پنجاب مزاحمت کیوں نہیں کرتا؟
آج سے دو سال پہلے لاہور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پنجابیوں پر تنقید کرتے ہوا کہا تھا کہ آپ نے انگریز سامراج، ہندؤں اور سکھوں کا ساتھ دے کر افغان سرزمین پر قبضے کی کوشش کی۔ اسی طرح مختلف اوقات میں سیاسی کانفرنسوں، علمی مباحثوں یونیورسٹیوں، جلسے جلوسوں، اور سوشل میڈیا پر ایک تنقید، جو پنجاب پر اکثر کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ تاریخی طور پر پنجاب نے کبھی باہر سے آنے والے حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت نہیں کی۔ مختلف صوبوں کے قومیت پرست لیڈر اور دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب نے بغیر کسی مزاحمت کے مشرق سے آنے والوں کو خیبر تک اور مغرب سے آنے والوں کو دلی تک کا راستہ فراہم کیا۔ لیکن اگر تاریخی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوئے ان الزامات اور تنقید کو پرکھا جائے تو یہ بالکل بے جا اور حقائق سے ناآشنا نظر آتی ہے۔ اسی طرح پنجابیوں کو ایک قوم کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان کے تاریخی کردار کو مذہب سے نتھی کر دیا جاتا ہے اور ان کی وفاداریوں کو قومی نظریے کے بجائے مذہبی پیرائے میں دیکھا جاتا ہے۔
اس تنقید کو تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھنے سے پہلے ایک اور اہم نقطہ ہے جو اس ساری بحث کے دوران اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ سوائے رنجیت سنگھ کے چند سالہ دور کے، پنجاب سے دوسرے علاقوں پر کوئی قابلِ ذکر جارحانہ حملہ نہیں ہوا۔ پنجاب، یعنی پانچ دریاؤں کی سرزمین، زرعی طور پر ایک زرخیز خطہّ ہے اور ہزاروں سالوں سے یہاں کے باشندے زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ یہاں کی زرخیز زمین اور اس کے وسائل یہاں کے باشندوں کی تمام ضروریات پوری کر رہے تھے، اسی لیے کبھی یہاں کے لوگوں کو اپنی ضروری وسائل کے حصول کے لئے دوسرے علاقوں پر حملہ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔
اس جغرافیہ کی وجہ سے یہاں کے لوگ لڑاکا طبیعت کے مالک نہیں تھے۔ زراعت کیوں کہ یہاں کے لوگوں کا بنیادی پیشہ تھا اسی لیے اِن کے جسم جنگ کے بجائے زراعت کے زیادہ موزوں تھے۔ مُوہِنجو دڑو سے ہڑپّہ تک پھیلی وادی سندھ کی تہذیب کے مختلف آثار سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہاں کے لوگ زرعی آلات بنانے میں تو بہت ماہر تھے لیکن ان کے جنگی آلات صرف بنیادی نوعیت کے ہی تھے اور صدیوں سے موجودہ پنجاب اور سندھ ایک امن پسند خطہ رہے ہیں۔ پنجاب ایک ایسا علاقہ ہے جو مکمل طور پر زمین سے گھرا ہوا ہے۔ اگر پنجاب کے ہمسائے مشرق، مغرب اور جنوب سے آنے والے حملہ آوروں کو روک لیتے تو شاید پنجاب کو مزاحمت کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
لیکن اگر ہم قدیم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مزاحمت صدیوں سے پنجاب کی روایت رہی ہے۔ 326 قبل از مسیح میں جب اسکندر فارس جیسی عظیم سلطنت کو تہہ و تیغ کرتا ہندوستان کی جانب بڑھا تو پنجاب ہی وہ واحد خطہ تھا جہاں اسے فارس کے بعد دوسری بڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ موجودہ پاکستانی پنجاب کے دریا جہلم کے کنارے پر جب اسکندر اور پنجاب کے راجہ پورس کی فوجیں میدان جنگ میں اتریں تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ وہی مزاحمت ہے جو اسکندر کے دنیا فتح کرنے کا خواب چکنا چور کرے گی۔ اس کے برعکس کہ راجہ پورس کی فوج یہ جنگ ہار گئی مگر ان کی دیدہ دلیری اور سخت مزاحمت سے اسکندر کی فوج کا حوصلہ پست ہو گیا۔ جنگ کے بعد جب راجہ پورس کو زخمی حالت میں اسکندر کے سامنے لایا گیا تو اسکندر نے راجہ پورس سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے۔ راجہ پورس کا جواب کہ، میرے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو کہ ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے تاریخ میں امر ہو گیا۔
اسی طرح جب دسویں صدی عیسوی میں شمال مغرب سے وسط ایشیائی ترکوں کے حملے شروع ہوئے تو تب بھی پنجاب ہندوستان کے دفاع کی پہلی لکیر ثابت ہوا۔ جب محمود غزنوی نے ہندوستان پر چڑھائی کی تو پنجاب کے ہندو راجہ جے پال اور ان کے خاندان کی سخت مزاحمت کی ہی وجہ سے محمود غزنوی کے تقریباً پندرہ سے زائد حملے ناکام ہوئے۔
