غریبوں کو جگا دو !


چند روز قبل حکومت نے سادگی و کفایت شعاری کا نعرہ لگاتے ہوئے کئی اعلانات کیے حکومتی مراعات اور آسائشوں کی عظیم قربانی دی گئی اور ایسی نظیر قائم کرنے کی کوشش کی جسے کم از کم دنیا نہ سہی پاکستانی قوم صدیوں یاد رکھے۔ ان آسائشوں کی قربانی کا حقیقت سے بھی کوئی تعلق ہے یا حکومت کی روز بروز گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کا بھونڈا طریقہ اس کا فیصلہ تو حکومت کے چال چلن سے چند روز میں واضح ہو ہی جائے گا۔ لیکن اگر اس کو سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو عوام کو بتایا گیا کہ ان کے خون پسینے کی کمائی پر اب عیاشی کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ہماری اشرافیہ پہلی بار قربانی دینے چلی ہے تو عوام کو بھی چاہیے کے ہاتھ تھوڑا ہولا رکھیں اور وزرا ء کے خرچوں کا موازنہ چاچا رحمت کے خرچوں سے کرنے نہ بیٹھ جائیں کیونکہ ہماری بھولی بھالی جنتا اتنی غریب اور آزردہ خاطر ہے کہ اس کو حکومتی ضرورت بھی عیاشی لگنے لگتی ہے۔ مثال کے طور پر اکثر عوام یہ سوال کرتے ہیں کہ وزراء بڑی بڑی گاڑیوں کے بجائے عام گاڑیوں میں سفر کیوں نہیں کرتے اب عوام کی اکثریت جو خستہ حال بسوں اور غیر معیاری پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتی ہو اس کو کروڑوں روپے مالیت کی لینڈ کروزر کے پر سکون سفر کی افادیت کا اندازہ کیسے ہو اور اگر اس پر جھنڈا بھی لگا ہو تو بندہ طاقت و دولت کے نشے میں ڈبکیاں نہ مارے تو کیا کرے۔

ایک وزیر عام سی گاڑی میں بغیر کسی پروٹوکول کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر دوڑ دھوپ کرتا پھرے نہ ہوٹر کا شور نہ سڑکیں بند نہ عوام ذلیل و خوا ر ہو تو ایک عوامی نمائندے میں اور عوام میں فرق کیا رہ جائے گا؟ ارے بھائی پتہ تو چلے فلاں وزیر صاحب آئے تھے جب تک چرچا نہیں ہو گا تو خبر کیسے بنے گی۔ اور پھر بھی اگر کسی کے دل میں ایسے عوامی نمائندوں کو دیکھنے کا شوق مچل رہا ہو تو وہ یورپ، امریکہ، کینیڈا یا آسٹریلیا کا رخ کرے ہمارے ملک میں یہ سب نہیں چلتا بھائی۔

یہاں محمود اور ایاز ایک صف میں نہ کبھی کھڑے ہوئے اور نہ کبھی کھڑے ہوں گے۔ ایک امیدوار الیکشن سے پہلے جس گھر میں رہتا ہو جس گاڑی میں سفر کرتا ہو جن سڑکوں گلیوں میں ایک ایک ووٹ کی بھیک مانگتا پھرتا ہو الیکشن جیتنے اور وزیر بننے کے بعد راتوں رات ایسا کیا چمتکار ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے ہی لوگوں سے جان کا خوف محسوس ہونے لگتا ہے اور اپنی باقی ماندہ زندگی سرکاری خرچ پر بسر کرنا چاہتا ہے۔ کیا کوئی عوامی عہدیدار سرکاری رہائش گاہ کے بجائے اپنے گھر میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت نہیں کر سکتا اگر عوام کی خدمت کے عوض وہ تمام آسائشوں اور مراعات کو اپنا حق سمجھتا ہے تو خدارا اس کو خدمت کا نام مت دیے خدمت میں اجرت طلب نہیں کی جاتی حضور۔

اور یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ وزارت کے حصول کی خاطر ایک نمائندے کو کتنی محنت کرنی پڑتی ہے اور جب یہ محنت بر آتی ہے تو محنت کا پھل کون چھوڑتا ہے۔ جب تک ان پھل دار درختوں کو نہیں کاٹا جاتا اور نوچ نوچ کے پھل کھانے کا سلسلہ نہیں رکتا یہ ملک کبھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ جب وفاقی کابینہ کی آسائشوں کی قربانی دی جا رہی تھی تو وزیر اعظم صاحب کو سرکاری افسران کیوں نظر نہیں آئے کیا ان کی قربانی جائز نہیں۔

ہمارے سرکاری افسران آج بھی انگریزوں کی روایات زندہ رکھتے ہوئے محل نما سرکاری گھروں میں قیام پذیر ہیں۔ کوئی حساب کتاب ہے کہ فقط چار چھ افراد پر مشتمل خاندان جو کئی کنالوں پر محیط گھر میں رہتا ہے اس پر حکومت کو کتنے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ سرکاری افسر ان سے اگر بڑی بڑی سرکاری رہائش گاہیں خالی کرا لی جائیں تو کیا ان کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے کا اندیشہ ہے اگر ایسا نہیں تو ان کی تنخواہ میں ایک حساب سے اضافہ کر کے ان سے وہ تمام مراعات واپس لی جانی چاہئیں جو حکومتی خزانے پر بوجھ ہیں۔

جس ملک میں لوگ دو وقت کی روٹی نہ ملنے پر اپنے بچوں سمیت خود کشی کر رہے ہوں آٹے کی لائنوں میں لگ کر اپنی جان گنوا رہے ہوں علاج کے انتظار میں موت کو گلے لگا رہے ہوں جس ملک میں لوگوں کے نزدیک قبر کی تاریکی زندگی کی رعنائیوں سے زیادہ پر کشش ہو جائے وہاں ایسی آسائشوں کا حصول قابل سزا جرم قرار دے دینا چاہیے۔ اشرافیہ عوام کے پیسوں پر عیاشی کرے اور قربانی عوام دیں یہ سلسلہ اب رکنا چاہیے۔ خدارا آنکھیں کھولیں اور معاشرے میں پھیلی غربت بھوک افلاس اور نا انصافی کو دیکھیں اور اس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں وگرنہ یہ سویا ہوا ہجوم کسی دن اک قوم بن کر اٹھ بیٹھا تو حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔

Facebook Comments HS