دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں


تین چیزوں میں پاکستان تحریک انصاف کا کوئی مقابلہ نہیں ؛ اول کیمپین چلا کر، دھرنے ریلیاں نکال کر مخالفین کو ہلکان کرنے میں، دوم یوٹرن لینے میں ؛ سوم وقت نازک پر اپنے دیرینہ کارکنوں کو نظرانداز کر کے الیکٹیبلز کو نوازنے میں۔

اگر آخرالذکر کی بات کی جائے تو تحریک انصاف پاکستان مسلم لیگ نواز کو بھی مات دیتی نظر آتی ہے۔ انتخابات کے ٹکٹ بانٹنا ہو یا انتخابات کے بعد سیٹیں بانٹنی ہو تحریک انصاف کے سپریمو ایسے فیصلے کرتے ہیں کہ جسے دیکھ کر یک گونہ مایوسی انصافیوں میں پھیل جاتی ہے، اور اس سلسلے میں ان کا معیار ایک ہی ہے یعنی پیسہ۔ جس نے جتنی بڑی بولی لگائی سمجھو ٹکٹ اس کا سیٹ اس کی، اور پارٹی کے دیرینہ مخلص کارکن کے دل کی کیفیت بزبان مرزا رفیع سودا ؛ ”گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی/ اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی“ ہوجاتی ہے۔ بیچارہ دیرینہ کارکن سڑکوں پر 126 دن دھرنا بھی دیتا ہے اور جیل بھرو کے حکم پر رضاکارانہ طور پر جیل بھی چلا جاتا ہے۔ کارکن چونکہ نچلے طبقے کا ہوتا ہے تو نا انصافی بھی اسی کارکن کے ساتھ ہوتی ہے۔

ویسے اگر بندہ گھبرائے بغیر مثبت زاویے سے سوچے تو یہ قدما کے فلسفے پر عمل پیرا ایک نظریہ لگتا ہے۔ سرسید احمد خاں اور ان کے رفقاء کچھ اسی قسم کی سوچ رکھتے تھے۔

ان کی تعلیمی پالیسی ہو یا معاشی اور معاشرتی ترقی کے نظریے سب اشرافیہ کے مفاد کے اردگرد گھومتے تھے۔ بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ عوام یا نچلے طبقے کے مسلمان کے فلاح و بہبود ان کے لئے ایک ثانوی چیز تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کے دور میں جب مردم شماری ہوتی تھی تو اس میں اشرافیہ مسلمان اور پسماندہ مسلمان کے الگ الگ خانے ہوتے تھے۔ دوسری چیز جس سے عوام اب بھی غالباً لاعلم ہیں وہ اس دور کے انتخابات ہیں ؛ ہمارے عوام اس دور کے انتخابات کے بارے میں جب سنتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ شاید پورے ملک (ہندوستان) میں عام رائے عامہ کے تحت انتخابات ہوتے تھے جس میں عوام بھی ووٹ ڈال کر اپنے نمائندے چنتے تھے۔

ایسا ہرگز نہیں تھا، بلکہ ان انتخابات میں صرف اشرافیہ ووٹ ڈال سکتے تھے اور وہی اپنے نمائندے منتخب کرتے تھے۔ اب آپ کہیں گے کہ سرکار تو گوروں کی تھی ان کا کیا قصور۔ نہیں جناب دراصل ہمارے اسلاف کی ذاتی سوچ بھی یہی تھی اور وہ اسی پر عمل پیراء تھے۔

چونکہ اس ملک میں 1947 ء کے بعد بھی کچھ تبدیل نہیں ہوا وہی نظام ہے وہی اشرافیہ کی حکمرانی ہے۔ البتہ کچھ تبدیل ہوا تو وہ گورے تھے جو چلے گئے جن کی جگہ بھوروں نے لے لی اور انتخابات میں اب عوام کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ تاہم عوام کے ووٹ کی طاقت ہے نہ قدر۔ یہی اشرافیہ جس طرح چاہیے اس ووٹ کو استعمال کر سکتا ہے۔ نظام ان کا ہے طاقت ان کی ہے وہ جس طرح چاہیے اس نظام کو استعمال کر سکتے ہیں۔

عوام صرف ووٹ ڈالنے کے لئے ہیں جبکہ اس نظام کے اندر ان کا انتخابات میں حصہ لینا خواب و خیال سے زیادہ نہیں۔

جب 15 نومبر 2020 ء کو گلگت بلتستان کے انتخابات ہوئے تو اس میں تحریک انصاف نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے لئے ٹکٹ جاری کر دیے اور حسب معمول ایک بار پھر نون لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے مال دار تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب جبکہ تحریک انصاف کے 2015 ء کے ٹکٹ ہولڈر اور نظریاتی کارکن دیکھتے رہ گئے۔

حشمت اللہ، ڈاکٹر محمد زمان، عالم نور حیدر، ثناءاللہ خرم اور دیگر لوگ جنھوں نے پارٹی کو مشکل وقت میں سنبھالا اور اس کے پھیلاؤ میں وقت، علم اور پیسے کی قربانی دے کر مدد کی مگر عین وقت پر نظرانداز کر دیے گئے۔ پارٹی ٹکٹ دو اسلامی تحریک والوں کو، ایک پرانے جیالے کو، چار پرانے نون لیگیوں کو دیے گئے جن کا کل تک پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اگر تھا بھی تو مخاصمہ کا تھا۔ پارٹی کے ان دیرینہ کارکنوں کی حالت یوں تھی؛ ”ہے کچھ ایسی ہی بات جو چھپ ہوں / ورنہ کیا بات کر نہیں آتی۔“

میں سمجھتا ہوں کہ پارٹی سربراہوں کو صرف پیسہ اور موقع نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ حقیقی کام اور قربانی دیکھنا چاہیے۔ ستاروں پہ کمند پیسے کے ذریعے سے کوئی نہیں ڈال سکتا بلکہ علم اور وقت کے ذریعے سے ڈال دیتا ہے۔ قدر صرف پیسے کی نہیں ہوتی بلکہ علم اور وقت پیسے سے زیادہ قیمتی چیز ہیں۔ تاج و تخت پر سر پھرا نہیں بننا چاہیے۔ منطق اور حقائق کو عین وقت پس پشت نہیں ڈالنا چاہیے۔ تاج و تخت بھی آنی جانی چیز ہے۔

اور پھر یہ بھی سچ ہے کہ پیسے اور حسن والے وفادار نہیں ہوتے نہ ہی ان کو بقاء حاصل ہے۔ شاعر نے سچ کہا ہے ؛ ”کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل / کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت۔“

Facebook Comments HS