مکتب عشق، محبت، وارفتگی، عشق اور جڑت کی کہانی ہے


سید شبیر احمد کا تعلق میاں محمد بخش کی جنم بھومی کھڑی سے ہی ہے۔ اکنامکس میں گریجویٹ ہیں اور پیشے کے لحاظ سے بینکر رہے لیکن شخصیت اور ذوق کے اعتبار سے وہ محقق، لکھاری، سماج سیوک اور دانشور ہیں۔

گرچہ راقم کی شاہ صاحب سے محض ایک ہی ملاقات ہے، لیکن اس اکلوتی ملاقات میں ہی بندہ ان کی وضع داری، متانت اور پہلو دار شخصیت سے بہت متاثر ہوا اور ان کی علمی و تحقیقی گفتگو سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ تب سے ہی یہ بندہ ان کی قلم کا قتیل اور ان کے علم کا اسیر ہے۔

مکتب عشق ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ہے۔ مکتب عشق، سید شبیر احمد کی محبت، وارفتگی، عشق اور جڑت کی کہانی ہے جو وہ اپنی دھرتی، اپنی بولی، اپنے رہتل اور اپنے وسیب سے کرتے ہیں۔ اس عشق میں وہ کیسے گرفتار ہوئے؟ اس بات کا جواب وہ خود اپنی کتاب کے انتساب میں یوں دیتے ہیں ”عارف کھڑی حضرت میاں محمد بخش رح کے نام جن کا کلام پڑھ اور سن کر میرے اندر پنجابی شاعری پڑھنے اور سمجھنے کی جوت جگی اور پنجابی صوفی شعرا پر ریسرچ کر کے لکھنے کا حوصلہ ملا۔

کتاب پنجاب کے کلاسیکی صوفی اور جدید شعرا کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے، صوفی رنگ اور پنجاب رنگ۔

صوفی رنگ میں، بابا فرید گنج شکر، شاہ حسین، سلطان باہو، بلھے شاہ، وارث شاہ، ہاشم شاہ، میاں محمد بخش اور خواجہ غلام فرید کے متعلق اور پنجاب رنگ میں قادر یار، جوگی جہلمی، پروفیسر موہن سنگھ، درشن سنگھ آوارہ، دائم اقبال دائم، استاد دامن، شریف کنجاہی، امرتا پریتم، احمد راہی، حزیں قادری، شو کمار بٹالوی، بری نظامی اور نصیر کوی کے متعلق مضامین شامل ہیں۔

شخصیات کے متعلق خامہ فرسائی کار آسان نہیں، غیر معروف شخصیات کے متعلق تعارفی مضامین لکھنا مشکل کام ہے لیکن ایسی شخصیات جن کے علم، سوچ اور تحریروں نے زمانے پر گہری چھاپ ڈال رکھی ہو اور جن پر پہلے بھی بہت سا کام ہو چکا ہے۔ ان کے بارے میں لکھنا اور ان کی زندگی کے نئے گوشے، نئے زاویے، جداگانہ اسلوب اور انداز میں قاری تک پیش کرنا، جس سے قاری کی دلچسپی بھی برقرار رہے اور اس کے مبلغ علم میں بھی اضافہ ہو، پہاڑ کاٹنے کے مترادف ہیں۔ مکتب عشق میں شامل مضامین کے مطالعے کے بعد میں تو کہ رہا ہوں اور جو بھی کتاب پڑھے گا، کہنے پر مجبور ہو گا کہ سید شبیر احمد شاہ، نہ صرف پہاڑ کاٹنے میں کامیاب ہوئے ہیں بلکہ پہاڑ کاٹ کر ایک ایسا راستہ بھی بنانے میں کامیاب ٹھہرے ہیں، جس پر تاریخ، ادب، تصوف اور کتاب بینی کے دلدادہ سفر کرنے کے بعد علم، معرفت اور کامیابی کی منزل پا سکیں گے۔

معروف دانشور اور قلم کار ڈاکٹر صغرا صدف، کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں لکھتی ہیں ”مکتب عشق“ سید شبیر احمد شاہ کی محبت اور عقیدت سے گندھی تحقیق ہے، جس میں انہوں نے پنجاب کے عظیم صوفیا اور شعرا کے حالات زندگی اور ان کے نمونہ کلام کو سامنے لانے کی نہایت عمدہ کوشش کی ہے۔ یہ مضامین کا مجموعہ نہیں، گلدستہ ہے کیوں کہ اس میں مختلف رنگوں، رتوں اور ذائقوں کے پھول جن کی خوشبو ذہنوں کو نئی تقویت بخشتی ہے۔

