احتساب سب کا

حالانکہ پارلیمانی قانون سازی ہی عدلیہ کے وجود قائم ہے۔ عدلیہ میں ججوں کی بھرتی کے معاملے میں بھی عدلیہ کی بلیک میلنگ چلتی ہے۔ اور بینچز کی تشکیل تو اور کیسز کو مخصوص بینچز یا ججز کے پاس لگانا عدل و انصاف اور قانون کا خود مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ آج ملک جس سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے اس میں کلیدی کردار عدلیہ کا ہی ہے جو جرنیلوں کے تنخواہ دار پلاٹ کے حصہ دار ہیں۔ آپ یہ بھول جائیے کہ عدلیہ کے اپنے احتساب کے بغیر آپ کسی بھی ادارے یا شخص کا حقیقی احتساب کر سکتے ہیں۔
اور ممکن ہی نہیں کہ ملک معاشی یا سیاسی استحکام حاصل کر سکے۔ کیونکہ اسی استحکام کو سبوتاژ کرنے کے لئے ہمارے خاکی محکمے ان عدالتوں کا ہی سہارا لیتے ہیں۔ عدلیہ کا احتساب جس قدر ضروری ہے۔ شاید ہی کوئی اور چیز ضروری ہو۔ ورنہ آپ معاشی استحکام کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود ایک ہی جھٹکے سے واپس زمین پر آ گریں گے۔ حیرت کا مقام ہے جس پارلیمان کی کوکھ سے یہ سارے محکمے جنم لیتے ہیں۔ وہ پارلیمان تو عوامی سے لے کر عدالتی ہر سطح پر قابل مواخذہ ہوتی ہے لیکن اسی کی قانون سازی کے نتیجے میں بننے والی محکمے تقدس کا روپ دھار لیتے ہیں اور اپنے خود ساختہ اندرونی احتسابی نظام کا چکمہ دے کر ہر قسم کی جوابدہی سے دامن بچا لیتے ہیں۔ اور یہی بنیادی خرابی کا سبب ہے۔ تمام محکموں کو عام عدالتی نظام کے تحت آنا چاہیے اور ان عدالتوں کو بھی پارلیمان کے آگے جوابدہ ہونا چاہیے۔
سوموٹو ایکشن جب افتخار چوہدری نے شروع کیا تو شروع میں سیاستدانوں اور عوام نے نے اسے بڑی خوش نصیبی اور عوام تک انصاف کی رسائی کا ذریعہ سمجھا جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ یہی سوموٹو عدلیہ کے ہاتھوں میں بلیک میلنگ کا ہتھیار بن گیا۔ جس کے ذریعے عدلیہ نے جہاں چاہا جس منصوبے کو چاہا برباد کیا۔ کڈنی لیور سینٹر سے لے کر اورنج لائن منصوبے اور ریکوڈک تک ہر جگہ اس کا بے محابہ استعمال کیا اور ملک کی ترقی کا۔ پہیہ روک دیا اور چلتی حکومتیں رخصت کر کے خاکیوں کے ڈاکٹرائن کا لقمہ بنا دیا۔
پارلیمنٹ کو فوراً قانون سازی کر کے عدلیہ کو بھی نیب کے ماتحت کر دینا چاہیے یا مواخذے کی کوئی قابل عمل صورت بنانی چاہیے۔


درست کہا اپ نے۔ ایک چیف جسٹس پورے نظام کو یرغمال بنا لیتا ہے۔۔جیسے وزیراعظم کے فیصلے کو کابینہ کی منظوری سے مشروط کیا گیا یہ اصول کورٹ پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔۔