پاکستان میں انقلاب یا ریفارمز ؟


کیا پاکستان میں انقلاب ممکن ہے؟ پاکستان کو انقلاب کی ضرورت ہے یا اصلاحات کی۔ یہ سوالات برسوں سے موضوع بحث رہے ہیں۔

انقلاب کے لوازمات میں سے اہم ترین فیکٹر مخلص قیادت اور منظم تحریک کی ضرورت ہے اس طرز کی قیادت اور تحریک کو تاریخ نے روس میں ولادیمیر لینن کی قیادت میں دیکھا تھا اسی طرح چین میں ماؤ زی تنگ نے فرنٹ لائن قیادت فراہم کی تھی۔ اس طرح کی تحریک کے اثار پاکستان میں نظر نہیں آتے۔ ساتھ ساتھ میں انقلاب کی تحریک چلانے کے لیے قیادت کے مثبت ساکھ کا ہونا کڑی شرط ہے۔ جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو اور جس پر عوام کا اعتماد ہو۔

جبکہ پاکستان میں اس طرح کے رہنماؤں کا شدید فقدان ہے جہاں لیڈروں کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ جن کے انقلاب کے بارے میں جدا جدا خیالات اور تشریحات ہیں۔ مثلاً قوم پرستوں نے اپنے مفادات پر توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے، عمران خان کے انقلاب اور تبدیلی کا نعرہ مبہم اور غیر منطقی تھا، مذہبی جماعتیں مذہبی انقلاب کی بات کرتی ہیں، پیپلز پارٹی انقلاب کا نعرہ بدلتی رہی ہے، ایم کیو ایم کا انقلاب مہاجروں تک محدود ہے، جب کہ مسلم لیگ نے انقلاب کا نعرہ جنرل ضیاء کی اسلامائزیشن سے شروع کیا اور پھر انقلاب کو انتخابی نعروں تک محدود دیا۔ موجودہ وزیر اعظم شہناز شریف جب پنجاب کے وزیر اعلی تھے نے دسمبر 2011 میں تو یہاں تک کہا تھا کہ ملک میں خونی انقلاب برپا ہو گا۔ اس تمام منظر نامے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون کس کے خلاف بغاوت کرے؟

دوسری جانب ملک میں اگرچہ جمود نے اداروں، پارلیمنٹ اور ریاستی پالیسیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جس کے ذمہ دار ان اداروں میں موجود مخصوص طبقہ اور لیڈران ہیں جو کبھی بھی انقلاب کو نہیں آنے دے گا۔ کیونکہ اگر انقلاب آتا ہے تو یہ موجودہ سیاست، معاشی، جاگیرداری اور ادارہ جاتی شعبوں کی جمود کو چیلنج کر دے گا۔ بھلا یہ لوگ انقلاب کا حصہ کیوں بنیں گے؟ بلکہ ایسے ہر اس اقدام کو روکیں گے۔ جو انقلاب کے لیے راہ ہموار کرتی ہو۔

انقلاب کے لئے ایک اور لازمی شرط عوام کا تعلیم یافتہ اور باشعور ہونا ہیں جو کسی سماجی نظام یا حکومت کے خلاف اٹھ کر نظام کو چیلنج کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس چیز کی شدید کمی ہے جہاں تقریباً 55 فیصد آبادی خواندہ ہے ( یہاں خواندہ ہونے کی تعریف یہ ہے کہ وہ کچھ فقرے اردو میں لکھ اور پڑھ سکتے ہیں ) جبکہ دوسری جانب دانشور طبقے کی اکثریت کسی نہ کسی جماعت یا اداروں کے لیے کام کرتی نظر آتی ہے۔ اس طرح کے کی صورتحال میں انقلاب کا وقوع پذیر ہونا ناممکنات میں سے ہے۔

