بیماری سے شفا میں دعا کا کردار
میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، مسٹر جیمز نے کہاَ۔
جی پوچھیے؟ میں متجسس تھی۔
ایک ڈاکٹر ہونے کے لحاظ سے آپ کا بیماری سے شفا پانے کے لیے دعاؤں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ہمارے سیاحوں کے کئی ممبران اسکینگ اور سنو ٹیوبنگ کے بعد پٹسبرگ، پینسلوانیا میں ایک سوشی ریستوران میں ڈنر کے لیے ملنے والے تھے۔ جو لوگ اس کی کرنے نہیں گئے تھے انہوں نے اوبر ڈرائیور لے کر ریستوران میں ملنے کا پروگرام بنایا۔ میں نے اوبر ایپ میں اس ریستوران کا ایڈریس ڈال کر ڈرائیور بلایا۔ کوئی پندرہ منٹ میں ایک کالے رنگ کی کیا ماڈل کی جیپ میں ایک ساٹھ کی دہائی میں سفید فام آدمی جن کا نام جیمز تھا وہ ہمیں لینے اولیسس روڈ پر ملے۔
ہم تین لوگ ان کی گاڑی میں بیٹھے۔ میں ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کتنے عرصے سے پٹسبرگ میں رہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں یہیں پیدا ہوا اور میری تقریباً ساری زندگی یہاں گزری ہے۔ میرے چار بچے ہیں اور پندرہ پوتے پوتیاں ہیں۔ اوہ اچھا! میں نے ہنس کر ان سے کہا۔ وہ آپ کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مصروف رکھیں گے۔ ان سب کے لیے کرسمس کے تحفے خریدنے کے لیے آپ کو کام کرتے رہنا پڑے گا۔
جی بالکل ایسا ہی ہے۔ اور آپ؟ انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ میں نارمن اوکلاہوما میں اینڈوکرنالوجسٹ ہوں۔ ہم ذیابیطس، تھائرائڈ اور اوسٹیو پوروسس جیسی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔ پٹسبرگ، پینسلوانیا میں دو ہزار پانچ سے دو ہزار آٹھ تک میں نے مرسی ہسپتال سے انٹرنل میڈیسن میں ریزیڈنسی کی تھی۔ میں نے ان کے سوال کا جواب دیا۔
میں بھی ایک اینڈوکرائن کا مریض ہوں اور یہ سارے مسائل مجھ میں ہیں! مسٹر جیمز نے کہا۔ مجھے تھائرائڈ کا کینسر ہو چکا ہے اور ذیابیطس بھی ہے۔
ماؤنٹ واشنگٹن سے مڑ کر پل پر سے گزر کر جب ہم نے سیدھا ٹرن لیا تو مرسی ہسپتال کے پاس سے گزرے۔ یہ رہا آپ کا پرانا ہسپتال! مسٹر جیمز نے کہا۔ وہ اب ذرا مختلف سا لگتا ہے۔ یونیورسٹی آف پٹسبرگ نے جب مرسی ہسپتال کو خرید لیا تو اس کا نام بھی یو پی ایم سی مرسی بن گیا تھا۔ جہاں ریذیڈنٹس کے لیے پارکنگ لاٹ ہوتا تھا وہاں اب مزید عمارتیں بن چکی ہیں۔
میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، مسٹر جیمز نے کہاَ۔ جی پوچھیے؟ میں متجسس تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ ایک ڈاکٹر ہونے کے لحاظ سے آپ کا دعاؤں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
دعائیں بیماری کا کچھ نہیں کرتیں لیکن اگر ہمارے مریض یا ان کے رشتہ دار اس سے بہتر محسوس کریں تو ہمیں اس میں کوئی شکایت یا اعتراض نہیں ہے۔ میں نے ان کو جواب دیا۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ دوا اور باقی علاج ساتھ میں جاری رکھا جائے اور صرف دعا پر انحصار نہ کیا جائے۔
میں آپ کو اپنی زندگی کا ایک اصلی قصہ سنانا چاہتا ہوں، مسٹر جیمز نے کہا۔
جی سنائیے!
