کہانی کی کہانی

یہ کہا جاتا ہے کہ الف لیلہ کی کہانیاں مشرق وسطیٰ میں جمع ہونے کے بعد ، ایرانی، مصری اور ترک زبانوں میں پہنچیں اور ان زبانوں کے قصہ گو اس میں اضافے کرتے رہے۔ بعد میں جب یہ کہانیاں ایک ہزار ایک راتوں پر پھیل گئیں تو اس نام ’الف لیلۃ و لیلۃ‘ یعنی ’ایک ہزار ایک راتیں‘ ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد کسی لکھنے والے نے ان کہانیوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ہر کہانی سے ہمیں ایک سبق ملتا ہے۔ اس کے علاوہ الفاظ کے ذریعہ اس دور کا خاکہ کھینچا جاتا ہے تاکہ اس دور کے رسم و رواج، عادات و اطوار، تاریخ و ثقافت اور دیگر چیزوں کے بارے میں معلومات ملے۔ کہانیاں صرف کتابوں کی زینت نہیں بلکہ ان کی انسانی زندگی میں بھی قدر و قیمت رہی ہے۔
کہتے ہیں کہ ارسطو نے بھی سکندر اعظم کو ایک کہانی سنائی تھی۔ ہمیں معلوم ہے کہ سکندر کے عظیم بننے اور کامیابی حاصل کرنے میں ان کے استاد ارسطو کی تعلیم کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ارسطو کی یہ کہانی حقیقت اور فسانے کے امتزاج سے بنی تھی۔ یہ ٹرائے کی جنگ کی کہانی تھی جس کا یونانی شاعر ہومر نے اپنی رزمیہ الیاڈ میں مفصل ذکر کیا ہے۔ ارسطو کی یہ کہانی انسانی جذبات کا نچوڑ ہے۔ اس میں عشق و محبت ہے، نفرت ہے، یہ رزم کی داستان بھی ہے اور بزم کی بھی۔ اس میں انسانوں کے کارناموں کا بیان بھی ہے اور ان کی ناکامیوں کا ماجرا بھی۔ سکندر نے اس سے یونانی بادشاہوں کی یک جہتی اور جنگی حکمت عملی سیکھی اور پھر دنیا پر فتح حاصل کی۔
ادب یا قصے کہانیوں کی دنیا میں انقلاب لانے کا سہرا عرب ممالک کو جاتا ہے جنھوں نے چین سے کاغذ بنانے کی تکنیک سیکھ کر اسے ایک بہت کامیاب کاروبار کے طور پر آگے بڑھایا۔ کاغذ کی ایجاد سے پہلے کہانیاں نسل در نسل زبانی ادب کے روپ میں پہنچ رہی تھی۔ جب انسان نے لکھنا شروع کیا تو اس نے اپنے خیالات درختوں کی چھالوں اور پتوں پر درج کرنے شروع کیے، پتھروں پر کندہ کیے۔ کاغذ کی دریافت کے بعد سارا منظر ہی بدل گیا اور عرب میں الف لیلہ کی کہانیاں اسی طرح یکجا کی گئیں۔ کاغذ کی ایجاد نے ادب کو تحفظ فراہم کیا اور اسے یکجا کرنے کا کام کیا۔ پرنٹنگ کی ایجاد اسے گھر گھر پہنچایا۔
جوں جوں ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی، لوگوں تک ادب تک رسائی بھی بڑھ گئی۔ اس میں تعلیم کی بڑھتی ہوئی سطح نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ زیادہ قارئین پیدا ہونے لگے تو زیادہ کہانیاں لکھنے والے بھی آنے لگے۔ آج مختلف قسم کی کہانیاں لکھنے اور پڑھنے والے موجود ہیں۔ آج ہم انٹرنیٹ دور میں رہ رہے ہیں۔ ایک کلک پر دنیا بھر کا ادب ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔
خواہ کوئی ہاتھ میں کتاب لیے پڑھتا نظر نہ آتا ہو لیکن سب کے پاس ایسے گیجٹس ہیں جس کے ذریعے جب چاہے پڑھ سن سکتا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈیجیٹل ورلڈ میں ہم ادب لکھنے کا ایک نئی آغاز کر رہے ہیں۔ زمانہ خواہ کتنا ہی کیوں نہ بدل گیا ہو، راجہ رانی تبدیل ہو گئے ہوں لیکن قصے کہانی کا دور جاری ہے اور کہانی کی حکومت ہمارے دلوں پر قائم ہے۔

