چھڑی کی طاقت
بندر اور مداری کا پرانا کھیل اب بھی جاری ہے۔ اس کھیل میں دلچسپ چیز وہ ”چھڑی“ ہے جو مداری کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور اصل طاقت مداری کی نہیں، بلکہ اس چھڑی کی ہوتی ہے جو بندر کو نچواتی ہے۔ اس کا کمال ایسی ایسی قلا بازیاں دکھاتا ہے کہ تماش بین بھی داد دیے بغیر نہیں رہتے۔ بندر میں انا بھی بہت ہے اور اسے جھکنا بھی خوب آتا ہے۔ اگر وہ آنکھیں ماتھے پر رکھنے لگے تو مداری فوراً چھڑی گھماتا اور اس کی اوقات یاد دلاتا ہے، پھر بندر بھی اشارے اور چھڑی دونوں کی طاقت کو خوب سمجھتا ہے اور چال ڈھال بدل لیتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مداری گلا گھونٹنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور اپنے اشاروں پر نچانے کی طاقت بھی۔
دونوں کا اکیلے گزارا نہیں اور وہ ساتھ رہنا بھی نہیں چاہتے۔ لیکن مفادات ہیں کہ انہیں الگ ہونے نہیں دیتے کیونکہ دونوں کی روزی روٹی ایک ساتھ جڑی ہے۔ اور یہی وہ روزگار ہے جس سے بہت سوں کے کاروبار وابستہ ہیں۔ اس لیے ہر کوئی لائن میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرتا ہے۔
ایسے ہی کھیل تماشے ہماری سیاست میں بھی جاری ہیں جہاں روز الزامات کی نئی سرکس لگتی ہے۔ اور ہدف کبھی حکومت ہوتی ہے تو کبھی اپوزیشن۔ کبھی امریکا تو کبھی اسٹیبلشمنٹ، لیکن اب کی بار ہدف عدلیہ بنی۔ جو حکومت کے نشانے پر بھی رہی اور اپوزیشن کے نشانے پر بھی۔ کبھی مقتدر حلقوں پر الزام لگتا رہا کہ وہ اپنی مرضی کے فیصلے کرانے کے لیے عدلیہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں تو کبھی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے گریبان پکڑتی نظر آتی ہیں کہ من پسند ججز سے من پسند فیصلے کرائے جا رہے ہیں۔
پہلے تحریک انصاف کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف نا اہلی کا ریفرنس فائل کیا گیا اور کردار کشی کی گئی۔ پھر نون لیگ کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ نے ہاتھ اٹھایا تو ججز نے گلے لگایا جیسے الزامات سامنے آئے۔ لیکن ہر دور میں ”شریک جرم“ کا الزام صرف ایک ہی حلقہ پر لگتا آیا ہے۔ اور یہ نہ رکنے والا سلسلہ تو جاری رہے گا کیونکہ سیاست بھی تو کرنی ہے اور وہ الزامات کے بغیر کیسے ممکن ہے؟ پھر سیاسی لبادے میں اصل کرداروں سے کون واقف نہیں ہے؟ چہرے اور سہولت کار تو بدلتے ہیں لیکن مفادات اور کردار نہیں۔ اقتدار میں آئیں تو سیاست سے لاتعلقی اور طاقت میں آئیں تو ہر چیز سے وابستگی۔ ہر دور اور کمان کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ اپنا کام کرنا نہیں اور دوسروں کو کرنے نہیں دینا۔ اور اس میں ریاستی مفاد کے نام پر ذاتی مفاد ہی کو دیکھا جاتا ہے۔
ایسے ہی ذاتی مفاد کے لیے اقتدار سے باہر کرداروں نے کمان سے باہر جنرل (ر) باجوہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ جنرل باجوہ نے کمان چھوڑی نہیں کہ سیاسی توپوں کا رخ ان کی طرف ہو گیا۔ پھر کیا وہ تحریک انصاف اور کیا نون لیگ۔ لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ باجوہ صاحب نے کمان چھوڑی ہے ادارے نے ان کا ساتھ نہیں۔ چھڑی کی طاقت کا اندازہ ہوتے ہی انداز بھی بدل گئے اور بیان بھی۔ پھر چاہے وہ حکومت سے نکالنے کا سازشی بیان ہو یا پانچ کے ٹولے سے مائنس کرنے کا امتحان۔
ہواؤں کا رخ بدلتے ہی مفادات بدلنا تو فطری ہے۔ سیاست میں ایک در سے ناکام ہوتے ہی نئے سہاروں کی تلاش ہوتی ہے اور پی ٹی آئی کے لیے وہ نیا سہارا چوہدری پرویز الٰہی کی صورت میں ہے۔ کہیں سیاسی مستقبل کے لیے پرویز الٰہی کو پی ٹی آئی کا صدر بنانے کی مجبوری ہے تو کہیں کسی کا منظور نظر ہونے کے لیے ضروری۔ کیونکہ وہ طاقتور حلقوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اور کہا جا رہا ہے کہ اس اثر و رسوخ سے اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان برف پگھلانے میں مدد ملے گی۔ دوریاں قربت میں بدل جائیں گی۔
قربت اور دوریوں کے اس کھیل میں حکومت وقت بھی برابر کی شریک ہے لیکن کھیل سے باہر ہونے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے۔ پہلے منظور نظر نواز شریف سیاست سے آؤٹ ہوئے اور پھر عمران خان کی بے مثال محبت کا ایسا بھیانک انجام کہ ہر کوئی کہنے پر مجبور ہوا کہ ”اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا“ ۔ لیکن وقت بدل گیا حالات بدل گئے نہیں بدلا تو صرف چال چلن نہیں بدلا۔ وہی سیاسی جماعتیں، وہی کمان اور وہی بے لگام پرندے جو ایک شاخ سے دوسری شاخ پر اڑتے ہیں۔ ایک طرف عمران خان ہیں اور دوسری طرف کمان۔ اور کمان کو نظریں پھیرتے زیادہ دیر نہیں لگتی۔ اس لیے وقت کم ہے اور مقابلہ سخت، جو مقابلے میں قدم جمائے رکھے گا اس کی کشتی ہی پار لگے گی۔
کیونکہ نہ کھیل بدل رہا ہے اور نہ ہی کردار۔ بندر کو بھی چھڑی کھانے کی عادت ہے اور وہ بار بار مداری کے پاس آتا ہے کہ ”میرے سرکار!“ ہم حاضر ہیں۔ آپ بھی اس ”ایڈوینچر“ کا مزا لیں۔


