سپریم کورٹ کا فیصلہ اور پنجاب میں الیکشن


پچھلے کالم میں عرض کیا تھا کہ پنجاب میں الیکشن کا معاملہ آخر کار سپریم کورٹ میں جانا ہے اور وہاں آئین کے مطابق نوے دن کے اندر الیکشن کا حکم آنا ہے کیونکہ موجودہ چیف جسٹس نے اس بحران کے شروع سے لے کر اب تک جو بھی فیصلے دیے ہیں اس میں آئین کی عملداری کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اور کسی پارٹی کا کوئی دباؤ برداشت نہیں کیا ہے۔ بلاشبہ آئین کی بالادستی قائم رکھنے پر موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

سیاست جہاں اب ایک اقتدار کی جنگ بن چکی ہے لیکن سیاست کے لئے آئین نے کچھ رولز بنائے ہیں اور ان پر عمل کرنا سیاستدانوں کے لئے ازحد لازمی ہے تاکہ ملک میں ایک انار کی کا تاثر نہ پہنچے۔ آئین جمہوریت کے لئے ایک مقدس دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جس کے ساتھ کھیلنے کی اجازت سیاستدانوں کو نہیں دی جا سکتی۔ اگر سیاستدان خود آئین کو روندنے کی کوششوں میں لگے رہیں گے تو ملکی استحکام کی خاطر اقتدار ان کے ہاتھ سے لے کر کسی ٹیکنوکریٹ حکومت کے ہاتھ میں جا سکتا ہے۔

آج تک جتنی دفعہ فوجی انقلابات آئے ہیں اس میں سیاستدانوں پر یہی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ آپس کی لڑائی میں ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ پارلیمانی نظام میں الیکشنز ہی وہ عمل ہے جس پر جمہوری حکومت کی عمارت تعمیر کی جاتی ہے۔ اگر آپ عوام کو اپنے نمائندے چننے کے لئے انتخابات کا پلیٹ فارم مہیا نہیں کریں گے تو پارلیمانی نظام کی عمارت منہدم ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

اقتدار اور سیاسی طاقت کسی بھی قیمت پر برقرار رکھنے کے لئے سیاستدان اگر آئین میں واضح طور پر موجود شقوں پر عملدرآمد نہیں کریں گے اور ان رولز کے مطابق سیاست کا کھیل نہیں کھیلیں گے اور آئین میں جو اصول و ضوابط وضع کیے گئے ہیں آئین کے ان اصولوں کو پامال کرنے کی ان کو اجازت دے دی گئی تو یہ سلسلہ پھر کہیں نہیں رکے گا۔ موجودہ حالات میں اگر ایک فریق ان اصولوں کو خاطر میں نہیں لا رہا اور آئین کو ایک مذاق بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ مثال آگے جا کر ملکی سیاست میں بہت زیادہ بgاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔

جمہوری پارٹیوں کا یہ طرز عمل بہت زیادہ افسوسناک ہے۔ اگر سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ہر صورت نوے دن کے اندر الیکشن کرانے کا حکم دے دیا ہے تو اب تمام جمہوری پارٹیوں کو اس کو خندہ پیشانی سے تسلیم کرنا چاہیے۔ اور انتخابات کی تیاری کرنی چاہیے۔ اگرچہ عمران خان اس وقت مقبولیت کی دوڑ میں سب سے آگے نظر آتے ہیں لیکن مسلم لیگ نون پنجاب کی ایک اہم طاقت ہے اور وہ ان صوبائی انتحابات میں کامیابی بھی حاصل کر سکتی ہے۔

مریم نواز کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ ناراض ووٹرز کو دوبارہ موبالائز کر سکتی ہیں۔ حال ہی میں جب سے وہ چیف آرگنائزر بنی ہیں پارٹی کے اندر سے کچھ مزاحمت کے باوجود ان کے عوامی دوروں سے مسلم لیگ کے کارکن متحرک ہوتے نظر آتے ہیں۔ شمالی اور وسطی پنجاب سے مسلم لیگ کو ہرانا اتنا آسان نہیں ہو گا اس طرح جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی بھی کئی سیٹیں جیت سکتی ہے اور تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔ اس لئے یہ انتخابات کسی بھی صورت یک طرفہ ثابت نہیں ہوں گے۔

مگر انتخابات سے مسلسل پہلو تہی مسلم لیگ نون کو کمزور کر رہی ہے اور یہ جماعت جتنا زیادہ وہ الیکشن سے بھاگے گی عوام میں اس کے متعلق ایک منفی پیغام جائے گا اور اس سے اس کی ساکھ کو زک پہنچے گی۔ نوے دن میں الیکشن شیڈول جاری نہ کرنے سے معاملہ پھر سپریم کورٹ میں جانا ہے جس سے ججز کو مختلف قوانین کے تحت کئی آئینی عہدوں پر براجمان سیاستدانوں کے خلاف بادل نخواستہ کارروائی کرنی پڑے گی جس سے ملک میں مزید ماحول ناخوشگوار ہو گا۔

اور یہ لڑائی صرف سیاسی جماعتوں کی نہیں رہے گی بلکہ ملکی اداروں کو بھی متنازعہ بنا کر رکھ دے گی۔ جس سے سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ معاشی بحران بھی بڑھتا چلا جائے گا جو کہ ریاست کے استحکام اور جمہوری نظام کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عوام جو مہنگائی کے ہاتھوں جان کنی کی حالت میں ہے دہشت گرد دن رات حملے کر رہے ہیں۔ ان گمبھیر مسائل کے حل کے لئے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔

اب سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سیاسی بحران کے حل کی طرف قدم اٹھانے چاہیں۔ الیکشن کمیشن کو فوری طور پر پنجاب اور سرحد میں الیکشن کروانے چاہئیں تمام ملکی ادارے صاف شفاف انتخابات کروانے کے لئے الیکشن کمیشن کی بات ماننے کے پابند ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ہر قسم کے وسائل اور مدد فراہم کرنی چاہیے۔ قومی اسمبلی کے لئے عام انتخابات بھی بہت نزدیک آ چکے ہیں۔ موجودہ سیاسی و معاشی بحران کا حل یہی ہو سکتا ہے کہ عوام کے منتخب نئے نمائندوں کے ہاتھ میں اقتدار دے کر ان کی صلاحیتوں کو بھی پرکھا جائے کہ ان کے پاس ایسی کون سی پالیسیاں ہیں کہ وہ ملک میں جاری مہنگائی اور گرتی ہوئی معیشت کو منزل کے پار لگا سکتے ہیں۔ سیاست دانوں کو ذاتی اقتدار کی بجائے ملک کا اس ملک کی عوام کا سوچنا چاہیے۔

 

Facebook Comments HS