قائداعظم یونیورسٹی۔ سائیڈ بی
قائداعظم یونیورسٹی کا موازنہ پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی سے نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیمی اداروں کا مزاج اکثریت سے بنتا ہے۔ لمز ایک الگ دنیا ہے۔ غریب طلبا کو سکالرشپس دینے کے باوجود یہاں کا اکثریتی مزاج الیٹسٹ ہے۔ پنجاب یونیورسٹی اپنے سکیل جغرافیے اور بجٹ کے اعتبار سے ایک بڑا ادارہ ہے لیکن اس میں وہ لسانی ثقافتی اور صنفی تنوع نہیں جو قائداعظم یونیورسٹی کا خاصہ ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور ایف سی کالج بھلے ہی تاریخی اہمیت رکھتے ہوں لیکن یہ اپنی تاریخ کے بوجھ سے باہر نہیں آ پاتے۔
نسٹ اور جی کی بھی اپنے اعتبار سے منفرد ادارے ہیں لیکن یہاں کی تعلیم کا زیادہ رجحان سائنس اور انجینئرنگ کی طرف ہے۔ یونیورسٹی، یونیورسل سے ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں انسانی زندگی کے سارے علوم کو دیکھا جاتا ہے اور ان کی نوک پلک سنواری جاتی ہے۔
اگرچہ پاکستان میں تدریس اور تحقیق کو معیار بنا کر اعلیٰ تعلیمی اداروں کا تقابل کیا جائے تو شاید سارے ادارے ایک جیسے ہی ہوں۔ اور سائبر سپیس کی دنیا نے معلومات کی فراہمی کو عام کر کے اداروں کو حاصل برتری کو کسی حد تک بے معنی بھی بنا دیا ہے۔ چاہیں تو اپ اپنے گاؤں میں بیٹھ کر پانچ انچ کی سکرین پر نوم چومسکی کو سن لیں۔ لیکن پھر بھی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تقابل ہر جگہ ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے عالمی سطح پر متعین کردہ پیمانے موجود ہیں۔ ان میں تحقیق کا معیار اور مقدار، طلبا کے لیے سہولیات، ایمپلائمنٹ ریشو، طلبا اور اساتذہ کی تعداد میں تناسب جیسے فیکٹرز کو اہمیت حاصل ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی کو اگر انھیں اصولوں پر پرکھا جائے تو بھی اسے پاکستان کی جامعات میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ لیکن اس یونیورسٹی میں گئے تو ہمیں یہ سارے پیمانے بدلنے پڑے اور تعلیمی اداروں کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کام وقع ملا۔
پہلی بات تو یہ سمجھ میں آئی کے تعلیمی ادارے سماج سے کٹے ہوتے ہیں۔ اپ کسی بھی یونیورسٹی میں چلے جائیے وہاں دس فٹ اونچی دیوار ہوگی۔ اس کے اوپر خاردار تار ہوگی۔ اور اس کے اندر ایک دیوہیکل گیٹ۔ گیٹ پر کھڑے دربانوں کی ایک قطار۔ تعلیمی اداروں اور معاشرے کے درمیان ایک فصیل تو یہیں کھڑی ہو گئی۔ پھر یہ گلہ کیوں کے ہمارے تعلیمی ادارے معاشرتی حقائق سے لا علم ہیں۔ مارگلہ کی گود میں پھیلی یہ وادی نما یونیورسٹی اداروں کے اس جھوٹے احساس تفاخر پر ہنستی ہے۔
