دوستی لٹریچر فیسٹول پشاور

جس معاشرے میں سوال اٹھتے ہیں اور ان سوالوں کے جوابات ملتے ہیں وہ معاشرہ کبھی گھٹن زدہ نہیں ہوتا بلکہ وہاں فرد انفرادی و اجتماعی سطح پر بہت سے سماجی، ذہنی اور نفسیاتی مسائل سے بچ جاتا ہے، اس کے برعکس جہاں سوال جنم لیتے ہیں اور جواب نہیں ملتے وہاں گھٹن بڑھتا ہے، یہی گھٹن ذہنی تعفن کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس سے انتہا پسندی، عدم برداشت، فرقہ واریت، لسانیت، علاقائی قومیت سمیت دوسرے مسائل سر اٹھانے لگتے ہیں اور معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہوتا ہے۔ شہزاد انجم برہانی کے یہ شعر اسی صورت حال کی ترجمانی کرتے ہیں :
بہت گھٹن ہے یہاں پر کوئی بچا لے مجھے
میں اپنی ذات میں مدفون ہوں نکالے مجھے
ہم آدمی ہیں بہکنا ہماری فطرت ہے
بہک رہا ہوں اگر میں کوئی سنبھالے مجھے
اس صورت حال سے بچنے کے لیے ایسے پلیٹ فارم مہیا کرنے لازمی ہیں جہاں سنجیدہ مکالمہ ہو، جہاں دانشوروں اور ماہرین مختلف مکتبہ فکر کا باہمی اکٹھ ہو اور ایسے موضوعات ہوں جو انسانی سماج، فکر و شعور، مذہب، ادب، سیاست، تاریخ اور فلسفہ سے متعلق ہوں۔ یہ دور Blind imitation کا نہیں ہے بلکہ پہلے سے طے شدہ نظریات کو نئے زاویوں سے موجودہ حالات و واقعات کے تناظر میں پرکھنا لازمی ہے، گلوبلائزیشن نے تشکیلات و تشکیکات کے دریچے وا کیے ہیں ان دریچوں کو بند کرنے کے بجائے ان میں جھانکا جائے تاکہ اگر اس کا کوئی ٹھوس حل نکل سکتا ہے تو وہ نکل آئے۔ ہمارے ہاں مکالمے بہت کم ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ من حیث القوم ذہنی ہم آہنگی کا فقدان پایا جاتا ہے اور اس کا اطلاق مذہب، ادب، سیاست، سماج اور زندگی سے متعلق تمام تر شعبوں پر ہوتا ہے۔ فانی بد ایونی نے کیا خوب کہا ہے :
کچھ کٹی ہمت سوال میں عمر
کچھ امید جواب میں گزری
گزشتہ کئی ہفتوں سے کراچی، لاہور اور پشاور میں اس قسم کی سرگرمیوں پر توجہ دی گئی ہے اور اس مقصد کے لیے ادبی میلوں کا انعقاد کیا گیا جہاں ملک بھر کے دانشوروں نے مختلف موضوعات پر اہم نشستوں میں شرکت کی اور علمی و ادبی اور ادبی سطح پر ان سرگرمیوں کو پذیرائی ملی۔ اس سلسلے میں پشاور کے پانچ روزہ ’دوستی لٹریچر فیسٹول پشاور‘ کا ذکر کرنا ضروری ہے کیوں کہ اس کا انعقاد بے یقینی کی صورت حال میں ہوا اور اس نے پشاور کی تلخیوں، اداسیوں اور مایوسیوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
جامعہ پشاور میں ہونے والا والا یہ ادبی میلہ ایک بھرپور خلا کے بعد ایک بھرپور میلہ رہا۔ اس علمی، ادبی اور ثقافتی میلے میں کتابوں کے ساتھ مصوری کے فن پارے لگائے گئے تھے جس میں اس خطے کی تہذیب جھلکتی تھی۔ دست کاری کے مختلف اسٹالز کے ساتھ قصہ خوانی کے تھڑوں پر قہوہ خانوں کی یاد تازہ کی گئی تھی، عجائب گھر پشاور کا دورہ بھی اس سلسلے کی ایک کی تھی۔ ارد گرد تمام مشاہیر علم و ادب کے تصویری پینا فلیکس مع تعارف کے آویزاں تھے۔