تاریخی طور پر بہت انقلاب اس وقت رونما ہوئے جب اس ملک میں غریب طبقے کی تعداد بڑھ رہی تھی اور غربت، بیروزگاری اور محرومی نے اسے دیوار سے لگا دیا گیا تھا۔ اگرچہ پاکستان میں غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ سخت معاشی صورتحال سے دوچار بھی ہیں جہاں مہنگائی اور بے روزگاری نے ان کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ انقلاب لانے سے قاصر ہیں اس میں اہم وجہ غریب عوام کی ان شخصیات اور لیڈروں کی اندھی تقلید کرنا ہے جس کا نظام پر مضبوط گرفت ہے۔ خواندگی اور شعور کی عدم موجودگی میں پاکستان کا غریب طبقہ پس تو رہا ہے لیکن اسی دوران وہ قیادت کی چربی زبانی پر یقین بھی رکھے ہوئے ہیں۔

کیا پاکستان میں فرانسیسی، ایرانی اور امریکی جیسا انقلاب ممکن ہے؟ اس حوالے سے منظرنامہ ایک بار پھر متاثر کن نہیں۔ ملک میں اگرچہ مذہبی فیکٹر اب بھی مضبوط ہے لیکن ریاست پر تھیوکریٹ کی حکمرانی نہیں ہے جیسا کہ فرانس انقلاب سے پہلے تھا۔ دوسری طرف پاکستان میں ایسے دانشوروں کی کمی ہے جو فرانسیسی دانشوروں کی طرح عوام کو انقلاب کی طرف ابھارنے کے لیے بنیاد فراہم کر سکے۔ مزید یہ کہ ایرانی اور امریکی انقلابات کی وجوہات موجودہ پاکستان کے زمینی حقائق سے مختلف تھے۔ اس لیے پاکستان میں فرانسیسی، ایرانی اور امریکی طرز کا انقلاب ناممکن ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایسی تحریکیں چلتی رہی ہے جو پالیسی سازوں اور یہاں تک کہ ملکی نظام کے خلاف بھی کھڑی ہوئی لیکن ہم نے ان مواقع کو ضائع کر کے اس سے حاصل کردہ نتائج کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ ہم نے ایوب خان کے خلاف تحریک چلائی لیکن اس کا نتیجہ نہ نکلا نہ ملک میں جمہوریت مضبوط ہو سکی نہ ادارتی یک جہتی نظر آئی۔ جس کی وجہ سے ملک دو بار پھر آمریت کی کشتی میں ڈوب گیا۔ اور موقع جو اصلاحات کے حوالے سے اہم تھا وہ وکلا کی 2008 کی تحریک تھی جو کہ اصلاحات کی جانب ایک قابل ستائش قدم ہو سکتی تھی لیکن ہم اسے ایک بہترین اصلاحی تحریک بنانے میں ناکام رہے۔

پاکستان کو فکری، جمہوری، ڈیجیٹل، صنعتی، زرعی، ادارہ جاتی، تعلیمی اور صحت کے میدانوں میں انقلاب اور اصلاحات کی ضرورت ہے جن کے لیے جمہوری ارتقاء کا ہونا اولین شرط ہے۔ اور ان تمام بیماروں کا واحد علاج معاشرے اور تمام اداروں میں اصلاحات کرنے میں ہیں۔

مستقبل قریب میں پاکستان میں انقلاب کا وقوع پذیر ہونا ناممکن ہے۔ اگرچہ ملک میں ایسی تحریکوں کی ابھرنے کے امکانات جو اصلاحات کا مطالبہ کرے۔ وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پاکستان میں مجموعی اور نتیجہ خیز اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیگانگی، اشرافیہ کی نظام پر مضبوط گرفت، لوگوں کی محرومی، اداروں میں موجود افراد کے درمیان ذاتی انا کی جنگ ریاست کے اتحاد کے لیے زہر ہیں۔ یہ چیزیں انقلاب کو بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ جن کو روکنا اشد ضروری۔ کیا ہمارے مقتدر حلقے اور پالیسی ساز ان خطرناک سگنلز پر توجہ دینے کی زحمت کر سکے گے؟ کیا وہ اس نکتے پر غور فرمائیں گے کہ پاکستان جیسے کثیر الجہتی معاشرے میں جو مختلف اقوام کا مسکن ہے وہاں پر اگر خدانخواستہ انقلاب جیسی صورتحال پیدا ہو جائے تو اس کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے؟

Facebook Comments HS