منطقی انجام کی طرف
کیا آپ جانتے ہیں کہ روایات کے مطابق جب آدم کے بیٹے نے اپنی نیاز قبول نہ ہونے کے الزام اور حسد میں اپنے بھائی کو قتل کیا تھا تو اُسکے آخری الفاظ کیا تھے۔ ’میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی کرنی کر گزرو اور میرے حصے کا بوجھ بھی اٹھا لو‘ ۔
انسان نے ہر دور میں ایسے کارنامے انجام دیے ہیں کہ تاریخ کا چہرہ چمک رہا ہے۔ ایسے میں صالحین اور صلح جو افراد کا جو انجام ہوا وہ کسی سے نہاں نہیں۔ اس لیے ہم ان باتوں کا ذکر نہیں کرتے جہاں ہمارے پیر جلنے لگیں۔ سچ بہرحال کڑوا ہوتا ہے۔ میں آئے دن اخبار میں نئی نئی باتیں پڑھتا ہوں۔ ان میں اکثر خبریں ایسی ہوتی ہیں۔ فلاں جگہ حادثہ ہوا، دھماکہ ہوا، اس ادارے میں غبن ہو گیا، عدالت نے ایسے کر دیا، سیاست دان کرپٹ ہیں، استاد ویسے ہیں وکیل یہ اور ڈاکٹر وہ۔ ایسی خبریں پڑھ کر مجھے مزا آتا ہے۔ یقیناً میں اذیت پسند بنتا جا رہا ہوں۔ لیکن ایک لمحے کے لیے سوچیں اور اس خیال کو ہضم کریں۔ ’کیا ہمارا جو حال ہو رہا ہے یا آنے والا مستقبل، ہم وہی کچھ ڈیزرو نہیں کرتے۔ کیا ہم اسی قابل نہیں ہیں۔
معافی چاہتا ہوں میں نے بلی کی دم پر پیر رکھ دیا۔ ہمارے اخلاقیات کیا ہیں۔ ہم لوگ صفائی پسند نہیں، ماحول دوست نہیں، بجلی چوری کرتے ہیں، ریا کاری کرتے ہیں، ناپ تول میں کمی کرتے ہیں اور حد درجہ لالچی بھی ہیں۔ یہ سارے جرائم کیا کسی نے مریخ سے آ کر کیے ہیں؟ ’آبلے پڑ گئے ہیں زبان میں کیا‘ ۔ اب شاید آپ اس تحریر کو ہیٹ اسپیچ کے زمرے میں ڈال کر بند کر دیں، لیکن بات تو ایسی ہی ہے۔
میرے ایک کولیگ نے فرسٹ ایڈ باکس سے دوائیں چرا لیں ہمارے منع کرنے پر منہ سے پھول بھی نچھاور کیے۔ اسی طرح کئیوں نے بلب بھی توڑے، ہمارے چہرے پر کانچ کی بوتلیں ماریں۔ بچنا تھا بچ گئے۔
پورے ملک میں گالی کلچر عام ہے۔ اب اس کی کیا وضاحت کروں۔ آپ کا نوجوان، سیاست دان، فنکار، سائنسدان ہر بات میں گالی کا لاحقہ لگانا فرض سمجھتا اور اُس کا مین تھیم کون ہے ’عورت‘ اب کر لو حقوق نسواں کی بات۔ اور سکھایا کس نے ہے یہ سب تربیت تو مائیں کرتی ہیں ناں، جواب ندارد؟
میری اماں اُستانی تھی، ایک مڈل سرکاری اسکول کی بساط ہی کیا ہوتی ہے۔ اس کے خلاف اخبار میں غبن کی خبریں کس نے چھاپیں۔ ان ہی لوگوں نے چھاپیں، جن کی وجہ سے میرے نانا جی پانچ سال اپنی پینشن اور بقیہ جات کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹتے رہے۔ ان پر بھی اینٹی کرپشن کا مقدمہ ہوا تھا۔ اور آخر میں انہوں نے کیا کیا؟ جس نے اسکول کی عمارت بنوائی، اُسکی ساری زندگی کی خدمات کا یہ صلح دیا۔ وہ آج پیسے پیسے کے لئے لوگوں کے در در کا محتاج ہے۔ جس نے اس قوم کی بنیادوں میں اپنا لہو ڈالا، انہوں نے اُسے سولی پر چڑھا کر بغلیں بجائیں۔ اب میں شوپن ہائر کا ذکر کروں تو لوگوں کو مروڑ لگ جائیں گے۔ اس نے کہا تھا کہ کبھی خدا زندہ تھا اور زمین پر ہمارے ساتھ رہتا تھا۔ پھر ہم نے مل جل اسے مار ڈالا۔
مجھے اچھا ایمان دار انسان نہیں بننا۔ مجھے اچھا ڈاکٹر بھی نہیں بننا، لیکن میری ماں نے مجھے گالیاں نکالنے پر تھپڑ مارے تھے۔ میں مذہب بیزار ہوں؟ مجھے اس نے بنیادی انسانی اور روحانی عقائد، اور اخلاقیات گود میں ہی سکھا دیے تھے۔ میرا خدا تمہارے خدا سے مختلف ہے۔
اب بتائیں، پی آئی اے، ریلوے، سیاست، عدلیہ، تعلیم صحت اور معیشت کا جنازہ کس نے نکالا۔ آئی ایم ایف کے پیسے کہاں گئے۔ ہمارے لالچ، کینہ اور انا کی نظر ہو گئے۔ ہم اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئے ہیں۔ اور تاریخ جھوٹ نہیں بولتی۔ ہم بولتے ہیں اور وہ آسمان پر تھوکے کی طرح، ہماری طرف ہی پلٹتا ہے۔