یہ یقیناً نئی نسل کو اپنے اسلاف سے جوڑنے کی ایک اچھی کوشش تھی۔ اس فیسٹول کے افتتاحی سیشن سے لے کر اختتامی سیشن تک کے عرصے میں اردو، انگریزی، پشتو، ہندکو سمیت اس خطے میں بولی جانے والی تمام زبانوں کو نمائندگی دی گئی تھی او ر تمام زبانوں کی ترویج و اشاعت اور ادب پر اس زبان کے چاہنے والوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے تھے۔ اس ادبی میلے کی خاص بات 75 سے زائد ایسے موضوعات کا تعین کرنا تھا جس کا تعلق مذہب، ادب، سیاست، معاشرت، اقتصاد، نظریات، شخصیات، لسانیات، ادب اطفال اور فلسفہ سے تھا۔
یقیناً اس کے پیچھے میر کارواں اسلم میر، سمیع الدین ارمان، الطاف قادر اور حنیف رسول سمیت ان کی ٹیم کی محنت، عرق ریزی اور کڑا انتخاب شامل تھا۔ اس کا ایک بہترین سلسلہ ”بک ٹاک“ تھا جس میں نہ صرف ہر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق کتابوں پر پینل ڈسکشن ہوئی بلکہ خیبرپختون خوا کے ادیبوں کے مختلف اصناف میں تخلیق کردہ کتابوں پر بھی بھرپور مکالمے ہوئے اس پذیرائی سے یقیناً ان کی حوصلہ افزائی ہوئی اور وہ نوجوان نسل میں متعارف ہوئے، اس کے ساتھ مختلف شخصیات کے نظر یات اور فن و فکر پر دانشوروں کیا گیا جس پر بھرپور سیشنز ہوئے۔
اس سرگرمی سے کتاب دوستی کو فروغ دینے کی راہ مزید ہموار ہوئی۔ اس ادبی میلے میں جو خاص بات نظر آئی وہ یہ تھی کہ طلبا و طالبات نے اس میں بھر پو ر دلچسپی لی اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک وقت میں چار ہالوں میں مختلف نشستیں ہوتی تھیں اور ہالوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی، روزانہ کی بنیاد پر انیس سے بیس تک سیشنز ہوتے تھے اور ہر سیشن کا دورانیہ 75 منٹ کا ہوتا تھا۔ مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کی پشتو زبان کے مشاعرے میں تمام تر نئے شعرا کو متعارف کرایا گیا اور ان کے ہاں فکر کی گہرائی اور فن کی پختگی نے سب کو حیران کر دیا۔ اردو مشاعرے کے متعلق کینیڈا سے آئے ہوئے مہمان شاعر خالد محمود نے اسٹیج پر اعتراف کیا کہ ان کا خیال تھا کہ انھیں پشاور میں سطحی قسم کی شاعری سننے کو ملے گی مگر یہاں کے نوجوان اور کہنہ مشق شعرا کے ہاں زبان کی پختگی اور فن و فکر کا معراج دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔
یہ میلہ تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اختتام پزیر ہوا مگر یہ خوش آئند ہے کہ خیبر پختون خوا کا پڑھا لکھا طبقہ اور نوجوان نسل مکالمے میں دلچسپی لیتے ہیں بس ان کو مواقع فراہم کیے جائیں۔ یقیناً اس کامیاب ادبی میلے کے بعد اس قسم کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور اٹھنے والے سوالوں کے جوابات ملیں گے اس طرح مثبت و تعمیری سوچ کے ساتھ امن و امان کی فضا ہموار و سازگار ہوگی۔

