے کی طاقت کا مثبت کردار


23 فروری کو یوکرین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصوصی ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس یوکرین روس تنازعہ کو ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے تھا۔ اس روز ہونے والے اجلاس میں جنرل اسمبلی نے یوکرین سمیت 75 ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کردہ ’امن فارمولے‘ کے مسودے کی منظوری دی۔ اس رائے شماری میں 141 ممبران نے حمایت اور 7 نے مخالفت میں ووٹ دیا، جبکہ 32 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

یوکرین کے معاملے پر چین کا موقف مستقل اور واضح ہے، یعنی تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں پر عمل کیا جائے، تمام ممالک کے جائز سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جائے اور بحران کے پرامن حل کے لیے تمام سازگار کوششوں کی حمایت کی جائے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں چین نے چار نکات پیش کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ اس وقت سب سے اہم کام جنگ بندی اور جتنی جلدی ممکن ہو لڑائی کا خاتمہ ہے۔ دوسرا، مذاکرات یوکرین کے بحران کو حل کرنے کا واحد قابل عمل طریقہ ہے۔ تیسرا یہ کہ بین الاقوامی برادری کو اس حوالے سے قیام امن اور مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں اور چوتھا یہ کہ مشترکہ سلامتی اور پائیدار امن کے حصول کی کوشش کی جائے۔

چوبیس فروری کو یوکرین بحران کا ایک سال مکمل ہوا۔ گزشتہ ایک سال میں اس بحران سے ناصرف یورپ کی سلامتی اور استحکام کو شدید نقصان پہنچا بلکہ عالمی غیریقینی اور عدم سلامتی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی دن چین نے یوکرین بحران کے سیاسی حل کے لئے ”چین کا موقف“ نامی دستاویز جاری کی اور بحران کے حل کے لئے چین کا موقف پیش کیا۔

دنیا کی تاریخ میں انسانیت دو عالمی جنگوں اور سرد جنگوں کا سامنا کر چکی ہے اور ان جنگوں کے نتائج یہ بتلاتے ہیں کہ بالادستی، اور دھڑے بازی کی محاذ آرائی کے نتیجے میں صرف جنگ اور تصادم پیدا ہو تا ہے۔ یوکرین بحران نے ایک بار پھر دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ تنازعات اور جنگوں کا کوئی فاتح نہیں ہو تا اور مذاکرات اور بات چیت ہی کسی بحران کو حل کرنے کا واحد اور قابل عمل طریقہ ہے۔

چین، یوکرین بحران کا فریق نہیں بنا لیکن چین اس حوالے سے خاموش بھی نہیں بیٹھا۔ چین کے مذکورہ موقف میں ان اہم نکات کا احاطہ کیا گیا ہے کہ ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کیا جائے، سرد جنگ کی ذہنیت کو ترک کیا جائے، جنگ بندی کو عمل میں لایا جائے، امن مذاکرات شروع کیے جائیں، انسانی بحرانوں سے نمٹا جائے، شہریوں اور جنگی قیدیوں کا تحفظ کیا جائے، ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سمیت اسٹریٹجک خطرے کو کم کیا جائے، اناج کی برآمد کو یقینی بنایا جائے۔ عالمی صنعتی چین اور سپلائی چین کے استحکام کو یقینی بنایا جائے اور جنگ کے بعد تعمیر نو کو فروغ دیا جائے۔

یوکرین بحران پیچیدہ عوامل کا نتیجہ ہے۔ دنیا کو یہ دیکھنا ہو گا کہ اس بحران سمیت دنیا کے دیگر بڑے بحران پیدا ہونے کے اسباب اور محرکات کیا رہے ہیں اور ان میں قصور وار کون ہیں۔ اگر اس نکتہ کو نظر انداز کیا گیا تو اس مسئلے سمیت دیگر تمام مسائل کو صحیح معنوں میں حل کرنا مشکل ہی رہے گا۔ چین کی جانب سے پیش کردہ ”سرد جنگ کی ذہنیت کو ترک کرنے“ اور ”یک طرفہ پابندیوں کو روکنے“ کی تجاویز براہ راست یوکرین بحران کی اصل وجہ کی نشاندہی کرتی ہے جس سے دنیا کو اس بحران کو سمجھنے میں مدد حاصل ہوگی اور امریکہ اور نیٹو کو بھی اس پر غور کرنا ہو گا۔

وقت کی ضرورت ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اصولوں سمیت عالمی طور پر تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے، اور تمام ریاستوں کی آزادی اور علاقائی سالمیت کی موثر طریقے سے ضمانت دی جائے۔ تمام ممالک، چاہے وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، طاقتور ہوں یا کمزور، امیر ہوں یا غریب، برابر ہیں، اور تمام فریقوں کو مشترکہ طور پر بین الاقوامی تعلقات کو چلانے والے بنیادی اصولوں کا تحفظ کرنا چاہیے اور بین الاقوامی مساوات اور انصاف کا تحفظ کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی قانون کو بنا کسی دوہرے معیار کے مساوی اور یکساں طور پر لاگو کیا جانا چاہیے

یوکرین بحران کے سیاسی حل کے لئے چین کی اس دستاویز کا مختلف ممالک کی شخصیات کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا ہے۔ کئی بین الاقوامی شخصیات نے خیر مقدم کرتے ہوئے خیال ظاہر کیا ہے کہ یوکرین بحران کے سیاسی تصفیے پر چین کا موقف ایک بڑے ملک کی ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔ سویڈش تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ٹرانس نیشنل پیس اینڈ فیوچر ریسرچ کے بانی اوبری کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ یہ دستاویز اقوام متحدہ، یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم اور دیگر ثالثی تنظیموں کی توقعات کے عین مطابق ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہنے کی بجائے کہ ہم جیتیں، اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ ہم نیٹو اور روس کے درمیان مسائل کو کیسے حل کر سکتے ہیں۔ پائیدار اور طویل مدتی امن، مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جنوبی افریقہ کے خصوصی ایلچی برائے ایشیا اور برکس، سکھرال نے کہا کہ میرے خیال میں یہ ایک بہت ہی مثبت پیغام ہے کہ چین دیرپا امن کے حصول کے لیے پرعزم ہے کیونکہ جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری مل کر کام کرے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے۔ بولیویا کے سابق صدر مورالس نے 24 فروری کو سوشل میڈیا پر کہا کہ جب امریکہ اور نیٹو دنیا پر پولرائزیشن اور سرد جنگ کا ماحول مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم چین کی امن مذاکرات، جنگ بندی اور روس کے خلاف غیر منصفانہ پابندیوں کے خاتمے کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

صورتحال جتنی پیچیدہ ہوگی، اتنا ہی ٹھنڈے دماغ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ چین کے موقف نے اس بحران کے حل کے لئے ایک قابل عمل حل فراہم کیا ہے، جس پر تمام متعلقہ فریقوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے اور تمام ممالک کو دنیا میں امن کے دوبارہ قیام کو ایک موقع ضرور دینا ہو گا۔

Facebook Comments HS