مجھے تھائرائڈ کا کینسر کئی سال پہلے ہوا تھا۔ وہ جو سب سے عام قسم کا ہوتا ہے، پیپلری تھائرائڈ کارسینوما! وہ تھا۔ اس کو سرجری کر کے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد مجھے ریڈیوایکٹو آیوڈین دی گئی تاکہ بقایا تھائرائڈ کے خلیے بالکل مر جائیں۔ پھر میرا سارے جسم کا اسکین کیا گیا جس میں اور کہیں تھائرائڈ کا کینسر پھیلا ہوا نہیں دیکھا گیا۔ میں اس وقت سے تھائرائڈ ہارمون کی ایک گولی روز لیتا ہوں۔ یہ سب کچھ درست معلومات معلوم ہوئی، میں توجہ سے سن رہی تھی۔
اس کے کچھ سال کے بعد میرے گلے میں لمفی غدود بڑھ گئے تھے۔ میں اپنے اینڈوکرنالوجسٹ کے پاس گیا جنہوں نے کہا کہ آپ کا تھائرائڈ کا کینسر ان غدود میں واپس آ گیا ہے اور آپ کو ان کی سرجری کی ضرورت ہے۔ یہ سن کر میں کافی پریشان ہو گیا۔ انہوں نے مجھے ایک اینڈوکرائن سرجن کے پاس بھیجا۔ میں نے گھر واپس آ کر اپنی بیوی سے ذکر کیا جو کیتھولک اسکول میں کام کرتی تھی۔ اس دن میری بیوی نے اس بات کا ذکر اپنے کیتھولک اسکول میں کیا اور انہوں نے میرے لیے ایک خاص دعا کی جو نو دن کے لیے ہوتی ہے۔ اس کو نووینا دعا کہتے ہیں۔
میں اگلے دن سرجن سے ملا جنہوں نے کہا کہ سرجری سے پہلے ان غدود کی بایوپسی کروانا چاہیے۔ ان غدود کی بایوپسی ہوئی۔ دعا جاری تھی۔ آٹھویں دن، سرجری کی تاریخ سے صرف ایک دن پہلے اور دعا ختم ہونے سے ایک دن پہلے مجھے سرجن کی طرف سے فون آیا کہ پیتھالوجی کے نتائج واپس آ گئے ہیں اور لمف نوڈز میں کینسر نہیں دیکھا گیا ہے اور مجھے سرجری کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کا کیس تھائرائڈ کینسر کے فالو اپ کا کیس ہے۔
ہمارے گلے میں کل ملا کر تقریباً تین سو لمف نوڈز ہیں اور وہ تو سانس کی نالی اور راستے میں انفیکشن ہو جانے سے سوجتی رہتی ہیں۔ بایوپسی کرنا ایک اسٹینڈرڈ پروسیجر ہے۔ آپ کا کینسر دعا سے غائب نہیں ہوا۔ وہ یا تو تھا ہی نہیں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بایوپسی کا نتیجہ فالس نیگیٹو ہو۔ کوئی بھی ٹیسٹ سو فیصد درست نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ کسی بھی ٹیسٹ کے نتائج کو چار گروہوں میں بانٹ سکتے ہیں۔ ایک سچا مثبت، ایک چھوٹا مثبت، ایک سچا منفی اور ایک جھوٹا منفی۔ یہ کیس ہم روز دیکھتے ہیں۔ لیکن وہ یہ تفہیم سننے میں یا اپنی بیماری کی میڈیکل تفصیل سننے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ بہرحال، یہ میرے لیے ایک معجزہ ہے۔ مسٹر جیمز نے کہا۔
برطانوی فرانسس گالٹن وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے سن اٹھارہ سو بہتر میں ایک دعا کی تاثیر کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سارے انگلستان میں سب سے زیادہ دعا جس شخص کے لیے کی جاتی ہے وہ تخت نشین بادشاہ ہے۔ ہر اتوار کے دن انگلستان کے گرجا گھر میں بادشاہ کی لمبی عمر اور صحت کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔ پھر بھی بقایا تمام کھاتے پیتے گروہوں کے برخلاف یہ بادشاہ ہی ہوتا ہے جس کی عمر سب سے کم نکلتی ہے۔ فرانسس گالٹن نے اس بات کا یہ نتیجہ نکالا کہ دعا میں کچھ تاثیر نہیں پائی جاتی۔
دعا کے صحت اور بیماری پر اثر سے متعلق کافی تحقیق ہو چکی ہے جن سے معلوم ہوا کہ جن بیماروں کے لیے دعا کی گئی تھی ان کے نتائج ان مریضوں کی طرح ہی تھے جن کے لیے دعا نہیں کی گئی تھی۔ ایک اسٹڈی میں یہ دلچسپ مشاہدہ کیا گیا کہ جن کے لیے دعا کی جا رہی تھی انہیں تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن دعا کرنے والے خود بہتر محسوس کرنے لگے۔ لیکن کچھ نئی اسٹڈیز اب بھی جاری ہیں۔ کلینکل ٹرائلز کی ویب سائٹ پر اس وقت ایک اسٹڈی کی پوسٹ موجود ہے جو کورونا کے مریضوں پر دعا کے اثرات کے مطالعے میں مصروف ہے جو کہ وقت اور وسائل کا زیاں معلوم ہوتی ہے۔ یہ سوڈو سائنس کی ایک مثال ہے۔
ہمارے اوبر ڈرائیور مسٹر جیمز کے معجزے کی کہانی سننے کے بعد ہم نے گفتگو کا موضوع بدل دیا۔ اور ان کے اوکلاہوما سٹی میں ایک مختصر جاب کے تجربے کے بارے میں بات چیت کی جہاں انہوں نے سن دو ہزار میں کچھ عرصہ کے لیے کام کیا تھا۔ اب وہ کمپنی ختم ہو چکی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس کمپنی کے لیے دعا کی گئی ہوتی تو کیا وہ بند نہ ہوتی؟

