پی ایس ایل اور سٹے بازی کی لاٹھی کا سہارا

پی ایس ایل کا میلہ پھر سے سج چکا ہے اور اب کی بار کچھ ‘خوانچہ فروش’ بھی خبر فروشوں کا روپ دھارے، اس میلے میں تماشائے اہلِ کرم دیکھتے پھرتے ہیں۔
جس ملک کی معیشت ڈیفالٹ کے دہانے پہ ہونے کا نقارہ پچھلے ڈیڑھ سال سے بجتا چلا آ رہا ہے، اب پی ایس ایل کے تشہیری مواد سے گمان ہوتا ہے کہ وہ معیشت آج کل اپنا باقی ماندہ کھیسہ بھی ان فقیروں کی محبت میں لٹانے پہ تیار ہے جو پی ایس ایل کی آڑ میں پاکستانی شائقینِ کرکٹ میں کرکٹ کو مزید فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جب بھی نجم سیٹھی چئیرمین کے عہدے پہ بھی براجمان ہوئے ہیں، کچھ بڑا ضرور ہو رہتا ہے۔ اپنے پچھلے عہد میں انہوں نے پی ایس ایل نامی ایک دیرینہ ‘مذاق’ کو حقیقت کا رنگ دے کر ایک نئے برانڈ کی بنیاد رکھی۔ ان کے پیشرو چئیرمین سالہا سال سے دفتری کاغذات میں میں ہی پی ایس ایل کھیلے چلے جا رہے تھے۔
نجم سیٹھی نے نہ صرف پی ایس ایل منعقد کروا کر دکھلائی بلکہ اسی پی ایس ایل کو پاکستان میں ہوم کرکٹ کی بحالی کے لئے سیڑھی بھی بنایا۔ لاہور میں پی ایس ایل کا پہلا فائنل ہی دراصل وہ دن تھا جب انٹرنیشنل کرکٹرز برسوں بعد پاکستانی سرزمین پہ اترے تھے۔
جس پی ایس ایل کی پاکستان واپسی کا آغاز نجم سیٹھی نے کیا تھا، آج وہ پی ایس ایل ایک توانا برانڈ بن چکی ہے اور کرِک انفو جیسے پلیٹ فارم بھی اکثر اسے آئی پی ایل کے بعد دوسری بہترین کرکٹ لیگ قرار دیتے ہیں۔ مالیاتی اعتبار سے کرک انفو کا یہ تجزیہ بالکل بجا ہے مگر کرکٹ کوالٹی کے لحاظ سے پی ایس ایل کہیں بھی آئی پی ایل سے کمتر نہیں ہے۔
اب سوال یہ جنم لیتا ہے کہ جب ایک برانڈ محض اپنی کرکٹ کوالٹی کے اعتبار سے ہی ممتاز ہونے کی صلاحیت سے معمور ہو تو کیا مارکیٹ میں مزید فروغ کے لئے اسے اپنے تشخص کی بھی قربانی دے دینا چاہئے؟ جب پی ایس ایل کو مقامی مارکیٹ میں بے شمار سپانسرز کی بہتات تھی، وہاں جانے کس نابغے نے اس منافع بخشی کو مہمیز کرنے کے لئے آن لائن بیٹنگ پلیٹ فارمز کو اس پاکستانی مارکیٹ کی راہ دکھلا دی جو پہلے ہی ڈالر کی بوند بوند کو ترس رہی ہے۔
عین ممکن ہے کہ ڈافا نیوز کی بے پناہ تشہیر کا واحد سبب پاکستانی شائقینِ کرکٹ کو فٹبال، ٹینس اور باسکٹ بال کی افادیت سے روشناس کروانا ہی ہو اور 1xBat کے ذریعے کائرن پولارڈ واقعی نوجوان بلے بازوں کو بلا پکڑنے کا صحیح طریقہ ہی سکھانا چاہ رہے ہوں مگر ایسی بھی کیا مصیبت آن پڑی تھی کہ ان آن لائن پلیٹ فارمز کی تشہیر سے پی سی بی کے کھیسے بھرنے کا فیصلہ کیا گیا جو درحقیقت ‘سروگیٹ ایڈورٹائزنگ’ surrogate advertising کے ذریعے اپنے اصل کاروبار کی ترویج میں منہمک ہیں۔
اگر یہ بات ڈافا نیوز تلک ہی محدود رہتی تو بھی شاید یوں فکر طلب نہ ہوتی، مگر جب ہر فرنچائز کی جرسی اسی سرشاری میں چُور نظر آئے گی تو پھر چہ میگوئیوں کو بھی گنجائش ملے گی۔ چہ میگوئیاں ہمیشہ بصری اظہاریوں پہ تکیہ کرتی ہیں، انہیں حقائق کی تشنگی نہیں ہوتی۔