ڈاکٹر صغرا صدف نے کتاب میں پنجابی کے معروف گیت نگار اور فلمی مصنف حزیں قادری اور معروف شاعر بری نظامی کے متعلق مضامین پر بہت زیادہ تحسین کی ہے، کیونکہ بظاہر دونوں گیت نگاروں بہت شہرت اور نام کمایا لیکن ان کے متعلق کسی نے تحقیق کی کوئی خاص زحمت نہیں کی۔ سید شبیر احمد نے بڑی کوشش سے ان دونوں حضرات کے متعلق بھی مفصل جان کاری بیان کی ہے۔

سید شبیر احمد ریڈیو پر پروگرام بھی کرتے ہیں، اس لیے بھی وہ پنجابی گلوکاروں اور گیت نگاروں سے واقف ہیں۔ مسعود رانا کے بارے میں جب انہوں نے مضمون لکھا تو ان کے تحقیقی مزاج نے جانا کہ مسعود رانا نے جو اکثر مشہور اور سپر ہٹ گانے گائے ہیں، ان کے خالق کا نام حزیں قادری ہے۔

وہ حزیں قادری کے بارے میں متجسس ہوئے، انٹرنیٹ سے رجوع کیا، لائبریریز سے رابطہ کیا۔ ان کے بارے میں معلومات ملیں مگر ناکافی۔ یوں تشنگی بڑھتی گئی یہی جاننے کی پیاس انہیں، حزیں قادری کی صاحبزادی عاصمہ قادری تک لے گئی اور ہمیں ایک شاندار تحقیقی اور دستاویزی مضمون پڑھنے کا موقع ملا۔ اس مضمون کی قرات کے بعد میرے جیسا عام قاری بھی یہ علم رکھتا ہے، کہ حزیں قادری پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے فلمی دنیا کے بڑے پہلوان تھے۔ جنہوں نے تین ہزار کے قریب لازوال گیت تخلیق کیے، 151 پنجابی اور 5 اردو فلموں کی کہانیاں لکھیں۔ ان کے ابتدائی حالات زندگی، دینی تعلیم کا سفر، پھر ریڈیو سے فلم تک کا سفر اور کامیابیاں۔ اس مضمون سے ہمیں یہ خوش کن خبر بھی ملی کہ حزیں قادری کی صاحبزادی عاصمہ قادری ان پر کتاب بھی لکھ رہی ہیں۔

معروف شاعر بری نظامی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”پاکستان میں کاپی رائٹ نہ ہونے کی وجہ سے سرقہ بازی اور بغیر اجازت مختلف چیزوں کا استعمال بہت عام ہے۔ شاعروں کا کلام ان کی اجازت کے بغیر گا کر گلوکار شہرت کی بلندیوں کو چھو لیتے ہیں لیکن نغمہ نگار جو اپنے دل کے درد، احساسات اور خیالات کو نغموں کا روپ دیتے ہیں وہ اکثر اندھیروں میں گم رہتے ہیں۔ ایسے ہی ایک شاعر بری نظامی ہیں۔ نصرت فتح علی خان، عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی اور دوسرے گلوکار ان کا کلام گا کر بین الاقوامی طور پر مشہور گئے لیکن بری نظامی کا نام فیصل آباد تک محدود رہا۔

بری نظامی کی تو محض ایک مثال ہے وگرنہ یہاں ہر موقع پر تخلیق کار کا استحصال ہی ہوتا آیا ہے۔ بری نظامی کا تذکرہ پڑھ کر مجھے اردو، پنجابی اور سرائیکی کے مایہ ناز شاعر افضل عاجز یاد آئے، وہ زندہ سلامت ہیں، اب بھی گیت نگاری کر رہے ہیں، اپنی زندگی سے مطمئن ہیں بلکہ وسائل کی کمیابی، سخت حالات زندگی کے باوجود میں نے ہمیشہ ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی ہے، کبھی ان کے منہ سے کسی قسم کا شکوہ شکایت نہیں سنا، ان کے لکھے اور کمپوز کیے گیت گا کر عطاء اللہ عیسی خیلوی، شفاء اللہ روکھڑی مرحوم جیسے ارب پتی ہو گئے لیکن ان کے گھر میں اب بھی مٹی کے دیے سے ہی چراغاں ہوتا ہے۔

میں سید شبیر احمد شاہ سے گزارش کروں گا کہ وہ لازوال گیتوں کے خالق افضل عاجز اور ان جیسے باقی شعرا کو بھی اپنی تحقیق کا موضوع بنائیں تاکہ آنے والی نسل اور محققین کے لیے ان کا کام بطور معتبر دستاویز کے محفوظ ہو

Facebook Comments HS