سفید داڑھی، بوڑھا وجود اور کاندھے پہ لٹکی کباڑ کی بوری


کل رات میں کمرے سے چائے پینے کے لیے نکلا تھا، ہوٹل سے تھوڑا سا پیچھے تھا کہ سامنے سے آتے ایک بزرگ میرے پاس سے گزرے۔ سفید داڑھی، بوڑھا وجود، دھیمے دھیمے قدم اور کاندھے پہ ایک بوری لٹکائی ہوئی۔ میرے پاس سے گزرتے ہوئے تھوڑا آگے جا کر ایک کوڑا دان پہ رک گئے۔ کوڑا دان سے خالی بوتلیں اٹھائیں، کچھ کاغذ اٹھائے اور اپنے بیگ میں ڈال لیے۔ بوری دوبارہ سے کاندھے پہ رکھی اور آگے بڑھ گئے۔

میں پلٹا اور چائے بھول کر ان کے پیچھے چل دیا۔ وہ آگے جا کر ایک مارکیٹ میں داخل ہوئے اور وہاں ایک کوڑے دان میں جھانکنے لگے۔ وہاں آس پاس کوئی نہیں تھا۔ میں جھجکتے ہوئے آگے بڑھا، جیب سے کچھ پیسے نکالے اور مٹھی میں دبا کر، چھپا کر ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ بابا جی نے مجھے دیکھا، پھر ہاتھ کو دیکھا، پھر مجھے دیکھا۔ ان کے چہرے پہ لجاجت تھی، آنکھوں میں شرمندگی تھی۔ انھوں نے آہستگی سے ہاتھ بڑھایا اور میری مٹھی میں دبی مالی امداد لے لی۔ دونوں ہاتھ دعائیہ انداز میں اٹھائے، آسمان کی طرف دیکھا اور پھر مجھے دیکھ کر خاموش لب ہلاتے ہوئے دعا دی۔

میں آگے بڑھ گیا لیکن چند قدم چلنے کے بعد رکا، دوبارہ پلٹا اور بابا جی سے کہا
”یہاں پاس ہی میرا کمرہ ہے، آئیں کچھ دیر میرے پاس بیٹھ جائیں“
بابا جی پہلے جھجکے پھر میرے ساتھ چل دیے۔
کمرے میں لا کر میں نے انھیں بستر پہ بٹھا دیا۔ ان سے کھانے پینے کا پوچھا تو بتانے لگے

”رزق کا بندوبست تو اللہ سبحان و تعالیٰ کر ہی دیتا ہے۔ ابھی ایک ریڑھی والا سیخوں پہ کباب لگا رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر بولا بابا یہ کیا کر رہے ہو، ادھر بیٹھو اور مجھے چار کباب دے دیے۔ میں نے پیٹ بھر کر کھا لیا“

میں نے پوچھا کہ اس عمر میں مزدوری کیوں کر رہے ہیں، بچے نہیں ہیں یا کوئی اور کمانے والا نہیں ہے کیا؟

کہنے لگے ”تین بیٹے ہیں لیکن جب سے ان کی شادی ہوئی وہ میرے نہیں رہے۔ ان کے علاوہ دو بیٹیاں بھی ہیں۔ مجھے 1972 سے مرگی کا مسئلہ ہے، اب زیادہ ہو گیا ہے۔ بیٹے کہتے تم ناٹک کرتے ہو، تمھیں کچھ نہیں ہے۔“ پھر جیب سے اپنی گولیاں نکال کر دکھانے لگے۔ انھیں پتا نہیں تھا کہ میں بھی ڈاکٹر ہوں اور اس وقت یہ بتانا بھی غیر ضروری لگا۔

پھر انھوں نے بتایا میری دائیں ٹانگ کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی، ٹھیک سے جڑ نہیں سکی تو اب وہاں بھی ہلکی ہلکی تکلیف ہوتی رہتی ہے۔ مجھے اپنی ٹانگ دکھائی کہ یہاں ابھی تک ٹوٹی ہوئی ہڈی کا پتا چلتا ہے۔

انھوں نے شاید وہاں کوئی درد کش کریم بھی لگائی ہوئی تھی۔ پھر میں نے انھیں بتا دیا کہ میرا تعلق بھی میڈیکل سے ہی ہے۔

پھر میرے کمرے پہ نظر دوڑائی اور پوچھنے لگے
”ساتھ کوئی دوست یا بھائی وغیرہ رہتے ہیں؟“
میں نے بتایا ”نہیں، انجان لوگ ہی ہیں“