ٹیکسی والا، ریڑھی والا، آس پاس کے دیہاتوں کے بچے، بزرگ اور عورتیں سبھی آ سکتے ہیں۔ ہاسٹل فور کی مسجد کے باہر لگے پانی کے فلٹر سے پانی بھرتی مقامی عورتیں، کیمپس پر ٹیکسی چلانے والے ملپور اور رملی کے بھاپے، ہٹس پر چائے اور سگریٹ پیتے ملازم، بری امام سے آئے ملنگ اور خواجہ سرا اور کہیں سے ہارمونیم گود میں رکھ کر محبت دیس کے باسیوں کی سلو موشن میں چلتی فلم کو بیک گراوٴنڈ میوزک دینے والے خاں صاحب، سب کیمپس ہی کا حصہ محسوس ہوتے ہیں۔ یوں سمجھیے کہ مارکس کی کلاس لیس سوسائٹی کی جھلک آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ ہم نے یہاں ایسے طالب علم بھی دیکھے جو پنجگور سے آئے تو جیب میں بس ایک سمیسٹر کی فیس تھی اور دل میں یقین کہ وہ یہاں سے ڈگری لے کر ہی واپس جائیں گے۔ تعلیم کا ٹرانسفارمیٹو پوٹینشل کو عملی طور پر محسوس کرنے والے یہی طلبا ہیں۔
سو سب سے اہم چیز جو اس یونیورسٹی کو منفرد مقام دلاتی ہے وہ اس کا جغرافیہ ہے۔ ایک طرف مارگلہ کے پہاڑی سلسلے کی جڑوں تک پھیلا کیمپس ہے تو دوسری طرف وہ ڈھابے اور کھوکھے جنھیں دنیا ہٹس کے نام سے جانتی ہے۔ اور ان دو کو کاٹتی ایک دس سے پندرہ فٹ چوڑی سڑک کا۔ ہٹس دیکھنے میں تو تقریباً پانچ سو میٹر کی پٹی پر پھیلے دس سے پندرہ ڈھابے ہیں۔ لیکن اس کے اندر ایک دنیا ہے۔ مارکس اور اینگلز پر پشتو اور سرائیکی میں ہوتے ہوئے گرما گرم مباحثے، کہیں بلوچ طلبا اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق فینن اور گرامچی کے مطالب سلجھا رہے ہیں۔ کہیں سرگودھا کے جاگلی لہجے میں بھگت سنگھ اور دلے بھٹی کو پنجاب کے ہیروز منوانے پر بضد پنجابی طلبا گتھم گتھا ہیں۔ ایک پنجابی نے شنایا بروشسکی بولنے والی لڑکی کو پہلی بار یہیں دیکھا ہے۔ ایک سندھی نے پنجاب کی روح کے اندر جھانکنے کی چاشنی یہیں پائی ہو گی۔
پطرس کے مطابق لاہور کی سب سے اہم پیداوار یہاں کے طالب علم ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی کی سب سے اہم پیداوار یہاں کے وہ اولڈ بوائز ہیں جو جنھیں دنیا طالب علم ماننے کے لیے تیار نہیں مگر اپنا تعارف بدلنے نہیں دیتے۔ جی ہاں ہٹس پر جائیے تو ایسے طلبا کی خاصی تعداد نظر آئے گی جن کے بالوں میں سفیدی اتر آئی ہے۔ کوئی پی ایچ ڈی کے ریسرچ میں پھنسا ہے تو کوئی اس ڈر سے یونیورسٹی نہیں چھوڑ رہا کہ باہر کی دنیا بہت ظالم ہے۔ حتی کہ وہ لوگ جو اپنی زندگیوں میں کسی مقام پہ پہنچ گئے اگر شہر میں ہوں تو ویک اینڈ گزارنے یہیں آ جاتے ہیں۔
قائداعظم یونیورسٹی اس وقت ایک عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ دو مخالف لسانی شناختوں سے تعلق رکھنے والے طلبا کے درمیان ذرا سی مڈ بھیڑ جلد ہی دو لسانی گروہوں کی لڑائی میں بدل جاتی ہے۔ یہ لڑائیاں ہمیشہ سے ہوتی رہی ہیں۔ چند دن پہلے بھی یہی ہوا۔ اور وقتاً فوقتاً ان پر قابو پانے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ مگر اس بار یونیورسٹی انتظامیہ ایسے تمام مسائل کے لیے وہ حل لے کر آئی ہے جس پر تمام قائدینز کو تشویش ہے۔ یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ سب سے پہلا ہدف، ہٹس ہیں۔ کہ یہی وہ جگہ ہے جو یونیورسٹی اور سماج کے درمیان لائنز کو بلر کرتی آئی ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے ہزاروں طلبا کی امنگوں کا مرکز و محور ہے۔ اور اس مرکز کے بنیادوں میں ذرا سی تبدیلی لاکھوں دلوں کو مایوس کرے گی۔
رہے نام اللہ کا۔