اسی طرح مغلوں نے جب دلی سلطنت اور باقی ہندوستانی حکمرانوں کو زیر کر کے شمال مغربی ہندوستان پر قبضہ کیا تو تب بھی پنجاب میں مغلوں کے خلاف مختلف آوازیں اٹھتی رہیں۔ بغاوت اور مزاحمت کا یہ سلسلہ چھوٹے بڑے درجے پر جاری رہا۔ زرعی محصول کے خلاف احتجاج میں عٙلمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے دُلا بھٹی اور ان کا خاندان جب مغلوں کے خلاف برسر پیکار ہوا تو مقامی لوگوں نے مذہبی اور سماجی تفریق کو بھلا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اسی بغاوت سے نپٹنے کے لیے مغل بادشاہ اکبر کو دو مرتبہ اپنا دارالحکومت دلی سے لاہور منتقل کرنا پڑا۔
اٹھارہویں صدی میں جب پنجاب ایک طاقتور اور پُر اثر قیادت سے محروم تھا تو اس وقت مغرب میں افغانستان سے احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے پنجاب کے سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی کو تہس نہس کر دیا۔ افغانوں کی لوٹ مار نے پنجاب میں ایک افراتفری جیسی صورتحال برپا کر دی۔
لیکن اس تباہی کے دو دہائیوں کے اندر ہی پنجاب اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر کے جسا سنگھ اہلووالیا اور ہری سنگھ نلوا کی قیادت میں افغانوں کو شکست دی۔ جنوب مشرقی ہندوستان فتح کرنے کے بعد انگریز جب مغرب کی طرف بڑھے تو پنجاب ہی وہ واحد بڑی اور منظم ریاست تھی جہاں پنجاب کی سکھ سلطنت کی طرف سے انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ رنجیت سنگھ کی قیادت میں پنجابی فوج نے برطانوی سامراج کا بھرپور مقابلہ کیا۔ تقریباً دس چھوٹی اور دو بڑی جنگوں اور مکارانہ چالوں کے بعد ہی انگریز پنجاب کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے۔
بیسویں صدی میں ہندوستان میں بغاوت کے عظیم استعارے بھگت سنگھ کا تعلق بھی پنجاب کے ضلع لائلپور (موجود فیصل آباد) سے ہی تھا۔ بھگت سنگھ نے نہ صرف برطانوی سامراج کے خلاف عٙلمِ بغاوت بلند کیا بلکہ انھوں نے اپنے معاشرے میں موجود سماجی اور مذہبی تنگ نظری کے خلاف بھی جدوجہد کی۔
کسان پنجابی معاشرے کا ایم جزو ہیں۔ تقسیم کے بعد پنجاب کے دونوں حصوں میں مزاحمت کا علم کسانوں نے تھام لیا۔ سنہ 2000 میں اوکاڑہ اور وسطی پنجاب کے باقی اضلاع کے کسانوں نے زرعی مزارعین کے ملکیتی قوانین کو ختم کرنے کے خلاف ایک بڑی تحریک شروع کی۔ اس مسئلے کی دو فریقین کسان اور طاقتور پاکستانی فوج تھیں۔ تقریباً دس لاکھ کسانوں کی نمایندہ جماعت انجمنِ مزارعین پنجاب نے اس ساری جدوجہد کو قیادت کی اور یہ حالیہ وقتوں کی ایک قابلِ ذکر زرعی تحریک بنی ہے۔ پاکستانی فوج کے اوکاڑہ ملٹری فارمز کی انتظامیہ کے خلاف یہ مزاحمت تقریباً دو عشروں تک جاری رہی۔ مہر عبدالستار اور ان جیسے کئی دوسرے کسانوں نے قید و بند کی صعوبتیں اور بے بنیاد پولیس کیسز کا سامنا کیا لیکن یہ سب کسانوں کا حوصلہ پست نہیں کر سکے۔
دوسری طرف 2020۔ 21 میں بھارتی پارلیمنٹ نے اجناس کی خرید و فروخت اور منڈی سے متعلقہ تین نئے قوانین پاس کیے بھارتی کسان اور بالخصوص پنجابی کسانوں نے لانگ مارچ کیے اور کئی ماہ تک دہلی کے دروازے پر دھرنا دیے رکھا۔ آخر کار بھارتی حکومت کو ان قوانین کو واپس لینا پڑا۔
پنجاب کی سیاسی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نہ انصافیوں اور غلطیوں کا قصوروار پنجابی عوام کو ٹھہرایا جاتا جو کہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ سیاسی اور فوجی قیادت کا تعلق ایک خاص معاشی طبقے اور خاص اضلاع سے ہے۔ باقی صوبوں کی عوام کی طرح پنجاب کی عوام کی بڑی تعداد بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے لیکن آج جب بھی دوسری مظلوم قومیتوں کے حق میں کوئی ریلی یا احتجاج ریکارڈ کروایا جاتا ہے تو یہاں کے طالبعلم اور مختلف طبقہِ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ راجہ پورس سے لے کر دُلا بھٹی تک، رنجیت سنگھ سے رائے احمد خان کھرل تک اور بھگت سنگھ سے اوکاڑہ کے کسانوں تک، مختلف ادوار میں پنجاب کے سپوتوں نے مزاحمت کی روایت جاری رکھی۔ باقی مزاحمت کا اثر کم یا زیادہ تو ہو سکتا ہے لیکن کبھی ختم نہیں ہو سکتا اور مزاحمت کی یہ روایت اب بھی پنجاب کے دونوں حصوں میں جاری ہے