کسی بھی برانڈ کی زندگی اس کے تشخص سے جڑی ہوتی ہے اور پی سی بی جن گہرے پانیوں میں ہاتھ ڈالنے کا خطرہ مول لے رہا ہے، کیا اس کی وہاں سے واپسی کا بھی کوئی دروازہ چھوڑا گیا ہے یا پھر اس کشتی کو بھی محض بادبان کے سہارے ہی لہروں کے حوالے کر دیا گیا ہے؟
جب عالمی شہرت یافتہ کیسینوز کی کوکھ سے جنم لینے والی کچھ ‘خبری’ ویب سائٹس اپنے حقیقی کاروبار کے فروغ کے لئے پلاٹینم سپانسرشپ اور ٹائٹینیم سپانسرشپ جیسے خطیر معاہدوں سے جڑی ہوں گی اور جرسیوں پہ دمکتے لوگوز کی ویب سائٹس عین اسی لمحے اسی گیند پہ شرطیں بھی بندھوا رہی ہو گی جب کھلاڑی انہی جرسیوں میں ملبوس کھیل رہے ہوں۔
طرہ یہ کہ کئی فرنچائز مالکان برسرِ عام ان ملٹی نیشنل ‘گیمنگ’ کمپنیوں کے ممنون نظر آتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان میں ‘کرکٹ’ کے فروغ کے لئے یہ زریں قدم اٹھایا اور پاکستانی کرکٹ مارکیٹ میں دیگر کھیلوں کی خبروں کی اہمیت پہ بھی زور دیا۔
اگرچہ پاکستانی فیصلہ ساز ادارے یہ تو کبھی طے نہیں کر پائیں گے کہ یہاں کرکٹ کے فروغ کو دو ورلڈ کپ اور دو ورلڈ چیمپئن ٹائٹلز کیوں ناکافی رہ گئے تھے مگر یہ جمع تفریق کر رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ایک مسلّمہ کرکٹ برانڈ کو اضافی طاقت کے انجکشن لگانے کی یہ خواہش ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو کتنے میں پڑے گی۔ کیونکہ بہرحال یہ آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز پاکستانی ٹیکس نیٹ میں کچھ ڈالے بغیر، بہت کچھ کھینچ لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
حالیہ پی ایس ایل ایڈیشن میں یہ ایک بڑی الجھن رہی ہے کہ اچانک ایک ہی رات میں بہت سے ایسے برانڈز پاکستانی مارکیٹ میں میلہ لوٹنے اتر آئے جو اس شام سے پہلے تک پاکستانی مارکیٹ میں کہیں موجود ہی نہیں تھے۔ اچانک ایک ساتھ ایسے ‘حملے’ پہ بھی کسی بھی معیشت کو چوکنا ہو جانا چاہئے مگر وطنِ عزیز میں راوی فی الوقت سب چین لکھ بیٹھا ہے اور پاکستانی معیشت کے ایک مضبوط ترین برانڈ کو کچھ عالمی ساہوکاروں کے اس کاروبار کی تشہیر میں جوت دیا گیا ہے جسے قانون پاکستان میں بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔
یہاں مسئلہ اخلاقی نہیں، اقتصادی ہے۔ اگر پاکستانی معیشت واقعی اپنا بچا کھچا دامن اس چار دن کے میلے پہ جھاڑنے کو تیار ہے تو پھر پاکستانی آن لائن صارفین کا سرمایہ بھلے ملائشیا کے قومی خزانے کو ٹیکس دینے والی کسی ملٹی نیشنل کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائے، بھلے وہ بالواسطہ بھارتی معیشت کی تقویت میں حصہ ڈالے، خواہ کسی برطانوی سٹے باز کمپنی کا ریونیو بن جائے یا چاہے تو سائپرس جیسے کسی دور پار یورپی ملک کی مارکیٹ میں گردش کرتا پھرے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اگرچہ کرکٹ اور سٹے بازی کے باہم تعلق کی ایک تلخ تاریخ رہی ہے اور اس تاریخ نے بالخصوص پاکستانی کرکٹ میں کئی سازشی نظریات کو بھی فروغ دیا ہے مگر پچھلے کچھ عرصے میں جس طرح پی سی بی نے میچ فکسنگ کے خلاف اپنی سریع الاثری کا ڈنکا بجایا تھا، پی ایس ایل کی حالیہ جرسیوں کو دیکھتے ہی وہ سریع الاثری ہوا ہونے کا گماں ہوتا ہے۔