کہنے لگے ”انجان لوگوں کے ساتھ مسئلہ نہیں بنتا“
میں نے بتایا ”الگ رہنے کے لیے کوئی مناسب کمرہ ڈھونڈ رہا ہوں، مل گیا تو ادھر شفٹ ہو جاؤں گا“
کہنے لگے ”ہاں ادھر اسلام آباد میں رہنے کے لیے اچھی جگہ مشکل سے ہی ملتی ہے“

پھر بتانے لگے کہ یہاں اگلے بلاک میں ایک خاتون رہتی ہے۔ اس کا بیٹا ہوا تو اس کی جلد ٹھیک نہیں تھی، وہ بس تکلیف سے تڑپتا رہتا تھا اور گھر والے روتے رہتے تھے۔ ڈاکٹرز کو دکھایا تو انھیں جلد خراب ہونے کی وجہ سے دوائی لگانے کے لیے رگیں ہی نہیں مل رہی تھیں۔ ایک بڑے مشہور امام مسجد کو دکھایا تو وہ کہنے لگے کہ اس بچے کو دفن کرنے کی تیاری کرو بس۔ میری بیٹی وہیں مدرسے میں تھی، انھیں کہنے لگی میرے والد دم کرتے ہیں، ان سے دم کروا لو۔ وہ انھیں ساتھ لے کر میرے پاس آ گئی۔ میں نے کہا بچے یہ کیا کر رہی ہو، یہ سب میرے بس میں کہاں لیکن وہ کہنے لگی آپ بس دم کر دیں۔

میں نے اللہ کا کلام پڑھ کر اس بچے پہ دم کر دیا۔ اگلے دن وہ عورت کھانے اور چائے بنا کر لے آئی کہ آپ کے دم کے بعد کل رات پہلی بار میرا بیٹا سکون سے سویا۔ دیکھو کیسے اللہ سبحان و تعالیٰ نے میرا بھرم رکھ لیا۔

اب بھی وہ عورت کبھی کبھی مل جاتی ہے اور اس کا بیٹا بڑا ہو گیا ہے تو وہ بھی کئی دفعہ ساتھ ہوتا ہے تو میں اسے کہتا ہوں یہ آدھا تمھارا ہے اور آدھا میرا ہے۔ وہ کہتی ہے نہیں بابا جی یہ تو سارا آپ کا ہی ہے۔ ”

پھر اپنے کوٹ کی ایک جیب سے کچھ کاغذ نکال لیے۔ دوسری جیب سے عینک کی ڈبی نکالی تو پتا چلا ان کی نزدیک کی نظر کمزور ہے۔ آنکھوں پہ عینک لگا کر ایک پھٹا ہوا میلا کاغذ سیدھا کر کے مجھے دکھانے لگے اور بولے ”یہ دیکھو اس پہ اللہ کا کلام لکھا ہوا ہے اور اسے کوڑے میں پھینکا ہوا تھا ہم لوگوں نے“

پھر ایک اور کاغذ دکھا کر بتانے لگے کہ اس پہ نبی اکرم ﷺ کا نام پچانوے دفعہ لکھا ہوا ہے۔ میں نے خود گنا ہے۔ اور اسے بھی کوڑے میں پھینکا ہوا تھا۔ ہم سے زیادہ تو یہ کافر اپنی مقدس چیزیں سنبھال کر رکھتے ہیں۔

پھر کہنے لگے نوید بیٹے تم نے مجھے اتنی عزت دی، اتنا اکرام کیا اللہ تمھیں بہت کامیاب کرے۔ میں دعا کروں گا نوید بیٹا پورے پاکستان میں نمبر ون ہو جائے۔

میں ان کی بات سن کر ہنسنے لگا تو بابا جی بھی مسکرا دیے۔
پھر کہتے میرے پاس دینے کو اور تو کچھ نہیں لیکن دعائیں دیتا رہوں گا۔

اب بابا جی نے مجھ سے اجازت مانگی کہ اب میں چلتا ہوں۔ میرے پاس کچھ بسکٹ پڑے تھے، میں نے دے دیے کہ گھر والوں کے لیے لے جائیں۔ انھوں نے انکار کیا لیکن میرے اصرار پہ رکھ لیے۔ میں نے اپنا فون نمبر بھی لکھ کر دے دیا اور کہا کبھی کسی بھی چیز کی ضرورت ہو یا کوئی مسئلہ ہو تو مجھے فون کر لیجیے گا۔
بابا جی کمرے سے نکلے، اپنی بوری اٹھا کر کاندھے پہ رکھی اور گلے لگا کر ملے۔ پھر دعائیں دیتے ہوئے دھیمے دھیمے قدموں سے رخصت ہو گئے۔

Facebook Comments HS